ملتان(سپیشل رپورٹر) چوک ایم ڈی اے سے امیر آباد پارک روڈ، مہربان کالونی روڈ، مدنی چوک سے کمہاراں والا روڈ، جو شہر کے انتہائی اہم سرکاری اداروں تک رسائی کا مرکزی راستہ ہے متعلقہ اداروں کی مسلسل غفلت کے باعث خطرناک شکل اختیار کر چکا ہے۔ سڑک پر متعدد مقامات پر گہرے گڑھے موجود ہیں جو ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید وسیع ہوتے جا رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر مستقل بنیادوں پر مرمت نہ کی گئی تو کسی بھی وقت کوئی بڑا جانی حادثہ پیش آ سکتا ہے۔مقامی افراد کے مطابق بارش کے بعد یہ سڑک شدید متاثر ہو جاتی ہے۔ متعلقہ کنٹریکٹر یا عملہ وقتی طور پر صرف مٹی ڈال کر چلا جاتا ہےلیکن پہلی ہی بارش میں وہ مٹی بہہ جاتی ہے اور گڑھے پہلے سے زیادہ خطرناک ہو جاتے ہیں۔ یہ عارضی اقدامات عوام کی جانوں سے کھیلنے کے مترادف ہیں۔تشویشناک امر یہ ہے کہ اسی سڑک پر یا اس کے اطراف متعدد اہم سرکاری ادارے واقع ہیں، جن میں ایف آئی اے، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ، لائیو اسٹاک، مریم ان لائن کلینک، اور ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے) شامل ہیں۔ اتنے اہم اداروں کی موجودگی کے باوجود اگر یہ مرکزی شاہراہ اس قدر خستہ حالی کا شکار ہے تو یہ متعلقہ محکموں کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ اس سڑک پر روزانہ ہزاروں گاڑیاں، موٹرسائیکلیں، رکشے اور پیدل شہری آمدورفت کرتے ہیں، جبکہ آس پاس رہائشی آبادی ہونے کے باعث بچے بھی کھیلتے ہیں۔ ایسے میں کسی موٹرسائیکل سوار، معمر شہری یا بچے کے گڑھے میں گرنے سے کوئی بڑا سانحہ رونما ہو سکتا ہے، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ تعمیراتی اداروں اور انتظامیہ پر عائد ہوگی۔شہریوں نے وزیراعلیٰ ،کمشنر ملتان ڈپٹی کمشنر ملتان اور متعلقہ تعمیراتی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ اس اہم شاہراہ کی ہنگامی بنیادوں پر تکنیکی معائنہ کرایا جائے، عارضی مٹی ڈالنے کے بجائے مستقل اور معیاری تعمیر و مرمت کی جائے، اور ناقص کام کے ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ کسی ممکنہ جانی نقصان سے پہلے اس سنگین مسئلے کا مستقل حل نکالا جا سکے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کے دعوے اس وقت تک بے معنی ہیں جب تک شہر کی اہم شاہراہیں محفوظ اور معیاری نہیں بنائی جاتیں۔ انتظامیہ کو چاہیے کہ کسی حادثے کا انتظار کرنے کے بجائے فوری عملی اقدامات کرے تاکہ عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔







