ویمن یونیورسٹی ملتان میں نیا سکینڈل، بیرونِ ملک پروفیسر کو مسلسل تنخواہ جاری

ملتان (وقائع نگار) ویمن یونیورسٹی ملتان ایک نئے تنازعہ کی زد میں آ گئی ہے جہاں ماس کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کی پروفیسر سمیرا خالد دو سال سے زائد عرصہ سے بیرون ملک مقیم ہیں مگر ان کی تنخواہوں کا اجرا اب بھی جاری ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے توسیعی چھٹیوں کی منظوری اور سنڈیکیٹ کی چھٹی میں توسیع نہ دینے کے باوجود پروفیسر سمیرا خالد واپسی نہ آئیں اور مالی فوائد کی تسلسل کی وجہ سے طلبہ و اساتذہ میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق ان کی ابتدائی تقرری بھی ایک طاقتور سیاسی شخصیت کی سفارش پر کی گئی تھی جو اب اس کیس کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔پروفیسر سمیرا خالد نے 2023 میں اعلیٰ تعلیم کے لیے ایک سالہ سٹڈی لیو حاصل کی اور برطانیہ روانہ ہوئیں۔ ان کی ابتدائی چھٹی جنوری 2024 میں ختم ہونے والی تھی، مگر واپسی نہ ہونے پر یونیورسٹی انتظامیہ نے مزید ایک سالہ چھٹی منظور کر دی جو جنوری 2025 تک مؤثر تھی۔ اس کے بعد مزید چھٹی کی درخواست سنڈیکیٹ نے مسترد کر دی، تاہم اب تک (جنوری 2025 کے خاتمے کے نو ماہ بعد) ان کی واپسی نہیں ہوئی۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ پروفیسر سمیرا خالد برطانیہ میں اپنے خاندان کے ساتھ مقیم ہیں اور انہوں نے وہاں پناہ کی درخواست دی ہےجسے مبینہ طور پر پانچ سالہ مدت کے لیے منظور کر لیا گیا ہے۔ اس درخواست میں پاکستان کے خلاف الزامات کا ذکر بھی شامل ہے سب سے متنازعہ پہلو یہ ہے کہ چھٹی کی توسیع مسترد ہونے کے باوجود پروفیسر سمیرا خالد کو باقاعدہ تنخواہ دی جاری ہے، جو یونیورسٹی کے وسائل پر بوجھ بن رہی ہے۔ ایک طالب علم جو ماس کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ سے تعلق رکھتی ہیں، نے نام چھپانے کی شرط پر کہا “پروفیسر صاحبہ کی غیر حاضری سے ہمارے کورسز متاثر ہو رہے ہیں۔ یہ پیسہ ضائع ہونے کے مترادف ہے جبکہ ہمیں کوئی متبادل استاد بھی نہیں ملا۔” اساتذہ کا ایک گروپ بھی اس معاملے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے، مگر ان میں سے کئی کا خیال ہے کہ یہ صورتحال جنوبی پنجاب کی یونیورسٹیوں میں ایک عام رجحان بن چکی ہے، جہاں سکالرشپس یا لیوز پر جانے والے اساتذہ واپس نہیں آتے۔ اعلیٰ تعلیمی کمیشن (ایچ ای سی) کی جانب سے ایسے کیسز میں خروج کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں نام شامل کرنے کی ہدایات موجود ہیں، جو اب تک عمل میں نہیں لائی گئیں۔ ایک سابق یونیورسٹی افسر نے بتایا: پروفیسر سمیرا خالد کی تقرری کا معاملہ بھی مشکوک ہے۔ ماس کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کی پروفیسرز کی فہرست میں ان کا نام ابتدائی طور پر شامل نہ تھا، مگر ایک سیاسی شخصیت کی سفارش پر ان کا نام شامل کر دیا گیا۔ یہ سفارشات تعلیمی معیار کو کمزور کر رہی ہیں۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ ایسے کیسز نہ صرف مالی نقصان کا باعث بنتے ہیں بلکہ طلبہ کی تعلیم پر بھی برا اثر ڈالتے ہیں۔ ویمن یونیورسٹی ملتان جو خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے قائم کی گئی اب انتظامی اور اخلاقی چیلنجز کا شکار نظر آ رہی ہے۔
اس بارے میں جب رجسٹرار خواتین یونیورسٹی ملتان ڈاکٹر ثمینہ اختر سے بات کی گئی تو ان کا موقف تھا کہ ایسا کوئی بھی ایشو نہیں ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں