بہاولپور: 10 لاکھ کی مبینہ ڈیل، جعلی رجسٹری بنانے کی کوشش ناکام، محکمہ میں کھلبلی

بہاولپور(کرائم رپورٹر) بہاولپور کے سب رجسٹرار آفس میں مبینہ بے ضابطگیوں اور سرکاری ریکارڈ میں ممکنہ ردوبدل کے الزامات نے ایک بار پھر نظام رجسٹریشن پر سوالات کھڑے کر دیئے ہیں ۔ذرائع کے مطابق موضع بہاولپور ڈاکٹر عثمان غنی کی بائیں سائیڈ پر واقع 10 مرلے رقبہ کی مبینہ جعلی رجسٹری تیار کرنے کی کوشش کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جہاں ایوب اور یعقوب دہندگان نے 10 مرلے کا رقبہ وحید قریشی نامی شخص کو فروخت کرنے کیلیے سب رجسٹرار آفس تحصیل سٹی میں ڈگری شدہ رجسٹری تیار کروانے کے لیے متعدد پٹواری اور پرائیوٹ جعلی منشیوں سے رابطہ کیا جن کے ساتھ جعلی رجسٹری بنانے کے لیے مبینہ 10 لاکھ روپے کی ڈیلنگ طے ہوئی اس جعلی رجسٹری کے تیار ہونے کی خفیہ انفارمیشن جونہی روزنامہ قوم کو موصول ہوئی تو سب رجسٹرار آفس میں کھلبلی مچ گئی سب رجسٹرار آفس میں تعینات کلرک نوازش علی سے مؤقف لیا گیا جنہوں نے جعلی رجسٹری تیار کرنے اور مبینہ 10 لاکھ روپے کی ڈیلنگ کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ میں نے جعلی رجسٹری تیار کرنے کی مد میں کسی سے کسی قسم کی پیسوں کی کوئی ڈیلنگ نہ کی ہے میرے پاس عثمان پٹواری ایک رجسٹری لے کر آیا تھا کہ اسے تیار کر دیں میں نے پٹواری کو موقع دیکھنے کا کہا اور میں اپنے جعلی پرائیویٹ منشی کے ہمراہ موقع پر گیا تو مجھے منشی نے بتایا کہ یہ جگہ سرکاری ریکارڈ میں ٹیلی نہیں ہے میں نے فوری طور پر عثمان پٹواری کو کہا کہ اس جگہ کی اگر آصف پٹواری سے رپورٹ کروا کر آؤ تو ہی میں یہ رجسٹری تیار کروا سکتا ہوں وگرنہ یہ رجسٹری تیار نہیں ہو سکتی زرائع کا کہنا ہے کہ کلرک سے مؤقف لینے اور جعلی رجسٹری کی تیاری کے کارنامے منظرعام پر آنے کی وجہ سے سرکاری ریکارڈ میں ردوبدل فل حال ٹھپ کر دیئے گئے ہیں اور ڈیل کینسل کر دی گئی ہے ساتھ ہی اسی جعلی رجسٹری کو تیار کرنے کیلئے کہا گیا ہے کہ اب یہ رجسٹری 10 دن بعد بنا دی جائے گی پرائیویٹ منشی اور پٹواری کی دہندگان کو مبینہ یقین دہانی بہاولپور کے عوامی وسماجی حلقوں اور میڈیا برادری نے وزیر اعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب، کمشنر بہاولپور اور دیگر اعلیٰ حکام سے معاملے کی تحقیقات کرانے اور جعلی رجسٹری تیار کرنے مبینہ 10 لاکھ روپے کی مکمکا میں ملوث ذمہ دار عناصر کے خلاف فوری سخت کارروائی کا مطالبہ کر دیا ۔

شیئر کریں

:مزید خبریں