آج سے مون سون کا نیا طاقتور سپیل، این ڈی ایم اے کا سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ الرٹ

ملتان،اسلام آباد(قوم نیوز،بیورورپورٹ) ملک بھر میں آج سے مون سون کی مزید بارشوں کا سلسلہ شروع ہونے کا امکان ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج 29 جولائی سے 5 اگست کے دوران ملک میں مزید مون سون بارشوں کا امکان ہے،آج سے بحیرہ عرب اور خلیج بنگال سے مون سون ہوائیں ملک میں داخل ہوں گی، مغربی ہواؤں کا سلسلہ اس وقت شمالی علاقوں کو متاثر کررہا ہے اور ہوائیں یکم اگست سے ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثرکریں گی۔محکمہ موسمیات نے بتایا کہ کشمیر میں 28جولائی کی رات سے 5 اگست تک تیزہواؤں اور گرج چمک سے بارش ہوسکتی ہے،آج سے اسلام آباد، راولپنڈی، مری، لاہور اور دیگر علاقوں میں بارش کا امکان ہے جب کہ 31جولائی سے بہاولپور، بہاولنگر، خانپور، ڈی آئی خان اور دیگر علاقوں میں بارش متوقع ہے۔اس کے علاوہ آج سے 5 اگست تک خیبرپختونخوا میں بارش ہو سکتی ہے، گلگت بلتستان میں 28 جولائی کی شام سے 6 اگست تک تیزہواؤں اورگرج چمک سے بارش اور 31 جولائی سے 3 اگست تک بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بارش متوقع ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق 31 جولائی سے 2 اگست تک سندھ کے مختلف اضلاع میں بارش ہوسکتی ہے، بدین، ٹھٹہ، کراچی اور سجاول کے اضلاع میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے جب کہ ​بارشوں کے باعث ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے، 30 جولائی سے 4 اگست کے دوران نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خطرہ ہے۔دوسری جانب پاکستان میں رواں برس کے مون سون سیزن میں غیر معمولی بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) ہیڈکوارٹرز میں وفاقی وزرا کو دی گئی بریفنگ کے دوران بتایا گیا ہےکہ رواں برس مون سون سیزن کے دوران غیر معمولی بارشوں کا امکان ہے۔اس دوران وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہاکہ موسمیاتی تبدیلی سے فلیش فلڈ، لینڈ سلائیڈنگ اور اربن فلڈنگ کے خطرات بڑھ رہے ہیں، وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پرایمرجنسی رسپانس کمیٹی روز کی بنیاد پر میٹنگ کررہی ہے۔دوسری جانب وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک نے بتایا کہ بالائی خیبرپختونخوا اور شمالی علاقوں میں بارشیں زیادہ جب کہ میدانی علاقوں میں کم ہوں گی،دونوں کے لیے حکمت عملی بنائی جارہی ہے۔وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے ارلی وارننگ سسٹم کیلئے صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کیا، ارلی وارننگ اور مؤثر آگاہی کی بدولت نقصانات میں کمی ممکن ہوئی۔اس کے علاوہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ تباہ کن سیلابوں کے معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہورہے ہیں، موسمیاتی تبدیلی اور آبادی کیلئے چیلنجز سے نمٹنےکیلئے مؤثر آگاہی ضروری ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں