ملتان(اشرف سعیدی)ضلع لودھراں میں بنظیر انکم سپورٹ پروگرام سے کروڑوں روپے کی کرپشن کرنے والا فرنچائزر قانونی گرفت سے باہر ایف آئی اے کی ٹیم نے لودھراں سے تین افراد کو گرفتار کیا مگر اس ضلع میں سب سے بڑےفرنچائزر کاشف کو گرفتار نہ کر سکی کاشف کے زیر نگرانی کہروڑ پکا میں بتیس دنیا پور میں چوبیس لودھراں میں چالیس ڈیوائس چلائی جارہی ہیں جہاں سے فی غریب دو ہزار روپے ؤصول کیے جاتے ہیں اس طرح ڈیلی کی بنیاد پر فرنچائیزر کاشف اپنا حصہ جو کہ پچاس لاکھ روپے بنتا ھے وصول کرتا ھے یہ بھی معلوم ھوا ھے کہ کاشف کو جوں ہی ایف آئی اے ٹیم کی اطلاع ملی کاروائی سے بچنے کیلیے ضلع بدر ھوگیا اور ابھی تک روپوش ھے جبکہ کارو بار بدستور جاری ھے اس کا کہنا تھا کہ وہ ہر ماہ چار کروڑ اکھٹے کرتا ھے مگر کیونکہ اس کا رابطہ پیلز پارٹی کے کے ساتھ ھے اسلیے اسے نہ ہی گرفتا کیا جاسکتا ھے اور نہ ہی اس کی دی گئی ڈی وائسزز بند ھو سکتیں ہیں عرصہ دوسال سے یہ آدمی جو ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا تھا ارب پتی بن چکا ھے پورے ضلع میں جہاں جہاں بھی ڈیوائسزز چلائی جارہی ہیں وہاں پر باہر نوجوان کھڑے کر رکھے ہیں جو سادہ لوح خواتین کو چکر دیکر ان سے شناختی کارڈ حاصل کرتے اور ڈیواسز سے پیسے نکالنے والے سے رقم لیکر دو ہزار کم کر کے بقیہ رقم خاتون کو دے دیتے ہیں اس طرح ہر روز روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں روپے اکھٹے کیے جاتے ہیں یہ بھی بتایا گیا ھے اس ارب پتی فرنچائیزر کے متعلق شکایات ضلع آفیسر اور تحصیل میں تعنیات بنظیر انکم سپورٹ پروگرام کے انجارج سے کیں ہیں مگر کوئی کاروائی نہیں ھوئی تحصیل میں تعنیات اسسٹنٹ کمشنر بھی بنظیر انکم سپورٹ پروگرام میں کرپشن کرنے والوں کے خلاف کاروائی سے گریزاں ھےیہی وجہ ھے کہ پورے ضلع لودھراں میں اس امدادی رقم سے خواتین محروم چلی آرہی ہیں اور حقداروں کو یہ رقم نہیں ملتی کاشف نے کئی خواتین کو کیمشن پر رکھا ھوا ھے جو دور علاقوں میں معزور اور سادہ لو ح خواتین سے شام کو شناختی کارڈ اکھٹی کرتی ہیں اور انہیں اگلے روز کا ٹائم دیکر چلے آتی ہیں اس طرح پیسے حاصل کرنے بعد دوہزار نکال کر رقم ان افراد کو دے دی جاتی ہیں جن کے شناختی کارڈ لیے ھوتے ہیں کاشف کہروڑ کا رہائشی جبکہ پورے ضلع لودھراں میں اس کارو بار میں مصروف ھے یہ بھی بتایا گیا ھے جو لو ڈیواسزز حاصل کرتے ہیں ان سے پچاس ہزار فی ڈیواسز بطور ضمانت ناقابل واپسی وصول کرتا جبکہ دوسو روپے فی ڈیوآسز چارجز کے نام پر لیتا ھے ضلع بھر میں ضمانت کے نام پر ہر تین ماہ بعد ایک کروڑ ناقابل ؤاپسی سیکورٹی لی جاتی ھے جوکسی بھی صورت میں واپس نہیں لی جاتی واقفان حال کا کہنا ھے کہ اکثر ڈیواسز چلانے والوں کو کہتا ھے کہ اس رابطہ بلاول ھاوس سے ھے اگر کوئی بھی قانونی کاروائی کرے تو فون کے ذریعے روک دیا جاتا ھے ضلع بھر میں ساٹھ لاکھ افراد کو امدادی رقم دی جارہی جو ہر تین مہینے بعد تقسیم کی جاتی ھے اور اس مرادی رقم آدھا حصہ کرپشن کی نظر ھو رہا ھے جبکہ آدھی رقم غریب لوگوں تک پہنچ رہی ھے عوامی حلقوں نے لودھراں کیطرح دیگر افراد کے خلاف کاروائی اور کاشف کو گرفتار کر کے اس کے خلاف سخت کاروائی کی اپیل کی ھے یہ بھی پتہ چلا ھے کہ کاشف نے ایف آئی اے کی کاروائی کے خوف سے زیادہ ڈیواسزز گھروں میں پہنچا دی ہیں اور رقم کی تقسیم کار کا طریقہ بھی تبدیل کر دیا جاتا کوشش کی جاتی ھے کہ مستحق خواتین سے آئی ڈی کارڈ لیکر رقم خو نکلواکر دور جاکر دی جائے تاکہ اگر کوئی کاروائی ھو تو پتہ چلنے پر روپوشی یقینی بنائی جاسکے یہ بھی پتہ چلا ھے کہ بڑا فرنچائزر جو ضلع لودھراں کی بجائے سندھ میں موجود ہیں جوں ہی تین ماہ مکمل ھوں گے لودھراں واپسی ھوگی ایک ڈیواسز چلانے والے بتایا کہ فون پر رابطہ ھے اس علاقے میں اس کے کارندے کام کر رہے ہیں اور ڈیلی کی بنیاد پر اس کی رقم اسے دے دی جاتی ھے اس لوٹ مار میں بہت سے با اثر لوگ بھی شامل ہیں جو کاروائی میں رکاوٹ بنتے ہیں زیادہ تر کاشف بلاول ھاوس کانام لیکر ڈیواسز چلانے والوں کو مکمل قانونی گرفت سے محفوظ اور کاروائی نہ ھونے کی تسلی دیتا ہے۔







