رحیم یارخان(بیورو رپورٹ)صوبائی وزیرتعلیم کے سرکاری تعلیمی نظام میں اصلاحات،جدید تدریسی ماحول اور شفاف امتحانی نظام کے بلند و بانگ دعوؤں کی کھلی خفیہ مانیٹرنگ ٹیموں نے کھول دی،بہاولپور بورڈ کے کنٹرولر امتحانات اور ماتحت عملہ نے جنوبی پنجاب میں میرٹ کی دھجیاں اڑاتے ہوئے من پسند حاضر سروس و ریٹائرڈ اساتذہ کرام کو امتحانی سینٹر بیچ دئیے فی سینٹر 1 لاکھ روپے میں فروخت ،سینٹر انچارجوں،سرکاری سکولوں کے سربراہان اور کلرکوں نے سی ای او ایجوکیشن،ڈی او سیکنڈری و ایلمنٹری سمیت افسران کو “ماموں”بنا کر سرکاری سکولوں میں زیر تعلیم بچوں سے پیپروں کی چھپائی کی مد میں پہلی سے پانچویں جماعت فی کس 250 اور پانچویں سے دسویں جماعت تک فی طالب علم 500 روپے وصو ل کیا،پیپروں میں معاونت اور نقل کروانے کی مد میں طالب علم 5ہزار سے 7 ہزار روپے وصول کئے جانے کے انکشاف نے تہلکہ مچا دیا،خفیہ مانیٹرنگ ٹیموںنے مئی میں کئے جانیوالے خفیہ دوروں کی تفصیلات مرتب کرکے وزیر اعلیٰ پنجاب سمیت اعلیٰ حکام کو ارسال کردی،محکمہ ایجوکیشن رحیم یارخان میں تھرتھلی مچ گئی،کاروائی سے بچنے کیلئے سینٹر انچارجوں،سکول سربراہان نے سرکاری چھتر چھایا حاصل کرنے کیلئے سیاسی رہنماؤں کے گھروں کے چکر لگانا شروع کردئیے۔تفصیل کے مطابق پنجاب حکومت اور صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کی جانب سے سرکاری تعلیمی نظام میں اصلاحات، جدید تدریسی ماحول اور شفاف امتحانی نظام کے بلند و بانگ دعوؤں کے برعکس مختلف اضلاع سے سامنے آنے والی مبینہ خفیہ مانیٹرنگ رپورٹس نے محکمہ سکول ایجوکیشن کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، ذرائع کے مطابق خفیہ مانیٹرنگ ٹیموں کی رپورٹ میں ضلع رحیم یارخان کے تقریباً70 سے زائد پرائمری،ایلیمنٹری اور سیکنڈری سکولوں میں اساتذہ کی غیر حاضری، تدریسی سرگرمیوں میں غفلت، امتحانی مراکز میں مبینہ طور پر غیر متعلقہ افراد کی مداخلت اور نقل کروانے کے علاوہ مالی بے ضابطگیوں کی شکایات بھی درج کی گئی ہیں۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مانیٹرنگ ٹیموں نےصرف ضلع رحیم یارخان کےتمام سرکاری سکولوں میں ایسے شواہد اکٹھے کیے ہیں جن کے مطابق دوسری جماعت سے لے کر دسویں جماعت تک کے طلبہ سے امتحانی پرچوں کی چھپائی اور دیگر امتحانی اخراجات کے نام پر مبینہ طور پر فی طالب علم 250 روپے سے 500 روپے تک وصول کیے جا رہے ہیں، ایجوکیشن ذرائع کے مطابق سالانہ پیپروں کی چھپائی کے تمام تر اخراجات پنجاب حکومت اٹھاتی ہے اور امتحانی پیپرو ں کی چھپائی سے لے کر سکولوں تک فراہمی محکمہ ایجوکیشن پنجاب کے ذمہ داری میں شامل ہے جووہ بخوبی ادا کر رہے ہیں،ذرائع نے بتایا کہ حکومتی سطح پر پیپروں کی چھپائی اور ترسیل مکمل ہونے کے بعد ضلع بھر کے سرکاری سکولوں کے سربراہان کی ایک میٹنگ سی ای او ایجوکیشن آفس طلب کی جا تی ہے جس میں ڈی او سیکنڈری،ڈی او ایلیمنٹری،ڈپٹی ڈی اوز،اے ای اوز سمیت دیگر افسران شامل ہوتے ہیں جس میں ضلع رحیم یارخان کے سرکاری سکولوں میں زیر تعلیم تقریباًساڑھے 3 لاکھ سے زائد طلباء و طالبات سے پیپروں کی فیس وصول کی جاتی ہے،ذرائع نے بتایا کہ پہلی سے پانچوں تک 250 روپے اور پانچویں سے دسویں جماعت تک 500 روپے فی کس طالب علم وصول کیا جاتا ہے،حالانکہ والدین اور شہری حلقوں کا مؤقف ہے کہ سرکاری سکولوں میں ایسے امتحانی اخراجات کی وصولی کے لیے واضح قانونی اجازت موجود نہیں، اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف سرکاری تعلیمی پالیسی بلکہ مفت تعلیم کے حکومتی دعوؤں پر بھی سوالیہ نشان ہوں گے،رپورٹ کے مطابق بعض امتحانی مراکز میں مبینہ طور پر جونیئر کلرکوں اور دیگر غیر تدریسی ملازمین کی جانب سے امتحانی عمل میں مداخلت اور نقل کروانے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں، جبکہ کئی سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی غیر حاضری کے باعث تعلیمی سرگرمیاں شدید متاثر ہونے کا انکشاف کیا گیا ہے،تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ تمام الزامات تحقیقات میں درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ صرف انتظامی غفلت نہیں بلکہ صوبے کے لاکھوں طلبہ کے تعلیمی مستقبل کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہوگا، ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ خفیہ مانیٹرنگ رپورٹ کو منظر عام پر لایا جائے، تمام شکایات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ دار افسران و اہلکاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے،دوسری جانب صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات متعدد مواقع پر یہ مؤقف اختیار کر چکے ہیں کہ حکومت امتحانی نظام میں شفافیت، نقل کے خاتمے اور سرکاری سکولوں میں معیار تعلیم بہتر بنانے کے لیے اصلاحات پر عمل پیرا ہے اور کسی بھی قسم کی بدعنوانی یا بے ضابطگی برداشت نہیں کی جائے گی۔ تاہم حالیہ مبینہ رپورٹس کے منظر عام پر آنے کے بعد حکومتی دعوؤں اور زمینی حقائق کے درمیان فرق پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔







