ویسٹ مینجمنٹ کرپشن: قوم سچ ثابت، گرفتار افسران کو ریلیف کوشش عدالت میں ناکام

ملتان (خصوصی رپورٹر) روزنامہ’’قوم‘‘کی خبر درست ثابت، ویسٹ مینجمنٹ کرپشن کیس میں گرفتار افسران کو ریلیف دینے کی کوشش سامنے آگئی، اینٹی کرپشن نے عدالت میں ملزمان کو مقدمے سے ڈسچارج کرنے کی رپورٹ جمع کرا دی، تاہم ڈیوٹی جج نے تفتیشی ادارے کے موقف سے اتفاق نہ کرتے ہوئے تینوں ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا۔تفصیل کے مطابق روزنامہ ’’قوم‘‘ نے گزشتہ روز اپنی خبر میں لاہور سے اعلیٰ حکام کی جانب سے اینٹی کرپشن افسران کو ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے گرفتار افسران کو قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے ریلیف دینے کی ہدایات اور ملزمان کے جلد مقدمے سے نکلنے کے امکانات کی نشاندہی کی تھی، جو اب اینٹی کرپشن کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی ڈسچارج رپورٹ سے درست ثابت ہوگئی ہے۔ذرائع کے مطابق اینٹی کرپشن نے ویسٹ مینجمنٹ کمپنی ملتان میں مبینہ طور پر کروڑوں روپے کی بے ضابطگیوں کے مقدمہ نمبر 17/26 مورخہ 20 اگست 2026، زیر دفعہ 409 میں گرفتار ملزمان کے حوالے سے عدالت میں ’’درخواست برائے ڈسچارج ملزمان‘‘ جمع کرائی۔دستاویز پر کیس کا عنوان اور مقدمہ نمبر واضح طور پر درج ہے۔دلچسپ اور اہم بات یہ ہے کہ ملزمان کو ڈسچارج کرنے کی استدعا پر مشتمل رپورٹ میں خود اینٹی کرپشن نے مقدمے کے پس منظر اور مبینہ بے ضابطگیوں کی تفصیلات بیان کی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کی جانب سے صفائی کے انتظامات کے لیے سرکاری فنڈز استعمال کیے گئے اور دورانِ عمل کروڑوں روپے کے اخراجات اور ٹھیکیداروں کو ادائیگیوں کا معاملہ سامنے آیا۔ رپورٹ میں صفائی مشینری، گاڑیوں، ڈیزل اور دیگر اخراجات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے باعث سرکاری خزانے کو نقصان پہنچنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔تفتیشی رپورٹ میں گاڑیوں کی جی پی ایس حاضری، روٹ مانیٹرنگ اور کے پی آئی سے متعلق ریکارڈ کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ صفائی کے نظام میں گاڑیوں اور مشینری کی مانیٹرنگ کے لیے ریکارڈ اور دیگر متعلقہ امور کی جانچ کی گئی، جبکہ ٹھیکیداروں کو ادائیگیوں اور جرمانوں (Penalties) سے متعلق معاملات بھی تفتیش کا حصہ رہے۔رپورٹ میں یہ بھی درج ہے کہ پنجاب میں ویسٹ مینجمنٹ کے نظام کے تحت صفائی کے انتظامات اور متعلقہ کمپنیوں کی ذمہ داریوں کے تناظر میں معاملات کا جائزہ لیا گیا، جبکہ 2025ء میں پنجاب ستھرا پنجاب ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے قیام اور متعلقہ انتظامی ڈھانچے کا حوالہ بھی رپورٹ میں موجود ہے۔لیکن الزامات کے بعد اچانک ’’شہادت نہ ملنے‘‘ کا موقف سامنے آگیا ہے، اینٹی کرپشن کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی ڈسچارج رپورٹ میں تفتیش کے دوران حالات و واقعات کی روشنی میں ملزمان کے خلاف قابلِ اعتماد شہادت سامنے نہ آنے کا مؤقف اختیار کرتے ہوئے عدالت سے ملزمان کو مقدمے سے ڈسچارج کرنے کی استدعا کی گئی اور اسی بنیاد پر ملزمان کو بے گناہ قرار دیکر مقدمے سے ڈسچارج کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ اینٹی کرپشن نے ویسٹ مینجمنٹ کمپنی ملتان کے سیکرٹری و چیف فنانشل آفیسر محمد کبیر خان، ساجد علی اور ارسلان حمید سمیت دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کرکے کارروائی کی تھی۔ گرفتار ملزمان کا جسمانی ریمانڈ بھی حاصل کیا گیا تاہم تفتیش کے اگلے مرحلے میں ان کے خلاف ڈسچارج رپورٹ عدالت میں پیش کردی گئی۔اینٹی کرپشن کی جانب سے ڈسچارج رپورٹ جمع کرائے جانے کے باوجود ڈیوٹی جج نے تفتیشی افسر کے مؤقف سے اتفاق نہیں کیا اور تینوں ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا۔ یوں اینٹی کرپشن کی جانب سے ملزمان کو مقدمے سے نکالنے کی کوشش عدالت میں کامیاب نہ ہوسکی۔سوال یہ ہے کہ مقدمہ درج کرنے سے قبل شواہد کی مکمل جانچ کیوں نہ ہوئی؟ اگر ملزمان بے قصور تھے تو گرفتاری اور ریمانڈ کی نوبت کیوں آئی، اور اگر قصوروار تھے تو اچانک کلین چٹ کیوں دی گئی؟۔

شیئر کریں

:مزید خبریں