ملتان ( سٹاف رپورٹر) ایمرسن یونیورسٹی ملتان میں مبینہ طور پر قانونی تقاضوں کو نظرانداز کرتے ہوئے لمپ سمپ پیکیج پر مختلف اسامیوں پر تعیناتیوں کے معاملے نے نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ نے پہلے ایسے انتظامی نوٹیفکیشن کے اجرا کی راہ ہموار کی جس کے بارے میں سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا یونیورسٹی کے نافذ العمل ایکٹ اور سٹیچوٹس میں اس نوعیت کی تعیناتیوں کی قانونی گنجائش موجود بھی ہے یا نہیں جبکہ اب اسی بنیاد پر اخبارات میں بھرتیوں کا اشتہار بھی جاری کر دیا گیا ہے۔مبینہ طور پر جاری کردہ اشتہار میں سپورٹس سپروائزر، ٹریکٹر ڈرائیور، بس ڈرائیور اور ڈرائیور سمیت مختلف اسامیوں پر لمپ سمپ پیکیج کے تحت تعیناتیوں کا اعلان کیا گیا ہے۔ تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر یونیورسٹی کے ایکٹ اور سٹیچوٹس میں لمپ سمپ پیکیج پر تقرری کا کوئی واضح قانونی اختیار موجود نہیں تو محض سنڈیکیٹ کی منظوری یا انتظامی نوٹیفکیشن کے ذریعے ایک نیا سروس سٹرکچر نافذ کرنا قانونی طور پر قابلِ سوال اقدام بنتا ہے۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر مجوزہ طریقہ کار یونیورسٹی کے منظور شدہ سٹیچوٹس میں پہلے سے موجود نہیں تھا تو کیا سٹیچوٹس میں ایسی بنیادی تبدیلی کے لیے متعلقہ قانونی طریقہ کاربشمول چانسلر اور دیگر مجاز اتھارٹیز کی منظوری مکمل کی گئی؟ اس معاملے میں حکومت پنجاب کے اعلیٰ حکام سے شفاف انکوائری کا مطالبہ سامنے آ رہا ہے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ آیا سنڈیکیٹ نے اپنے دائرۂ اختیار میں رہتے ہوئے فیصلہ کیا یا کسی ایسے اختیار کو استعمال کیا جو قانوناً کسی دوسری مجاز اتھارٹی سے متعلق ہے۔ معاملے کا ایک اور حیران کن پہلو یہ ہے کہ مبینہ طور پر پروفیسر اور ایسوسی ایٹ پروفیسر سطح کی اسامیوں کے لیے بھی کنٹریکٹ بنیادوں پر تقرریوں کا راستہ اختیار کیا گیا ہے۔ تعلیمی حلقوں کے مطابق اعلیٰ تعلیمی عہدوں کے لیے طویل تدریسی، تحقیقی اور انتظامی تجربہ رکھنے والے امیدواروں کو ایسی شرائط پیش کرنا خود ایک سنجیدہ پالیسی سوال ہے۔ بالخصوص یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کوئی ایسا شخص جو پہلے ہی کسی یونیورسٹی میں باقاعدہ پروفیسر یا ایسوسی ایٹ پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دے رہا ہووہ غیر یقینی یا محدود مدت کی کنٹریکٹ ملازمت کے لیے کیوں درخواست دے گا؟ماہرین تعلیم کے مطابق یونیورسٹیوں میں فیکلٹی کی تقرریاں محض روزگار فراہم کرنے کا معاملہ نہیں بلکہ تعلیمی معیار، تحقیق، سروس سکیورٹی اور ادارہ جاتی تسلسل سے براہِ راست جڑی ہوتی ہیں۔ اس لیے پروفیسر اور ایسوسی ایٹ پروفیسر جیسے عہدوں کے لیے تقرری کا طریقہ کار واضح، شفاف اور متعلقہ قانون و سٹیچوٹس کے عین مطابق ہونا ضروری ہے۔ اگر کسی نئی نوعیت کی تقرری کا نظام متعارف کرانا مقصود ہو تو اسے محض انتظامی نوٹیفکیشن کے ذریعے نافذ کرنے کے بجائے باقاعدہ قانونی طریقہ کار سے گزارنا لازم قرار دیا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ایک متنازع قانونی بنیاد پر پہلے نوٹیفکیشن اور بعد ازاں اخباری اشتہار جاری ہونے سے یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ انتظامیہ نے قانونی اعتراضات دور ہونے سے قبل ہی اس نظام کو عملی شکل دینے کی کوشش شروع کر دی ہے۔ تعلیمی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب، ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ، گورنر پنجاب بحیثیت چانسلر اور وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات بحیثیت پرو چانسلر سے مطالبہ کیا ہے کہ ایمرسن یونیورسٹی ملتان کے مذکورہ نوٹیفکیشن اور حالیہ بھرتی اشتہار کا فوری قانونی و انتظامی آڈٹ کرایا جائے۔ یہ بھی دیکھا جائے کہ آیا سنڈیکیٹ کو مذکورہ فیصلے کی منظوری دینے کا اختیار حاصل تھا، آیا سٹیچوٹس میں مطلوبہ ترمیم قانونی طریقہ کار کے مطابق ہوئی اور کیا اخباری اشتہار جاری کرنے سے قبل تمام لازمی منظوریوں کا حصول مکمل کیا گیا تھا۔ اگر انکوائری میں یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ یونیورسٹی کے سٹیچوٹس میں لمپ سمپ پیکیج کی کوئی گنجائش موجود نہیں تھی اور اس کے باوجود اس بنیاد پر تقرریوں کا عمل شروع کیا گیا تو ذمہ دار افسران اور متعلقہ فورم کے کردار کا بھی تعین کیا جانا چاہیے۔ بصورت دیگر مستقبل میں کسی بھی یونیورسٹی کا کوئی انتظامی فورم اپنی مرضی سے سروس رولز اور سٹیچوٹس کی روح تبدیل کرنے کی مثال قائم کر سکتا ہےجو اعلیٰ تعلیم کے پورے نظام کے لیے ایک خطرناک نظیر ثابت ہو سکتی ہے۔اب گیند حکومت پنجاب اور چانسلر ایمرسن یونیورسٹی کے کورٹ میں ہے کہ وہ محض کاغذی کارروائی پر اکتفا کرنے کے بجائے اصل ریکارڈ طلب کر کے یہ فیصلہ کریں کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے بھرتیوں کا اشتہار جاری کیا یا پہلے اختیار استعمال کیا اور بعد میں اس کے لیے قانونی جواز تلاش کرنے کی کوشش کی۔







