پاکستان میں سونا مزید سستا، فی تولہ قیمت میں ایک ہزار روپے کی کمی-پاکستان میں سونا مزید سستا، فی تولہ قیمت میں ایک ہزار روپے کی کمی-آزاد کشمیر الیکشن پر سیاسی محاذ گرم، مریم نواز کا پیپلز پارٹی پر طنز، حسن مرتضیٰ کے سنگین الزامات-آزاد کشمیر الیکشن پر سیاسی محاذ گرم، مریم نواز کا پیپلز پارٹی پر طنز، حسن مرتضیٰ کے سنگین الزامات-سوشل میڈیا پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں، مولانا طاہر اشرفی کا علماء و مشائخ کانفرنس سے خطاب-سوشل میڈیا پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں، مولانا طاہر اشرفی کا علماء و مشائخ کانفرنس سے خطاب-آزاد کشمیر میں انجینئرڈ انتخابات حالات مزید خراب کریں گے، لیاقت بلوچ کی تنقید-آزاد کشمیر میں انجینئرڈ انتخابات حالات مزید خراب کریں گے، لیاقت بلوچ کی تنقید-پاکستان ریلویز کا بڑا فیصلہ، شالیمار ایکسپریس ایک ماہ کے لیے معطل، قراقرم ایکسپریس کا روٹ بھی تبدیل-پاکستان ریلویز کا بڑا فیصلہ، شالیمار ایکسپریس ایک ماہ کے لیے معطل، قراقرم ایکسپریس کا روٹ بھی تبدیل

تازہ ترین

آزاد کشمیر الیکشن پر سیاسی محاذ گرم، مریم نواز کا پیپلز پارٹی پر طنز، حسن مرتضیٰ کے سنگین الزامات

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے آزاد کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ (ن) پر لگائے گئے دھاندلی کے الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں مریم نواز نے کہا کہ انتخابی دھاندلی کی سیاست کرنے والی پیپلز پارٹی آج خود دھاندلی کے الزامات لگا رہی ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں سوال اٹھایا کہ “قیامت کتنے بجے ہے؟”
دوسری جانب پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے جنرل سیکرٹری حسن مرتضیٰ نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں ان کی جماعت کے ساتھ دھاندلی کی گئی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیاں ہوئیں اور الیکشن کمیشن نے غیر جانبدار کردار ادا کرنے کے بجائے ایک فریق کا ساتھ دیا۔
حسن مرتضیٰ نے مریم نواز کا نام لیے بغیر کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کشمیر جا کر وزارتِ عظمیٰ کا مطالبہ کر رہی ہے، جبکہ نواز شریف کی سیاسی حیثیت کو ان کی اپنی جماعت کمزور کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نواز شریف کا احترام کرتی ہے، لیکن موجودہ حکومتی پالیسیوں پر شدید تحفظات رکھتی ہے۔
انہوں نے پنجاب حکومت کو بارشوں اور سیلابی صورتحال پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ شاہدرہ سے مریدکے تک ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی زیر آب آ چکی ہے۔ ان کے مطابق یہ قدرتی سیلاب نہیں بلکہ ناقص منصوبہ بندی اور حفاظتی بند ٹوٹنے کا نتیجہ ہے۔
حسن مرتضیٰ نے مزید کہا کہ لاہور کو ماڈل شہر قرار دیا جاتا ہے، لیکن چند گھنٹوں کی بارش کے بعد شہر کی سڑکیں زیر آب آ جاتی ہیں۔ انہوں نے گندم درآمد، عوامی سہولیات اور حکومتی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری بھی آزاد کشمیر انتخابات کے پہلے مرحلے میں مبینہ دھاندلی کے الزامات عائد کر چکے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں