تازہ ترین

بہاولپور: مالی سال کے اختتام پر منظور رجسٹریاں مشکوک، لاکھوں روپے کا کرپشن گھوٹالہ

بہاولپور (ڈسٹرکٹ رپورٹر)مالی سال 2025-26 کے اختتامی ایام میں ضلع بہاولپور کی تحصیل سٹی اور صدر میں منظور ہونے والی متعدد رجسٹریوں کے ریکارڈ میں مبینہ بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ دستیاب سرکاری دستاویزات اور ریکارڈ کے مطابق مختلف مواضعات میں موقع ملاحظہ رپورٹس، کورڈ ایریا، کمرشل شیڈول، کنڈونیشن فیس، اسٹامپ ڈیوٹی، میونسپل کارپوریشن فیس اور نقشہ فیس کے تعین میں مبینہ طور پر قواعد کے برعکس اندراجات کیے گئےجس کے نتیجے میں قومی خزانے اور صوبائی حکومت کو لاکھوں روپے کے مالی نقصان کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔دستاویزات کے مطابق موضع ساہلاں، باقر پور، قادر بخش چنڑ، ڈیرہ عزت اور ہوت والا سمیت متعدد مواضعات میں بعض رجسٹریوں کے دوران کورڈ ایریا اصل رقبے سے کم ظاہر کیے گے، کنڈونیشن ایریا کی فیس سرکاری خزانے میں جمع کرائے بغیر رجسٹریاں منظور کی گی اور بعض کمرشل املاک کو رہائشی ظاہر کر کے کم شیڈول ریٹ لاگو کرنے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ اسی طرح بعض رجسٹریوں میں مین روڈ پر واقع جائیداد کو لنک روڈ ظاہر کر کے رجسٹری فیس اور دیگر سرکاری محصولات کم وصول کیے جانے کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق بعض ایسی رجسٹریاں بھی منظور ہوئیں جن میں لینڈ کمیشن سے متعلق پابندیوں اور حکم امتنائی جاری ہونے کے باوجود و دیگر قانونی تقاضوں کا مکمل جائزہ نہیں لیا گیا۔ اگر یہ بے ضابطگیاں درست ثابت ہوتی ہیں تو اس سے سرکاری محصولات کی وصولی متاثر ہونے کا امکان پیدا ہوتا ہے اور حکم امتناعی کی خلاف ورزی بھی شامل ہے۔ریونیو ریکارڈ کے مطابق بورڈ آف ریونیو پنجاب کی ڈیجیٹل رجسٹری پالیسی اور حالیہ انتظامی ہدایات کے تحت پٹواری حلقہ پر لازم ہے کہ وہ موقع ملاحظہ کے بعد حقیقی زمینی صورتحال، تعمیرات، کمرشل یا رہائشی حیثیت، کورڈ ایریا اور دیگر متعلقہ حقائق کی درست رپورٹ آن لائن فرد رجسٹری بیع میں درج کرے تاکہ سرکاری فیس اور ڈیوٹیز قانون کے مطابق وصول کی جا سکیں۔ اسی طرح Punjab Urban Immovable Property Tax اور Punjab Stamp Act کے تحت بھی جائیداد کی صحیح نوعیت اور مالیت کی بنیاد پر محصولات کی وصولی قانونی تقاضا ہے۔دستاویزی ریکارڈ میں ایک مثال موضع ڈیرہ عزت کی بھی سامنے آئی ہے جہاں پٹواری شہزاد اسلم کے خلاف مبینہ طور پر تعمیر شدہ مکان کو خالی پلاٹ ظاہر کرنے کے معاملے پر محکمانہ کارروائی شروع کی گئی۔ اسی طرح موضع ساہلاں میں پٹواری محمد آصف کے حوالے سے بھی یہ الزام سامنے آیا کہ ایک رجسٹری میں کمرشل رقبے پر کم شیڈول لاگو کیا گیا جبکہ دوسری رجسٹری میں مین روڈ کی جائیداد کو لنک روڈ ظاہر کر کے کم فیس وصول کی گئی۔ ان معاملات کی حقیقت کا تعین متعلقہ محکمانہ تحقیقات سے ہوگا۔ریونیو ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ نظام میں رجسٹریوں کے بعد پٹواریوں کی موقع ملاحظہ رپورٹس کا باقاعدہ پوسٹ آڈٹ یا فرانزک آڈٹ نہ ہونے کی وجہ سے اگر کہیں غلط اندراجات ہوں تو ان کی بروقت نشاندہی نہیں ہو پاتی۔ ان کے مطابق مالی سال کے اختتام پر منظور ہونے والی رجسٹریوں کا مرحلہ وار آڈٹ، جی آئی ایس، سیٹلائٹ امیجری اور فیلڈ ویری فکیشن کے ذریعے کیا جائے تو سرکاری محصولات کے تحفظ کو مزید مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔شہریوں اور متعلقہ حلقوں نے ممبر بورڈ آف ریونیو پنجاب، سیکرٹری ریونیو، کمشنر بہاولپور، ڈپٹی کمشنر بہاولپور اور اے ڈی سی (ریونیو) بہاولپور سے مطالبہ کیا ہے کہ مالی سال 2025-26 کے آخری مہینوں میں منظور ہونے والی تمام رجسٹریوں کا خصوصی آڈٹ کرایا جائے، ہر موقع ملاحظہ رپورٹ کا ازسرنو جائزہ لیا جائے، جہاں سرکاری محصولات میں کمی یا قواعد کی خلاف ورزی ثابت ہو وہاں قانون کے مطابق ریکوری اور محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے، جبکہ آئندہ کے لیے رجسٹریوں کی دو یا چھ ماہ بعد لازمی آڈٹ جانچ کا مستقل نظام بھی متعارف کرایا جائے تاکہ قومی خزانے کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں