ملتان ( قوم ریسرچ سیل) سی سی ڈی بہاولپور کے میاں زاہد نامی اے ایس آئی میں تین کانسٹیبلز اور ڈرائیور عمران کی ملی بھگت سے بہاولپور میں آن لائن بزنس کرنے والے محمد عرفان ولد عبدالباری نامی نوجوان کو اس کے رہائشی علاقے میں پرچون کی دکان کرنے والے اپنے ایک ٹاؤٹ عرفان محمود ولد اللہ رکھا کے ذریعے بلا کر ایک ویران علاقے میں کھڑے ڈالے میں ہتھکڑی لگا کر بٹھا لیا اور منہ پر کپڑا چڑھا دیا۔ تشدد کیا اور اسے کہا کہ وہ ناجائز کاروبار کرتا ہے لہذا فوری طور پر ایک کروڑ روپیہ دے ورنہ اس کا کسی مقدمے میں چالان کرکے انکاؤنٹر کر دیا جائے گا۔ بہاولپور پولیس کہ تھانہ سول لائنز میں مقدمہ نمبر 895 مورخہ 28 جولائی 2026 درج کرکے سی سی ڈی کے ملازمین کی بجائے چار بے گناہ سویلینز کے ملتے جلتے نام لکھ کر ایف آئی آر چاک کر دی اور اپنے پیٹی بند بھائیوں کو مکھن سے بال کی طرح بچا لیا۔ سی سی ڈی کے ملازمین کے اس گروہ کے پاس اس نوجوان کے بارے مکمل معلومات تھیں مگر جب محمد عرفان نے اپنا اے ٹی ایم کوڈ بتا کر کارڈ ان کے حوالے کیا تو اے ٹی ایم میں صرف ایک لاکھ 80 ہزار روپیہ پڑا تھا جو انہوں نے نکلوا لیا اور پھر اسے دوبارہ تشدد کا نشانہ بنایا جس پر محمد عرفان نے اپنی اہلیہ سے دو لاکھ روپے ٹرانسفر کروا کر انہیں ادا کئے۔ اس طرح سی سی ڈی بہاولپور کے اے ایس آئی میاں زاہد اور اس کے کانسٹیبل ساتھیوں نواز ثقلین و دیگر نے 2 لاکھ 80 ہزار روپے وصول کرنے کے بعد محمد عرفان پر دوبارہ تشدد شروع کر دیا اور اسے دو ٹوک الفاظ میں بتایا کہ اس کی جان کم سے کم 70 لاکھ روپے میں چھوٹے گی اور اسے ڈالے میں باندھ کر بہاولپور شہر کے مختلف علاقوں میں پھرتے رہے۔ اس دوران میاں زاہد نے کانسٹیبلز کو حکم دیا کہ اسے بائی پاس پر جنگل میں لے جاؤ اور اس کے کپڑے اتار اسے برہنہ کر دو جس پر محمد عرفان نے اپنے دوست سے سات ہزار ڈالر جو کہ پاکستانی کرنسی میں تقریبا 20 لاکھ روپے سے زائد رقم بنتی ہے، بنینس (Banance) کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کروائے اور اس سے زبردستی ایک بیان ریکارڈ کروایا گیا جس میں اس نے تسلیم کیا کہ میں نے احمد کے 20 لاکھ روپے دینے تھے اور میں ڈیڑھ سال سے چھپا ہوا تھا اس کے سامنے نہیں آ رہا تھا اور میں اس کی رقم واپس کر رہا ہوں اور اپنا کھاتہ کلیئر کر رہا ہوں تو موبائل پر ویڈیو بیان ریکارڈ کرنے کے بعد اسے دھمکی دے کر کہ اگر اس نے کسی سے بات کی تو اس کے گھر والوں کو اس کی لاش بھی نہیں ملے گی۔ بعد ازاں اسے رات گئے گھر کے قریب اتار دیا۔ بتایا گیا ہے کہ جس ثقلین کا نام ایف آئی ار میں درج کیا گیا ہے وہ ایک ریٹائرڈ سب انسپیکٹر کا بیٹا ہے اور اس کا بھائی حسنین ڈولفن پولیس میں ملازم ہے۔ ذرائع کے مطابق پولیس محمد عرفان کو اس کے پیسے واپس کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے اور اسے مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ کسی قسم کی کاروائی سے پرہیز کرے۔ تمام صورتحال کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ بہاولپور میں تعینات سی سی ڈی کے ڈسٹرکٹ افیسر عرفان اکبر تمام تر الزامات کی سچائی جاننے کے باوجود ان کریمنل سی سی ڈی اہلکاروں کا تحفظ کر رہے ہیں اور دوسری طرف انہوں نے اس مقدمے کے مدعی محمد عرفان کو پیشکش کی ہے کہ اسے 10 لاکھ روپیہ دلوا دیتے ہیں آپ کاروائی نہ کرو اور لکھ دو کہ میں نے سب کچھ غلط فہمی میں کیا۔







