کامسیٹس اسلام آباد، مدت ختم ہونےکے باوجود ڈاکٹرساجد قمر ریکٹر برقرار

ملتان (سٹاف رپورٹر) وفاقی وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی لا پروائی اور غیر ذمہ دارانہ رویہ کے باعث کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد میں قانون کے ساتھ بدترین کھلواڑ سامنے آ گیا ہے اور تاحال پروفیسر ڈاکٹر ساجد قمر جن کا ڈین شپ کا ٹینیور 29 اگست 2025 کو ختم ہو چکا ہے مگر وہ تاحال بھی ریکٹر کے عہدے پر تعینات ہیں جبکہ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کے سٹیچوز 2019 کے سیکشن آفیسرز اور ٹیچرز کی پاورز اور فرائض کے سیکشن 5 (VII) کے مطابق کسی بھی وقت جب ریکٹر کا عہدہ خالی ہویا ریکٹر غیر حاضر ہو، یا بیماری، رخصت یا کسی اور وجہ سے اپنے فرائض انجام دینے کے قابل نہ ہو اور یہ مدت بھی ایک ماہ سے زیادہ نہ ہو تو وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی جو پرو چانسلرز میں سے ایک ہیں، پرو ریکٹرز میں سے یا ان کی غیر موجودگی میں فیکلٹیز کے ڈینز میں سے کسی کے ذریعے ریکٹر کے فرائض کی انجام دہی کے لیے ایسے انتظامات کریں گےجسے وہ مناسب سمجھیں۔ اور اگر وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی دستیاب نہ ہوں تو COMSATS کے ایگزیکٹو ڈائریکٹرجو یونیورسٹی کے پرو چانسلرز میں سے ایک ہیں، کو یہی اختیارات حاصل ہوں گے۔ مگر حیران کن طور پر کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کے ریکٹر کے عہدے پر تعینات پروفیسر ڈاکٹر ساجد قمر جو کہ بطور ڈین کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کے عارضی یا ایکٹنگ ریکٹر کے طور پر یکم جون 2023 کو تعینات ہوئے اور کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کے قوانین کے مطابق عارضی یا ایکٹنگ چارج ریکٹر صرف اور صرف پرو چانسلر، پرو ریکٹر یا ان کی غیر موجودگی میں ڈینز میں سے کسی ایک کو ریکٹر کا عارضی چارج دیا جاسکتا ہے مگر حیران کن طور پر اس وقت عارضی یا ایکٹنگ ریکٹر کے عہدے پر تعینات پروفیسر ڈاکٹر ساجد قمر نہ تو پرو ریکٹر ہیں اور نہ ہی ڈین بلکہ ایک پروفیسر کے عہدے پر تعینات ہیں اور ڈین نہ ہونے کے باوجود عارضی ریکٹر کی کرسی پر بیٹھے غیر قانونی فیصلے بھی کر رہے ہیں جو کسی وقت بھی چیلنج کئے جا سکتے ہیں۔
اس بارے میں موقف کے لیے جب کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد رابطہ کیا گیا تو ان کا موقف تھا کہ ریکٹر کی تعیناتی کا مکمل اختیار منسٹری آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے پاس ہے۔ یونیورسٹی کا کوئی بھی پروفیسر اپنے آپ کو ریکٹر تعینات نہیں کر سکتا نہ کوئی یونیورسٹی کی کمیٹی ریکٹر تعینات کر سکتی ہے۔ موجودہ قائم مقام ریکٹر ڈاکٹر ساجد قمر نے منسٹری اور چانسلر کو باضابطہ طور پر لکھ کر آگاہ کر دیا تھا کہ ان کا ڈین کے عہدے کےتین سال مکمل ہو چکے ہیں۔ ابھی تک ان کے اس خط کا جواب نہ منسٹری سے آیا ہے اور نہ چانسلر کے دفتر سے،قائم مقام ریکٹر نے کوئی غیر قانونی فیصلہ نہیں کیا اور نہ ہی کوئی ایسا فیصلہ منسٹری یا چانسلر کے دفتر کو رپورٹ کیا گیا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں