بلاول! کشمیر کو کشمور نہ سمجھنا: نواز شریف، پہلے بتائیں ووٹ کو عزت کب دینی؟ شرجیل میمن-بلاول! کشمیر کو کشمور نہ سمجھنا: نواز شریف، پہلے بتائیں ووٹ کو عزت کب دینی؟ شرجیل میمن-فوڈ پوائزن یا واٹر پوائزن؟ حاصل پور میں ایک گلی کے تین بچوں کی پراسرار موت، 3 متاثر-فوڈ پوائزن یا واٹر پوائزن؟ حاصل پور میں ایک گلی کے تین بچوں کی پراسرار موت، 3 متاثر-بلوچستان میں بی ایل اے دہشتگردی، بھتہ خوری تیز،عوام خوفزدہ، انسانی حقوق کے دعویدار خاموش-بلوچستان میں بی ایل اے دہشتگردی، بھتہ خوری تیز،عوام خوفزدہ، انسانی حقوق کے دعویدار خاموش-آن لائن بزنس کے نام پر پاکستانیوں سے اربوں کا فراڈ، ملتان کا شہری 31 کروڑسے محروم-آن لائن بزنس کے نام پر پاکستانیوں سے اربوں کا فراڈ، ملتان کا شہری 31 کروڑسے محروم-عید بونس ملا نہ تنخواہیں، ایچ آر کا رویہ بھی نا قابل برداشت، سُتھرا پنجاب ورکرز کا احتجاج-عید بونس ملا نہ تنخواہیں، ایچ آر کا رویہ بھی نا قابل برداشت، سُتھرا پنجاب ورکرز کا احتجاج

تازہ ترین

بلوچستان میں بی ایل اے دہشتگردی، بھتہ خوری تیز،عوام خوفزدہ، انسانی حقوق کے دعویدار خاموش

ملتان (قوم ریسرچ رپورٹ ) بلوچستان میں انسانی حقوق اور ’’قومی حقوق‘‘کے دلکش نعروں کی آڑ میں کام کرنے والے ادارے ہمیشہ سے کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی دہشتگردی پر خاموش ہونے کے ساتھ ساتھ حکومت، سرکاری ، نیم سرکاری اور فلاحی اداروں کو بھی نشانے پر رکھ لیتے ہیں۔ بلوچستان کے عام عوام جو کہ اب خود ان دہشتگردوں کے شر سے محفوظ نہیں رہے پھر بھی ان کی مذمت کرنے سے خوف زدہ ہیں ۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران رونما ہونے والے دہشت گردی کے واقعات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اس تنظيم کا مقصد بلوچستان کی ترقی یا آزادی نہیںبلکہ عام شہریوں کی جیبوں پر ڈاکہ، بھتہ خوری اور غریب بلوچ کا معاشی استحصال ہے۔ آزادی کے نام پر چوری اور لوٹ مار کی یہ دکان اب اس نہج پر پہنچ چکی ہےجہاں دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر میں کوئی فرق باقی نہیں رہا۔گزشتہ تین سے چار ہفتوں میں بی ایل اے کے شرپسندوں نے صوبے کے مختلف علاقوں سے 4 سرکاری و نجی ایمبولینسز چھین لی ہیں اور ان میں سوار مریضوں کو اتار دیا گیا ۔ان میں مستونگ میں مرک (1122) اور پنجگور میں ایک مقامی فلاحی ادارے کی ایمبولینس شامل ہے۔ مریضوں کی جان بچانے والی گاڑیوں کو چھین لینا ان کی بوکھلاہٹ اور درندگی کا واضح ثبوت ہے۔ دو روز قبل قلات ڈسٹرکٹ میں عام مسافروں کی 8 ویگنوں کو روک کر مسافروں سے لوٹ مار کی گئی اور ویگنز بھی دہشت گرد ساتھ لے گئے جس سے عام مسافر رل گئے اور ٹرانسپورٹرز کی روزی روٹی چھین لی گئی۔ گڈز ٹرانسپورٹ بھی اب ان شرپسندوں کے نشانے پر ہے، سندھ بلوچستان قومی شاہراہوں پر واقع ہوٹلوں پر رات کو آنے والے یہ شرپسند خاموشی سے مال بردار ٹرکوں اغوا کر کے لے جاتے ہیں اور ان کا سارا سامان اور راشن خالی کردیتے ہیں اور پھر خالی گاڑی واپس چھوڑ جاتے ہیں۔مقامی کاروبار اور باغبانوں سے بھتہ وصولی کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے،کسی کا پھلوں کا باغ ہو یا کوئی چھوٹا دکاندار، بی ایل اے کے لوگ ہر شخص سے بھتہ مانگ رہے ہیں۔ بھتہ نہ دینے کی صورت میں گاڑیوں اور کاروبار کو آگ لگا دی جاتی ہے۔ان ظالمانہ اقدامات کا سب سے بڑا نقصان نہ ریاست کو ہوا ہے، نہ دیگر صوبوں کو، بلکہ اس کا براہِ راست شکار بلوچستان کا عام شہری بن رہا ہے۔خوف و ہراس کے باعث لوگوں نے بلوچستان میں بڑی گاڑیوں کا استعمال چھوڑ دیا ہے جنہیں یہ بی ایل اے کے دہشتگرد اپنا اثاثہ سمجھ کے چھین لیتے ہیں۔ دوسری طرف گڈز ٹرانسپورٹ کے بائیکاٹ کی وجہ اشیائے خوردونوش کی رسد شدید متاثر ہو رہی ہے، ٹرانسپورٹ کی بندش اور بھتہ خوری کی وجہ سے صوبے میں کاروبار مکمل طور پر جمود کا شکار ہو چکا ہے جس کی وجہ سے عام بلوچ اب روٹی کے نوالے کو ترستے نظر آ رہے ہیں۔جنوبی پنجاب سے آنے والے غریب مزدوروں کی ٹارگٹ کلنگ کے بعد جب محنت کشوں نے بلوچستان جانا کم کر دیا تو اب ان دہشت گردوں نے اپنے ہی لوکل بلوچوں کو بسوں سے اتار کر اور گاڑیوں پر فائرنگ کر کے مارنا شروع کر دیا ہے جسکی واضح مثال پچھلے دنوں مستونگ کے علاقے کھڈکوچہ میں مسافر بسوں پر فائرنگ سے 2 خواتین سمیت 8 افراد جاں بحق اور 7 زخمی ہوئے ۔بلوچستان کی موجودہ تلخ اور دردناک حقیقت یہ ہے کہ اس وقت ریاست اور عوام کی زندگیوں کو مفلوج کرنے کا عمل عروج پر ہے، ایمبولینسز، مسافر وینز، غریب مزدوروں، باغبانوں اور ٹرک ڈرائیوروں کو لوٹا اور جلایا جارہا ہے ان حالات کو ’’آزادی کی جنگ‘‘کہنے کے بجائے بلوچ دشمنی کہنا زیادہ مناسب ہوگا کیونکہ یہ سب مظلوموں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ یہ محض دہشت گردی اور بھتہ خوری کا ایک خوفناک کھیل نظر آرہا ہے جس کا سب سے بڑا شکار خود عام اور غریب بلوچ ہو رہا ہے۔موجودہ حالات میں دانشوروں، طلباء اور سول سوسائٹی کی خوف زدہ خاموشی بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ سب سے بڑا المیہ اور دکھ کی بات یہ ہے کہ اسلام آباد، لاہور اور پنجاب کی مختلف یونیورسٹیوں میں بیٹھے ہوئے بلوچ طلبا، ہیومن رائٹس کے لبادے میں چھپے مبصرین اور مقامی سیاسی قیادت جو دن رات ’’مسنگ پرسنز‘‘کا ڈرامہ رچاتی ہے،انہوں نے آج تک بی ایل اے کے اس ڈاکو راج کی علانیہ مذمت تک نہیں کی اور جب ریاست امن قائم کرنے کے لیے ان دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرتی ہے تو یہ نام نہاد خیر خواہ فوری طور پر مظاہرے شروع کر دیتے ہیں۔لیکن جب یہ بی ایل اے کے لوگ ایک غریب بلوچ کی ایمبولینس چھینتے ہیں، ڈرائیور کو قتل کرتے ہیں اور عوام کا راشن لوٹتے ہیںتو ان کی زبانوں پر تالے گ جاتے ہیں؟کیا اپنے ہی بلوچ بھائیوں کا معاشی قتل عام ان کو نظر نہیں آتا؟ واقفان حال کا کہنا ہے کہ سچائی یہ ہے کہ مسنگ پرسنز کے نام پر ہمدردیاں سمیٹنے والے ان میں سے اکثر افراد حقیقت میں انہی دہشت گردوں کے سیاسی اور پراپیگنڈا ونگ کے لیے کام کر رہے ہیں۔موجودہ حالات میں غلط کو غلط کہنے کی ہمت دکھانی ہوگی، اگر یہ لوگ دہشت گردوں کی لوٹ مار اور قتل و غارت پر خاموش ہیں تو انہیں ریاست کے قانونی ایکشن پر بھی واویلا مچانے کا کوئی حق نہیں ہے۔پولیس، فوج اور سکیورٹی ادارے صوبے میں امن کی بحالی اور عوام کے تحفظ کے لیے کوشاں ہیں۔ لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ بلوچستان کی غیور عوام، باشعور نوجوان، سول سوسائٹی اور سیاسی رہنما خود آگے بڑھیں، دہشت گردوں کا بائیکاٹ کریں۔جو لوگ مقامی اور دیگر شہریوں سے آنے والوں کا راشن لوٹ رہے ہیں، بھتہ مانگ رہے ہیں اور ایمبولینسز چوری کر رہے ہیں وہ بلوچوں کے ہیرو نہیں بلکہ ان کے وجود کے دشمن ہیں۔ ان حالات میں اصلیت پہچاننے کی اشد ضرورت ہے ، یہ آزادی کی جنگ اب چند مفاد پرستوں کی اپنی جیبیں اور پیٹ بھرنے کی جنگ ہےجب تک عام بلوچ اور ان کی قیادت ان دہشت گردوں کے خلاف کھلم کھلا آواز نہیں اٹھائے گی تب تک صوبے میں حقیقی ترقّی اور امن کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔ ملک کی سیاسی قیادت اور سٹیٹ کو یہ عزم کرنا ہوگا کہ بلوچستان پاکستان کا دل ہےاور ریاست اپنے اس دل کو چند بھتہ خوروں اور چوروں کے رحم و کرم پر ہرگز نہیں چھوڑے گی لیکن اس کے لیے عام عوام کو بھی اپنی آواز ان دہشتگردوں کے خلاف بلند کرنا ہوگی ۔

شیئر کریں

:مزید خبریں