ایک سو ایک سالہ سالہ سلائی مشین اور ہجرت

ایک نہتی لڑکی سے (آخری قسط)

محض ایک گندی مچھلی نے پی ٹی وی ملتان کے صاف ستھرے تالاب کو پلید کیا ہوا ہے۔ ویسے بھی دنیا میں برے غلیظ اور آلودہ لوگ تو کم ہوتے ہیں مگر ایسوں کے سہولت کار بہت زیادہ ہوتے ہیں جن کی وجہ سے معاشرہ آلودگی کا شکار ہے اور سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہی ہے کہ ایسے آلودہ اور ناپاک سوچ کے حامل لوگ بھی انہی اعلیٰ ترین نبی کے پیروکار کہلاتے ہیں جو اپنی غیر مسلم رضاعی ماں دائی حلیمہ کے آنے پر بھی سفید چادر بچھا کر عزت کے ساتھ بٹھایا کرتے تھے اور جب آپؐ کے پاس آپ کی بیٹی بھی تشریف لاتیں تو کھڑے ہو کر استقبال کرتے حتیٰ کہ ان کے پاس کوئی کافر عورت بھی آتی تھی تو اس کے احترام میں بھی کوئی کسر اٹھا نہ رکھتے۔ جی ہاں، وہی اعلیٰ ترین پیغمبر نبی آخر الزمان جنہوں نے عرب جیسے معاشرے میں جہاں بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیا جاتا تھا، بیٹی کو تحفظ اور عورت کو عزت اور جائیداد میں حصے سے نوازا۔ پھر یہ بھی تو کہا جاتا ہے کہ بیٹیاں تو اللہ تعالی کی دین ہوتی ہے مگر بیٹے مانگ کر لیے جاتے ہیں۔ اللہ کی پسند اور حکمت تو انسانی خواہشات سے کروڑوں درجے بہتر ہوتی ہے۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے عظیم ترین پیغمبر کی امت احسن تقویم سے اسفلا سافلین تک کیوں اور کیسے پہنچ جاتی ہے جو اپنے گھر میں عورتوں کے ہونے کے باوجود دوسری عورتوں کو دیکھ کر فقرے کستے، تھوکتے اور الزام تراشیاں کرتے ہیں، شلواریں اتارنے کی بات کرتے ہیں۔ معلوم نہیں کہ ایسے لوگ غلاظت کی انتہا سمیٹ کر معاشرے میں رہ کیسے لیتے ہیں۔ شاید تربیت میں کوئی کسر رہ جاتی ہے یا شاید ایسے لوگوں کی مائوں کی گودیں انہیں پالتے ہوئے دودھ اور رت کی بجائے زہر سے ان کی آبیاری کرتی ہیں۔
ہمارے دین اسلام میں معاف کرنے کا تصور موجود ہے اور معافی کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہت پسند کیا ہے مگر معاف کرنے اور دوبارہ موقع دینے میں زمین آسمان کا فرق ہے بلکہ اسلام میں تو سرعام سخت ترین سزاؤں کا تصور ہے۔
میرے سامنے ایک معافی نامہ پڑا ہے اور اس معافی نامے کے بعد معافی مانگنے والے نے اس سے بھی بڑھ کر کئی گھنائونے اور مکروہ کام ’’سرانجام‘‘دیئے ہیں۔ مجھے اس کا نام لکھتے ہوئے گھن آتی ہے کہ نام تو عزت داروں کے ہوتے ہیں اس لیے میں اس معافی نامے سے نام حذف کر رہا ہوں۔۔
میں مسمی ۔۔۔۔۔۔۔ ولد ۔۔۔۔۔۔۔ (مرحوم) قوم گجر پی ٹی وی میں بطور ۔۔۔۔۔۔۔۔ تعینات ہوں۔ میں نے مورخہ 2023-03-23 اور 2023-03-24 کو دفتر میں اور دفتر کے باہر اے پی ایم صاحب کے ساتھ جو جھگڑا اور زیادتی کی اس پر شرمندہ ہوں اور معافی کا طلبگار ہوں۔ میں اس بات کی بھی یقین دہانی کرواتا ہوں کہ میں آئندہ ادارے کے کسی آفیسر یا ساتھی کے ساتھ کسی قسم کا جھگڑا نہیں کروں گا بلکہ کسی بھی اختلاف کی صورت میں قانونی راستہ اپنانے کا حق استعمال کروں گا۔ مجھے یقین ہے کہ اے پی ایم صاحب اس بار میری غلطی کو معاف کر دیں گے۔ آئندہ میں کسی صورت قانون کو ہاتھ میں نہ لوں گا جس سے ادارے یا کسی آفیسر کی تضحیک ہو۔ اگر میرے اس فعل سے ادارے کی کوئی بدنامی ہوئی ہے تو میں اپنے ادارے سے بھی معافی کا طلبگار ہوں
اس معافی کے ملنے کے بعد موصوف نے اپنی سابقہ حرکات سے کہیں بڑھ کر جس قسم کی غلاظت بکھیری ہے اس کا تصور بھی محال ہے۔
حرام خوروں کا ایک پسندیدہ جملہ کچھ اس طرح سے ہے ’’نوٹوں پر کہاں حرام حلال لکھا ہوا ہوتا ہے نوٹ تو نوٹ ہی ہوتا ہے‘‘ہمارے ایک دوست نے اس میں تھوڑی ہی ترمیم کی ہے اور’’نوٹ کی جگہ پر ووٹ لکھ رکھا ہے‘‘۔ رہی ہمارے معاشرے کی صورتحال تو یہاں جب حرام نوٹ اور حرام ووٹ میں’’برکت‘‘بہت ہی زیادہ ہو تو پھر بدقماشوں کے سہولت کار کیوں کر پشت پناہی سے پرہیز کریں۔
کسی شاعر نے اس صورتحال کو اس طرح بیان کیا ہے۔
جب حشر کا دن آئے گا
اس روز دیکھا جائے گا
پینے کو پینے دے مجھے
جینے کو جینے دے مجھے

شیئر کریں

:مزید خبریں