ٹوکیو: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران کی جانب سے میزائل حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جہاں ابتدائی ایشیائی ٹریڈنگ کے دوران قیمتیں 3 فیصد سے زائد بڑھ گئیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے داغے گئے متعدد میزائل فضا میں ہی تباہ کر دیے گئے۔ تاہم اس پیش رفت کے بعد سرمایہ کاروں میں خطے سے تیل کی فراہمی متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے، جس کے نتیجے میں عالمی مارکیٹ میں خام تیل مہنگا ہو گیا۔
مارکیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت 3.67 فیصد اضافے کے بعد 82.17 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
اسی طرح برینٹ خام تیل کی قیمت بھی 3.39 فیصد اضافے کے ساتھ 86.94 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جب بھی مشرق وسطیٰ میں فوجی کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات شدت اختیار کر جاتے ہیں، جس کے باعث خام تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھنے لگتی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی یا آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو آنے والے دنوں میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ بھی دیکھنے میں آ سکتا ہے۔







