بہاولپور(کرائم رپورٹر)بہاولپور ریونیو نظام میں بڑے پیمانے پر کرپشن رجسٹریوں میں ردو بدل کے سنسنی خیز انکشافات سامنے آ گئے تحصیل سٹی میں کینٹونمنٹ فیس اور سرکاری شیڈول میں مبینہ ردوبدل کر کے رجسٹریاں منظور قومی خزانے کو روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں روپے کا چونا کمرشل اراضی رہائشی ریٹ پر رجسٹر ہونے کا الزام پٹواری رپورٹ کے بغیر انتقال منظور ADCR کے احکامات بھی کھو کھاتے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ تفصیل کے مطابق بہاولپور تحصیل سٹی میں کرپشن کے نت نئے کارنامے منظرعام پر بااثر لابی مال و مال سرکاری خزانے کنگال متعلقہ ادارے خاموش تماشائی؟ زرائع کے مطابق سب رجسٹرار ظہور احمد اعوان کی جانب سے انتقال نمبر 12083 کی منظوری کے بعد مبینہ بے ضابطگیوں کا معاملہ سامنے آیا ہے جس پر شفاف تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے ذرائع کے مطابق موضع ساہلاں کھاتہ نمبر 495 سالم کھاتہ 24 کنال میں سے 7 مرلے 34 فٹ کمرشل اراضی کی رجسٹری کی گئی دستاویزات کے مطابق فروخت کنندہ کا نام عبد المجید ولد فتح محمد قوم آرائیں جبکہ خریدار کا نام زیشان سید ولد سید احمد قوم مغل درج ہے معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ اراضی دیوان والی پلی امتیاز ٹاؤن رنگ روڈ کے قریب واقع ایک اہم کمرشل مقام پر موجود ہے تاہم رجسٹری کیلئے مبینہ طور پر دریا شیڈول کے تحت صرف 75 ہزار روپے فی مرلہ ریٹ لاگو کیا گیا جبکہ زرائع کا کہنا ہے کہ اس مقام کا کمرشل شیڈول ریٹ اس سے کئی گنا زیادہ بنتا ہے دستاویزات کے مطابق رجسٹری کی مد میں مجموعی طور پر 11 لاکھ 10 ہزار روپے سرکاری فیس جمع کروائی گئی تاہم شہری حلقوں کا الزام ہے کہ کم ریٹ پر رجسٹری کیے جانے کی وجہ سے قومی خزانے کو تقریباً 15 لاکھ روپے سے زائد کا نقصان پہنچا ہے بڑے تعجب کی بات یہ سامنے آئی ہے کہ اس رجسٹری کے لیے متعلقہ پٹواری کی رپورٹ بھی حاصل نہیں کی گئی حالانکہ ADCR کی جانب سے واضح ہدایات جاری کی گئی تھیں کہ پٹواری رپورٹ کے بغیر کوئی رجسٹری منظور نہ کی جائے ان احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئے تحصیل سٹی میں تعینات پرانے کھلاڑی کلرک نوازش علی نے مبینہ طور پر رجسٹری سب رجسٹرار ظہور احمد اعوان کے پاس بھجوائی جسے آنکھ بند کر کے منظور کر لیا گیا قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ معاملہ پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 رجسٹریشن ایکٹ 1908 پنجاب بورڈ آف ریونیو رولز اور انسداد بدعنوانی قوانین کی سنگین خلاف ورزی کے زمرے میں آ سکتا ہے قوائد کے مطابق تعمیر شدہ یا کمرشل اراضی کی رجسٹری کے وقت موقع ملاحظہ پٹواری رپورٹ اصل مارکیٹ ویلیو اور حکومتی شیڈول ریٹس کے مطابق فیسوں کا تعین لازمی ہوتا ہے جبکہ کسی بھی قسم کی غلط بیانی یا کم مالیت ظاہر کرنا قابل سزا جرم تصور کیا جاتا ہے اس خبر بارے میں کلرک نوازش علی سے مؤقف کے لیے رابطہ کیا گیا جنہوں نے کال اٹینڈ نہیں کی۔







