پی ایچ ڈی، ایم فل وائیوا، تھیسز سے مینو چیک، کھانا کلچر تعلیمی نظام کا مذاق، طلبہ مجبور-پی ایچ ڈی، ایم فل وائیوا، تھیسز سے مینو چیک، کھانا کلچر تعلیمی نظام کا مذاق، طلبہ مجبور-ویمن یونیورسٹی ملتان کو عارضی وائس چانسلر مل گئی، ڈاکٹر عُظمیٰ قریشی تعینات، بہتری کی امید-ویمن یونیورسٹی ملتان کو عارضی وائس چانسلر مل گئی، ڈاکٹر عُظمیٰ قریشی تعینات، بہتری کی امید-صادق ویمن یونیورسٹی: قوم کی خبر پر ایکشن، ذاتی اکاؤنٹس میں فنڈز جمع کرنے پر پابندی-صادق ویمن یونیورسٹی: قوم کی خبر پر ایکشن، ذاتی اکاؤنٹس میں فنڈز جمع کرنے پر پابندی-یو ای ٹی ملتان: رجسٹرار کے ذاتی پی ٹی سی ایل بل بھی سرکاری کھاتے میں، ہوٹلز کو ادائیگیاں-یو ای ٹی ملتان: رجسٹرار کے ذاتی پی ٹی سی ایل بل بھی سرکاری کھاتے میں، ہوٹلز کو ادائیگیاں-اسٹیٹ بینک نے ورچوئل اثاثوں سے متعلق نیا ریگولیٹری فریم ورک نافذ کر دیا-اسٹیٹ بینک نے ورچوئل اثاثوں سے متعلق نیا ریگولیٹری فریم ورک نافذ کر دیا

تازہ ترین

علیمہ خان کا مؤقف: عمران خان کا پیغام پہنچانے پر اگر میں ملزم ہوں تو پھر کل پوری قوم ملزم بنے گی

راولپنڈی: پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا ہے کہ اگر آج عمران خان کا پیغام پہنچانے پر میں ملزم ہوں تو کل پوری قوم کو بھی ملزم قرار دیا جا سکتا ہے۔

کچہری میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ آج ملک میں ایسی فضا بن چکی ہے کہ جس کی بات پسند نہ آئے، اس کے خلاف مقدمہ درج کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا سے گفتگو کو دہشت گردی قرار دینا سمجھ سے بالاتر ہے، یہی آئینی اور قانونی نکتہ ہم نے عدالت میں چیلنج کیا ہے۔

علیمہ خان نے واضح کیا کہ ان پر الزام ہنگامہ آرائی کا نہیں بلکہ عمران خان کا پیغام پہنچانے کا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے صرف 10 سے 15 صحافیوں اور یوٹیوبرز کو پیغام دیا، اور میڈیا نے وہی پیغام پوری قوم تک پہنچایا۔ اگر اس بنیاد پر انہیں ملزم کہا جا رہا ہے تو پھر میڈیا کو بھی شریکِ ملزم بنایا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری اولین ترجیح عمران خان اور ان کے مقدمات ہیں۔ ہم ہر پیشی پر صرف ملاقات اور ٹرائل کے لیے جاتے ہیں، لیکن وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے جاتے ہیں۔ علیمہ خان نے کہا کہ یہ ظلم اور خوف کی فضا ہم عدالتوں میں چیلنج کر کے ختم کروائیں گے، کیونکہ آئین پاکستان ہر شہری کو آزادیِ اظہار کا حق دیتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے خلاف 60 سے 70 مقدمات درج ہیں، کبھی پنڈی سے اور کبھی اسلام آباد سے وارنٹ نکالے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم دباؤ یا دھمکیوں سے گھبرانے والے نہیں، ظلم کی یہ فضا ختم کرنی ہوگی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں