ریاض: آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور بحری راستوں میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے پیش نظر سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی آرامکو نے بعض ایشیائی ریفائنریوں کو آبنائے ہرمز سے باہر کے راستے سے خام تیل فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔
ذرائع کے مطابق آرامکو کی جانب سے بعض خریداروں کے ساتھ نجی سطح پر مذاکرات جاری ہیں، جن میں متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ کے قریب سمندر میں جہاز سے جہاز منتقلی کے ذریعے عرب میڈیم اور عرب ہیوی خام تیل کی فراہمی پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ خام تیل کی لوڈنگ ستمبر میں متوقع ہے۔ اس منصوبے کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر ایشیائی خریداروں تک سعودی خام تیل پہنچانا ہے، کیونکہ سکیورٹی خدشات کے باعث کئی شپنگ کمپنیوں نے اس اہم بحری راستے پر اپنے جہاز بھیجنے سے گریز کیا ہے۔
سعودی آرامکو نے اس حوالے سے کسی بھی قسم کا تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔ کمپنی اس سے قبل عرب لائٹ خام تیل کی کچھ برآمدات بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع منتقل کرچکی ہے، جبکہ مصر کی بحیرہ روم کی بندرگاہ سیدی کریر کے ذریعے بھی تیل کی فراہمی کی پیشکش سامنے آچکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے باعث بھارت سمیت اہم ایشیائی مارکیٹوں میں آرامکو کے خام تیل کی فروخت متاثر ہوئی ہے۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے خلیج کے اندر سے خام تیل کو آبنائے ہرمز سے باہر منتقل کرکے اپنی تیل کی برآمدات کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔







