بدنام زمانہ جنسی مجرم ایپسٹین کا تعلق موساد کی اعلیٰ سطح انٹیلی جنس سے تھا، جے ڈی وینس کا دعویٰ

واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک حالیہ پوڈکاسٹ انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے اسرائیلی انٹیلی جنس ادارے موساد کی اعلیٰ سطح سے روابط تھے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق معروف پوڈکاسٹر جو روگن سے تقریباً تین گھنٹے طویل گفتگو کے دوران جے ڈی وینس نے کہا کہ اسرائیل امریکا میں رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ خطے میں اپنی پالیسیوں، خصوصاً جنگ سے متعلق مؤقف کو برقرار رکھا جا سکے۔
انہوں نے امریکا اور اسرائیل کے تعلقات کا ازسرِنو جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں امریکا کو ایران کے ساتھ جنگ میں دھکیلنے کا تاثر درست نہیں، تاہم اسرائیل کی جانب سے امریکی رائے عامہ پر اثرانداز ہونے کی کوششوں پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔
جے ڈی وینس نے مزید دعویٰ کیا کہ جیفری ایپسٹین کا “واضح طور پر اسرائیلی انٹیلی جنس کی اعلیٰ ترین سطح سے تعلق تھا”، تاہم انہوں نے اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بعض اسرائیلی عناصر امریکا میں مالی وسائل کے ذریعے ایک مؤثر مہم چلا رہے ہیں، جس کا مقصد عوامی رائے پر اثر ڈالنا، ایران سے مذاکرات کو کمزور کرنا اور خطے میں جاری کشیدگی کو برقرار رکھنا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں