عراق اور امریکی ذرائع کی جانب سے سامنے آنے والی ایک نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران جنگ کے دوران سعودی لڑاکا طیاروں نے عراق میں ایران حمایت یافتہ ملیشیا کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی فضائی کارروائیوں میں عراق کے اندر موجود ایران نواز ملیشیا کے اہداف کو ٹارگٹ کیا گیا، جبکہ بعض اطلاعات کے مطابق کویت کی جانب سے بھی عراق پر جوابی حملوں کی کارروائیاں ریکارڈ کی گئیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تمام حملے خلیجی خطے میں جاری وسیع تر فوجی ردعمل کا حصہ تھے جو ایران پر امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے دوران سامنے آئے، تاہم انہیں ابتدائی طور پر خفیہ رکھا گیا۔
رائٹرز کی رپورٹ میں تین عراقی سکیورٹی اور فوجی حکام، ایک مغربی اہلکار اور معاملے سے واقف متعدد ذرائع کے حوالے سے تفصیلات شامل کی گئی ہیں۔ ایک مغربی اہلکار کے مطابق سعودی فضائیہ نے عراق کی شمالی سرحد کے قریب ایران سے منسلک ملیشیا کے مراکز کو نشانہ بنایا۔
ذرائع کے مطابق کچھ حملے مبینہ طور پر 7 اپریل کو امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی کے دوران بھی کیے گئے۔ ان کارروائیوں کا مقصد ان مقامات کو نشانہ بنانا تھا جہاں سے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک پر ڈرون اور میزائل حملے کیے جا رہے تھے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ جنوبی عراق میں ہونے والی ایک کارروائی میں متعدد جنگجو ہلاک ہوئے جبکہ کتائب حزب اللہ کے زیر استعمال مواصلاتی اور ڈرون آپریشنز کی ایک اہم تنصیب بھی تباہ کر دی گئی۔







