بہاولپور لینڈ کمیشن اراضی میں مبینہ بے ضابطگیاں، سٹے کے باوجودفردجاری

بہاولپور (ڈسٹرکٹ رپورٹر)جنوبی پنجاب کے اہم ضلع بہاولپور میں لینڈ کمیشن کی اراضی سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں کا ایک نیا معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں دستیاب سرکاری ریکارڈ اور متعلقہ دستاویزات کے مطابق موضع آغا پور ہوت والا اور میں حکمِ امتناعی کے باوجود مختلف اوقات میں فردات جاری کی گی رجسٹریوں کے مراحل میں ریکارڈ میں تبدیلیاں کرنے اور موقع ملاحظہ رپورٹس مرتب کیے جانے پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔دستاویزات کے مطابق حلقہ پٹواری شہزاد اسلم اور اراضی ریکارڈ سینٹر کے بعض اہلکاروں کے کردار پر اعتراضات سامنے آئے ہیں۔ ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض معاملات میں پہلے حکمِ امتناعی درج کیا گیا، بعد ازاں اسے ختم کرکے فرد جاری کی گئی، پھر رجسٹری اور ویری فکیشن کے مراحل میں دوبارہ حکمِ امتناعی کے اندراج اور اخراج کا سلسلہ جاری رہا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس تمام عمل کے دوران مبینہ طور پر بھاری رقوم وصول کی گئیں۔ذرائع کے مطابق موضع ہوت والا کے کھاتہ نمبر 69/34، رقبہ 72 کنال سمیت لینڈ کمیشن کی دیگر اراضی کی بھی فردات جاری کی گئیں۔ متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ بعض کیسز میں حکمِ امتناعی کے باوجود انتقالات اور فردات کا اجرا قانونی تقاضوں کے برعکس کیا گیا، جس سے ارازی ریکارڈ سینٹر میں حکم امتنای کی اڑ میں سائلین سے لوٹ مار کی گئیریکارڈ کے مطابق بعض معاملات میں موقع ملاحظہ رپورٹس بھی تیار کی گئیں، جن میں جائیداد کی نوعیت اور ملکیت سے متعلق اندراجات کیے گئے۔ شہریوں کا مؤقف ہے کہ اگر حکمِ امتناعی نافذ تھا تو فردات کے اجرا، رجسٹری کے مراحل اور موقع ملاحظہ رپورٹس کی قانونی حیثیت کی مکمل جانچ ضروری ہے۔قانونی ماہرین کے مطابق اگر کسی اراضی پر مجاز اتھارٹی یا عدالت کی جانب سے حکمِ امتناعی نافذ ہو تو اس کے باوجود ریکارڈ میں تبدیلی یا فرد کا اجرا پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ 1967، پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی ایکٹ 2017، رجسٹریشن ایکٹ 1908 اور متعلقہ ریونیو قواعد کی خلاف ورزی کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ اگر کسی سرکاری ریکارڈ میں دانستہ ردوبدل یا جعل سازی ثابت ہو جائے تو پاکستان پینل کوڈ کی متعلقہ دفعات کے تحت بھی قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔متاثرین نے ڈپٹی کمشنر بہاولپور سے مطالبہ کیا ہے کہ لینڈ کمیشن کی اراضی سے متعلق گزشتہ چند برسوں کے دوران جاری ہونے والی تمام فردات، رجسٹریوں، موقع ملاحظہ رپورٹس اور حکمِ امتناعی کے اندراج و اخراج کا خصوصی آڈٹ کرایا جائے۔ ساتھ ہی فرانزک ریکارڈ چیک کرکے یہ معلوم کیا جائے کہ کن افسران اور اہلکاروں نے کس تاریخ کو اراضی ریگارڈ سینٹر سے فرداد جاری کی اور پٹواری حلقہ نے موقع کے مطابق رپورٹس کیشہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، ممبر بورڈ آف ریونیو پنجاب، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، سیکرٹری ریونیو پنجاب اور ڈائریکٹر جنرل پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ اس پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ دار عناصر کے خلاف محکمانہ و قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے، اور اگر سرکاری خزانے یا لینڈ کمیشن کی اراضی کو نقصان پہنچانے کے شواہد ملیں تو ریکوری کے ساتھ سخت سزا بھی دی جائے۔واضح رہے کہ اس معاملے پر متعلقہ پٹواری، اراضی ریکارڈ سینٹر اور ضلعی ریونیو حکام کا مؤقف سامنے نا اسکا ممبر بورڈ اف ریونیو سیکٹری ریونیو کمشنر بہاولپور ڈویژن بہاولپور ڈی سی بہاولپور سوری طور پر دنائی میں جاری شدہ فردات کا اڈٹ کرائیں اور ملوث اہلکاروں اور ریونیو ڈیپارٹمنٹ سے منسلک اہلکاران کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے یاد رہے اس سے قبل بھی پٹواری حلقہ شہزاد اسلم نے موزہ ڈیرا عزت کی ایک رجسٹری میں جس پر مکان تعمیر شدہ تھا خالی پلاٹ ظاہر کر کے فیسوں کی مد میں تقریبا ڈھائی لاکھ روپے دانستہ طور پر نقصان پہنچایا تھا جس کی انکوائری بھی زیر سماعت ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں