تہران: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایران کے خلاف امریکا کی جانب سے نئی پابندیاں عائد کیے جانے کے ممکنہ فیصلے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ پیر کو متوقع نئی امریکی پابندیوں کا پیکیج کوئی نئی حکمت عملی نہیں بلکہ ’وہی فلم دوبارہ چلانے‘ کے مترادف ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف اختیار کی جانے والی دباؤ کی پالیسی سابق امریکی حکومتوں کی حکمت عملی سے مختلف نہیں۔
انہوں نے ممکنہ نئی پابندیوں کو ایران پر دباؤ بڑھانے کی اسی پالیسی کا تسلسل قرار دیا جو گزشتہ امریکی انتظامیہ کے ادوار میں بھی جاری رہی ہے۔
عباس عراقچی کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ تہران امریکا کی جانب سے ممکنہ مزید اقتصادی پابندیوں کو نئی پالیسی کے بجائے ماضی کی حکمت عملی کا تسلسل سمجھتا ہے۔
دوسری جانب اگر امریکا نئی پابندیوں کا اعلان کرتا ہے تو ایران اور امریکا کے درمیان پہلے سے جاری کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
Iran’s Foreign Minister Abbas Araghchi said the new US sanctions package, likely to be unveiled Monday, is like watching the ‘same movie playing over and over again’.
— Al Jazeera English (@AJEnglish) August 24, 2026
He added that the ‘bullying’ under Trump is no different from that under previous US administrations. pic.twitter.com/gXjNoGqZIE







