جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس پاکستان کا حلف اٹھا لیا-جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس پاکستان کا حلف اٹھا لیا-امریکا ایران مذاکرات کے مثبت اثرات، عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی-امریکا ایران مذاکرات کے مثبت اثرات، عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی-ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی، منجمد اثاثوں کی بحالی اور ناکہ بندی ختم ہونے کا دعویٰ: عباس عراقچی-ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی، منجمد اثاثوں کی بحالی اور ناکہ بندی ختم ہونے کا دعویٰ: عباس عراقچی-بجٹ میں عوام کو کوئی حقیقی ریلیف نہیں ملا، سودی نظام کا بوجھ مزید بڑھ گیا: حافظ نعیم الرحمن-بجٹ میں عوام کو کوئی حقیقی ریلیف نہیں ملا، سودی نظام کا بوجھ مزید بڑھ گیا: حافظ نعیم الرحمن-نجی کمپنیوں کیلئے گندم ٹارگٹ ناکام، جبری خریداری، پکڑ دھکڑ، جنوبی پنجاب میں صورتحال ابتر-نجی کمپنیوں کیلئے گندم ٹارگٹ ناکام، جبری خریداری، پکڑ دھکڑ، جنوبی پنجاب میں صورتحال ابتر

تازہ ترین

بہاولپور رجسٹری برانچ میں مبینہ کرپشن، کلرک ملوث، فیسوں میں ہیر پھیر

بہاولپور(مرزا ندیم سے) حکومت پنجاب کی جانب سے جائیدادوں کی خرید و فروخت کے عمل میں شفافیت اور ریونیو میں اضافے کے لیے جدید اصلاحات اور گرین سرٹیفکیٹ کارڈ جیسے اقدامات متعارف کروائے جانے کے باوجود جنوبی پنجاب کی دوسری بڑی رجسٹری برانچ بہاولپور کے کلیریکل سٹاف نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور فیسوں میں ہیر پھیر کےانکشافات ذرائع کے مطابق مختلف مواضعات میں ہونے والی رجسٹریوں میں سرکاری فیسوں، ایف بی آر چالانز اور دیگر واجبات کے حوالے سے مبینہ طور پر لاکھوں روپے کی بے ضابطگیوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جس کے باعث قومی خزانے کو نقصان پہنچنے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ موضع حمایتی کی رجسٹری نمبر 00120260004950، موضع کرنا کی رجسٹری نمبر 00120260004951، موضع قادر بخش چنڑ کی رجسٹری نمبر 00120260004953، موضع 9 بی سی کی رجسٹری نمبر 00120260004957، موضع گوٹھ باجن کی رجسٹری نمبر 00120260004989، موضع حمایتی کی رجسٹری نمبر 00120260004176، موضع ماڈل ٹاؤن کی رجسٹری نمبر 00120260004178، موضع بانگا کی رجسٹری نمبر 00120260005013، موضع غنی پور کی رجسٹری نمبر 00120260004711، موضع 8 بی سی کی رجسٹری نمبر 00120260005020 اور موضع حمایتی کی رجسٹری نمبر 00120260005022 سمیت متعدد رجسٹریاں جانچ پڑتال کی متقاضی ہیں جن میں مبینہ طور پر فیسوں اور دیگر قانونی تقاضوں کے حوالے سے سنگین الزامات ہیں رجسٹری برانچ نے فیلڈ سٹاف کی جانب سے عدم رپورٹ کے باوجود رجسٹریوں کا عمل جاری ہے اورمبینہ طور پر وثیقہ نویسوں کے ساتھ مل کر فائلوں کی پراسیسنگ میں اثر و رسوخ استعمال کر رہے ہیں۔ الزام ہے کہ بعض کیسز میں سرکاری واجبات اور ٹیکسوں کی مد میں وصول ہونے والی رقم کے تعین میں مبینہ طور پر ہیر پھیر کر کے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے جبکہ متعلقہ افراد غیر معمولی مالی فوائد حاصل کر رہے ہیں۔شہری اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ رجسٹری برانچ میں ایک مخصوص کلرک کا اثر و رسوخ اس قدر بڑھ چکا ہے کہ بیشتر امور اسی کے ذریعے انجام پاتے ہیں۔ حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا پورے ضلع میں رجسٹری برانچ کے معاملات چلانے کے لیے ایک ہی شخص ناگزیر ہے؟ ان کا کہنا ہے کہ اگر صرف ماہ جون 2026 کے دوران ہونے والی رجسٹریوں کا غیر جانبدارانہ آڈٹ اور جانچ کر لی جائے تو ایف بی آر فیسوں، سرکاری واجبات اور دیگر مدات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے کئی نئے پہلو سامنے آ سکتے ہیں۔ جب کسی کم فیس پر منظور ہونے والی رجسٹری کا ریکارڈ سامنے آنے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے تو متعلقہ فائلوں میں بعد ازاں فیسوں کی کمی پوری کروانے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ ممکنہ تحقیقات سے بچا جا سکے۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر ان الزامات میں صداقت موجود ہے تو یہ معاملہ نہ صرف قومی خزانے کے نقصان بلکہ رجسٹری نظام کی ساکھ اور شفافیت کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔سماجی، قانونی اور شہری حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب، بورڈ آف ریونیو، ڈپٹی کمشنر بہاولپور، ایف بی آر اور اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ مذکورہ رجسٹریوں اور متعلقہ ریکارڈ کا جامع فرانزک آڈٹ کرایا جائے، فیسوں اور ٹیکسوں کی وصولی کا تفصیلی جائزہ لیا جائے اور الزامات ثابت ہونے کی صورت میں ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ رجسٹری برانچ میں شفافیت اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جا سکے موقف لینے پر رجسٹری برانچ کے کلرک نوازش نے کہا کہ تمام رجسٹریوں میں فیسیں پوری ہیں، الزامات بے بنیاد ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں