ملتان (سٹاف رپورٹر) بھارت کی طرف سے دریائے چناب پر ٹنل بنا کر پاکستان کو ملنے والے پانی کا رخ موڑنے کے منصوبے کے لیے ٹینڈر بھی جاری ہو چکے ہیں اور تمام تر سروے مکمل کر لیے گئے ہیں جبکہ حکومت پاکستان محض زبانی جمع خرچ اور بیان بازی پر وقت ضائع کر رہی ہے۔ حکومت پاکستان کی طرف سے سندھ طاس معاہدہ جسے بھارت نے یک طرفہ طور پر معطل کر رکھا ہے، تاحال کوئی ٹھوس لائحہ عمل سامنے نہیں آیا حتیٰ کہ ایک سال گزرنے کے باوجود حکومت پاکستان ابھی تک پاکستان کی طرف سے سندھ طاس ٹریٹی کے سربراہ کا تقرر نہیں کر سکی اور یہ اہم ترین پوسٹ خالی پڑی ہے۔ دوسری طرف وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کابیان سامنے آیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ شہ رگ ہے اور اس کا ہر قیمت پر تحفظ کریں گے جبکہ عسکری ذرائع سے بھی یہ بیان سامنے آیا ہے کہ پاکستانی پانی کو محفوظ بنانے کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھایا جائے گا۔ عالمی قوانین کے مطابق سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے پاکستان یا بھارت دونوں فریقین میں سے کوئی بھی پانی کے بہاؤ میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کرے گا تو وہ دوسرے ملک کو مطلع کرے گا یعنی اسے معاہدے کے تحت پاکستان کو اطلاع دینا ہوگی اور پاکستان تین ماہ کے اندر اندر اس کا جواب دے گا جبکہ اگر پاکستان تین ماہ کے اندر اندر اس کا جواب نہیں دیتا اور اپنے تحفظات سے تحریری طور پر بھارت کو آگاہ نہیں کرتا تو پھر پاکستان کسی بھی فورم پر اس مقدمے کو نہیں لے کر جا سکتا کیونکہ معاہدے کی شق کے مطابق تین ماہ کے اندر اندر پاکستان کو اعتراضات تحریری طور پر اٹھانا ہوتے ہیں اور اگر وہ تین ماہ گزر جائیں تو اس سے یہ مراد لیا جاتا ہے کہ پاکستان کو بھارت کے آبی بہاؤ کے حوالے سے کسی بھی تبدیلی سے پاکستان کو کوئی فرق نہیں پڑتا ۔تین ماہ گزرنے کے بعد پاکستان کسی عالمی عدالت کا دروازہ نہیں کھٹکھٹاسکتا۔ حکومت پاکستان کی عدم دلچسپی کی اس سے بڑھ کر اور کیا مثال ہوگی کہ اس عالمی سطح کےسندھ طاس معاہدے کے پاکستانی چیپٹر کے لیے کسی سربراہ کا تعین کرنے میں حکومت پاکستان نے ایک سال لگا دیا۔ توجہ طلب امر یہ ہے کہ حکومت کی طرف سے ابھی تک کوئی خط وکتابت یا اعتراض منظر عام پر لایا نہیں گیا جبکہ پاکستان کا پرنٹ اور سوشل میڈیا گزشتہ ایک ماہ سے اس پر شور مچا رہا ہے۔ حکومت کی طرف سے محض بیان بازی تو سامنے آ رہی ہے مگر ابھی تک عملی اقدامات کیا اٹھائے گئے ہیں اس پر مکمل خاموشی ہے۔







