چشتیاں ( نمائندہ خصوصی) بہاولنگر گندم سکینڈل، فوڈ انسپکٹر وسیم طلحہ برطرف، سمگلنگ، کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال ثابت، محکمہ خوراک کا بڑا ایکشن، فلور ملز اور آڑھتیوں سے گٹھ جوڑ بے نقاب، سرکاری پالیسی کو نقصان پہنچانے کا اعتراف محکمہ خوراک بہاولپور ڈویژن نے گندم کی غیر قانونی خرید و فروخت، سمگلنگ اور کرپشن میں ملوث فوڈ گرینز انسپکٹر وسیم طلحہ کو ملازمت سے برطرف کر دیا ہےڈپٹی ڈائریکٹر فوڈ بہاولپور امان اللہ سومرو کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ حکم نامے میں افسر کو سنگین الزامات ثابت ہونے پر فوری طور پر سروس سے ڈسمس کر دیا گیاسرکاری دستاویز کے مطابق وسیم طلحہ کو چشتیاں، منچن آباد اور بہاولنگر میں غیر قانونی ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی اور گندم کو سرکاری خریداری مراکز تک منتقل کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی، تاہم انہوں نے اس ذمہ داری کا غلط استعمال کرتے ہوئے ضبط شدہ گندم کو سرکاری پالیسی کے برعکس مقامی فلور ملز کو زائد نرخوں پر فروخت کیا اور ذاتی مالی فائدہ حاصل کیاتحقیقات میں یہ بھی ثابت ہوا کہ ملزم افسر نے پہلے گوداموں کو سیل کیا اور بعد ازاں ذخیرہ اندوزوں کے ساتھ مبینہ سازباز کر کے انہیں گندم فروخت کرنے کی اجازت دی۔ اس عمل میں وہ باقاعدہ مالی فوائد حاصل کرتا رہا۔ دستاویز کے مطابق میزان فلور ملز چشتیاں سمیت دیگر ملز کو گندم فروخت کی گئی، جسے بعد ازاں دیگر ڈویژنز خصوصاً راولپنڈی منتقل کیا گیا، جو محکمہ خوراک کی پالیسی کی کھلی خلاف ورزی ہےحکم نامے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مذکورہ افسر نے مقامی فلور ملز مالکان، گندم تاجروں اور آڑھتیوں کے ساتھ گٹھ جوڑ قائم کر رکھا تھا اور گندم کی غیر قانونی ترسیل اور سمگلنگ میں فعال کردار ادا کرتا رہا۔ اس کے خلاف متعدد شکایات بھی موصول ہوئیں جن میں کرپشن، غیر قانونی سہولت کاری اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی نشاندہی کی گئی مزید برآں، انکوائری کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ افسر نے خالی گوداموں کو سیل کر کے حقائق چھپانے کی کوشش کی جبکہ گندم پہلے ہی نکال کر دیگر اضلاع میں فروخت کی جا چکی تھی۔ اس طرح اس نے نہ صرف محکمانہ احکامات بلکہ حکومت کی اینٹی ہورڈنگ مہم اور فوڈ سیکیورٹی پالیسی کو بھی نقصان پہنچایاحکم نامے کے مطابق ملزم افسر کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا، جس کے جواب میں وہ الزامات کا تسلی بخش دفاع پیش کرنے میں ناکام رہا۔ ذاتی سماعت کے دوران بھی اس کے مؤقف کو ناکافی قرار دیا گیا جبکہ دستیاب ریکارڈ، شواہد اور گواہیوں کی بنیاد پر اس کے خلاف الزامات ثابت ہو گئے۔ڈپٹی ڈائریکٹر فوڈ امان اللہ سومرو نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ مذکورہ افسر نااہلی، بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا مرتکب پایا گیا ہے، جس پر پنجاب ایمپلائز ایفیشنسی، ڈسپلن اینڈ اکاؤنٹیبلیٹی ایکٹ 2006 کے تحت اسے فوری طور پر ملازمت سے برطرف کیا جاتا ہےذرائع کے مطابق یہ کارروائی حکومت کی جانب سے گندم کی غیر قانونی ذخیرہ اندوزی اور سمگلنگ کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کا حصہ ہے، اور آئندہ بھی ایسے عناصر کے خلاف سخت اقدامات جاری رہیں گےعوامی و سماجی حلقوں نے اس کارروائی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس اسکینڈل میں ملوث دیگر افراد، فلور ملز اور سہولت کاروں کے خلاف بھی بلاامتیاز کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔







