ملتان (سٹاف رپورٹر) وفاقی وزارت خوراک کی طرف سے آئی ایم ایف کو پاکستان میں گندم کی پیداوار کے حوالے سے غلط اعداد و شمار فراہم کرنے کی سزا ملک بھر کے کاشتکار اور عوام بھگت رہے ہیں جبکہ حالیہ گندم کے سیزن میں پنجاب بھر میں گندم کی پیداوار گذشتہ سالوں کی نسبت 18 سے 20 فیصد کم رہی۔ وفاقی وزارت خوراک کی غلط اعداد و شمار اور حکومت پنجاب کی ناقص اور صرف11مخصوص پارٹیوں کو اکاموڈیٹ کرنے کی پالیسی نے پنجاب بھر کے لاکھوں کاشت کاروں سے تین ہزار روپے سے 3300 روپے روپے فی من خریدی جانے والی گندم کی اوپن مارکیٹ میں قیمت محض ڈھائی ماہ کے عرصے میں 45 سو روپے فی من تک پہنچا دی ہے جس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور مختلف غلہ منڈیوں کے بیوپاریوں کے مطابق انہی دو ہفتوں میں گندم پانچ ہزار روپے فی من تک پہنچ جائے گی جبکہ آٹے کی قیمت کم سے کم ڈیڑھ سو روپے فی کلو تک بڑھنے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔ فلور ملز مالکان کے مطابق جس طرح گندم کی آئے روز قیمت بڑھ رہی ہے اس سے بہت جلد 20 کلو کا آٹے کا تھیلا ڈیڑھ سو روپے فی کلو کے حساب سے تین ہزار روپے کا ہو جائے گا جو عام آدمی کی قوت خرید کو برباد کرکے رکھ دے گا۔ روزنامہ قوم کو مختلف ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق نجی کمپنیوں کے پاس پانچ لاکھ ٹن گندم ذخیرہ ہو چکی ہے اور جو ان کمپنیوں سے حکومت ابھی تک کے فیصلے کے مطابق 38 سو روپے فی من کے حساب سے خریدے گی اور نجی سٹاکسٹ کو منافع بھی حکومت دے گی جبکہ بینکوں کا مارک اپ بھی حکومت پنجاب ادا کرے گی۔ واقفان حال کے مطابق اس قسم کے حیران کن اور تباہ کن معاہدے کی صورتحال بھی آئی پی پیز کے معاہدے اور قطر سے ایل این جی کے معاہدوں جیسے تباہ کن معاہدے جیسی ہی ثابت ہو گی۔ حکومت پنجاب کے محکمہ فوڈ سکیورٹی کی ناقص اور غیر واضح پالیسی کی وجہ سے صرف دو ماہ کے عرصے میں نجی شعبے کا سٹاکسٹ اور پرائیویٹ مافیا اربوں روپے کما چکا ہے اور محض دو ماہ کے عرصے میں بینکوں سے قرض لے کر تین ہزار روپے سے 3300 روپے فی من کاشتکار سے خریدی جانے والی گندم اب 4500 روپے سے زائد قیمت پر بیچ کر 12 سو سے 1300 روپے فی من کما چکے ہیں اور اس ناقص فیصلے کا سارا بوجھ بہت بری طرح عوام پڑ رہا ہے۔







