اربوں روپے بجٹ کے باوجود جنوبی پنجاب صاف پانی سے محروم، ملتان میں اتھارٹی دفتر خفیہ

ملتان( سپیشل رپورٹر ) حکومت پنجاب کے د عو ے دھرے رہ گئے، ملتان سمیت جنوبی پنجاب میں صاف پانی فراہمی کا تمام تر سسٹم آلودگی اور شکوک و شبہات سے بھرا ہوا۔ بدنیتی اور خفیہ سرگرمیوں کی وجہ سے یہ منصوبہ بری طرح ناکام ہو رہا ہے اور اربوں روپے کے بجٹ کے باوجود عوام صاف پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں، ملتان میں صاف پانی اتھارٹی کا خفیہ آفس، نہ دفتر کے باہر کسی بھی قسم کا بورڈ لگا ہوا ہے اور نہ ہی اس کا ایڈریس کسی کو معلوم ہے۔ پرائیویٹ کالونی میں بنایا ہوا سرکاری آفس پر نہ کوئی سائن بورڈ نہ کوئی نشاندہی کی گئی۔ ملتان صاف پانی اتھارٹی کا عملہ سرکاری خزانہ دردی سے لوٹنے میں مصروف ہے۔عوام پیٹ کی موزی بیماریوں سے ہسپتالوں میں پہنچنے لگے افسران کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ۔ملتان سمیت جنوبی پنجاب کے عوام کو صاف اور محفوظ پینے کا پانی فراہم کرنے کے دعووں کے باوجود صاف پانی کا منصوبہ عملی طور پر ناکامی کی تصویر بن گیا ہے کروڑوں اور اربوں روپے کے بجٹ، سرکاری وسائل اور افسران و عملے کے اخراجات کے باوجود ملتان، وہاڑی، بہاولپور، ڈیرہ غازی خان سمیت جنوبی پنجاب کے متعدد علاقوں میں عوام آج بھی پینے کے صاف پانی کے بنیادی حق سے محروم ہیں۔سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ جنوبی پنجاب میں صاف پانی اتھارٹی کے معاملات کی نگرانی کرنے والے متعلقہ افسران کا ملتان میں قائم دفتر بھی سوالات کی زد میں ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ دفتر ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں قائم ہے، تاہم دفتر کے باہر واضح سرکاری سائن بورڈ موجود نہیں، نہ ہی مرکزی سڑک یا مین اسٹاپ پر کوئی ایسا لوکیشن بورڈ دکھائی دیتا ہے جس سے عام شہری کو معلوم ہو سکے کہ یہاں جنوبی پنجاب صاف پانی اتھارٹی کا دفتر قائم ہے۔یہ صورتحال کئی بنیادی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ اگر یہ واقعی ایک سرکاری دفتر ہے تو اس کی شناخت نمایاں طور پر کیوں نہیں کی گئی سرکاری ادارے کا دفتر نجی سوسائٹی میں قائم کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی دفتر کا کرایہ بجلی عملے کی تنخواہیں گاڑیاں اور دیگر انتظامی اخراجات کس مد میں ادا ہو رہے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جس ادارے کا بنیادی مقصد عوام کو صاف پانی فراہم کرنا ہے، اس کی اپنی موجودگی عوام سے اس قدر پوشیدہ کیوں ہےیہ سوالات محض انتظامی نوعیت کے نہیں بلکہ شفافیت، سرکاری وسائل کے استعمال اور عوامی جوابدہی سے براہِ راست جڑے ہوئے ہیںجنوبی پنجاب میں صاف پانی کی فراہمی کے نام پر بڑے بڑے بجٹ مختص کیے گئے، مختلف منصوبوں اور واٹر فلٹریشن پلانٹس کی بات کی گئی، مگر زمینی صورتحال اس کے برعکس نظر آتی ہے۔ کئی مقامات پر فلٹریشن پلانٹس غیر فعال، بند یا مناسب سہولیات سے محروم ہونے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیںاگر اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود عوام کو صاف پانی میسر نہیں آ رہا تو پھر سوال صرف ایک منصوبے کی ناکامی کا نہیں بلکہ پورے نظام کی کارکردگی کا ہے۔عوام یہ جاننے کا حق رکھتے ہیں کہ کتنا بجٹ جاری ہوا، کہاں خرچ ہوا، کتنے فلٹریشن پلانٹس مکمل ہوئے، کتنے فعال ہیں کتنے عرصے سے بند ہیں کس کمپنی کو کتنے ٹھیکے دیے گئے اور ان منصوبوں سے کتنے شہری مستفید ہو رہے ہیں۔عوامی مفاد کے اس اہم معاملے پر متعلقہ افسران کا مؤقف جاننے کے لیے متعدد بار رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ فون کالز کا جواب نہیں دیا گیا، واٹس ایپ پر پیغامات بھیجے گئے مگر جواب دینا بھی گوارا نہیں کیا گیا۔ چیئرمین صاف پانی اتھارٹی سے بھی رابطہ کیا گیا، تاہم وہاں سے بھی کوئی واضح جواب موصول نہیں ہوا۔صاف پانی اتھارٹی کے کمپلینٹ سیل تک بھی معاملہ پہنچایا گیا اور رپورٹس ارسال کی گئیں، لیکن تاحال کسی مؤثر کارروائی یا واضح پیش رفت کا سامنے نہ آنا تشویشناک ہے۔اگر ایک سرکاری ادارہ عوامی شکایات، میڈیا رپورٹس اور تحریری درخواستوں پر بھی خاموش رہے تو پھر عام شہری آخر کس دروازے پر دستک دے۔گزشتہ عرصے کے دوران صاف پانی کی عدم دستیابی، فلٹریشن پلانٹس کی بندش اور منصوبوں کی کارکردگی کے حوالے سے اخبارات، سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ میں متعدد رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں۔ اس کے باوجود اگر متعلقہ ادارے نے معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات نہیں کیں تو یہ طرزِ عمل خود ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔جنوبی پنجاب کے عوام کی حالت دیکھتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ ہے کہ اس پورے معاملے کا اعلیٰ سطحی، غیر جانب دار اور شفاف آڈٹ کرایا جائے۔ صاف پانی اتھارٹی جنوبی پنجاب کے تمام منصوبوں دفاتر اخراجات ٹھیکوں فلٹریشن پلانٹس اور فنڈز کے استعمال کی مکمل جانچ پڑتال کی جائے۔۔خصوصاً ملتان میں قائم جنوبی پنجاب کے دفتر کی قانونی حیثیت، مقام، کرایہ، سرکاری اخراجات اور دفتر کی شناخت سے متعلق بھی مکمل ریکارڈ طلب کیا جائے۔چیئرمین اور سی ای او صاف پانی اتھارٹی سے بھی جواب طلب کیا جائے کہ جنوبی پنجاب میں صاف پانی کی فراہمی کے لیے مختص فنڈز کے باوجود عوام کو بنیادی سہولت کیوں حاصل نہیں۔اگر کسی افسر یا ٹھیکیدار کی غفلت بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال یا مالی بے ضابطگی ثابت ہو تو بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔

ملتان،بہاول پور ،وہاڑی سمیت مختلف شہروں میں واٹرفلٹریشن پلانٹس کی حالت زار،شہری صاف پانی کی عدم فراہمی پراحتجاجی مظاہرہ کرتےہوئے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں