دوہری شہریت یا ملازمت، ملک بھر میں22 ہزار بیورو کریٹس زد میں آئینگے

ملتان (وقائع نگار) سرکاری ملازمین کو دوہری شہریت یا ملازمت میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہو گا ۔ اس مجوزہ ترمیم کے نافذ ہونے سے ملک بھر میں تقریباً 22 ہزار بیوروکریٹس اور دیگر سرکاری ملازمین متاثر ہوں گے جنہیں اپنی غیر ملکی شہریت ترک کرنے یا نوکری چھوڑنے کا حکم دیا جائے گا۔ یہ اقدام قومی وفاداری کو یقینی بنانے اور بیرونی اثرات سے پاک بیوروکریسی کو مضبوط کرنے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔حکومت کے ذرائع کے مطابق یہ ترمیم آئین کے آرٹیکل 63(1)(C) کو بنیاد بنا کر تیار کی گئی ہے جو پہلے سے ہی پارلیمنٹ کے اراکین اور وزراء کے لیے دوہری شہریت پر پابندی عائد کرتی ہے۔ اب یہ پابندی سول سروسز اور دیگر سرکاری ملازمین تک وسیع کر دی جائے گی۔ مجوزہ قانون کے تحت دوہری شہریت رکھنے والے ملازمین کو ایک مقررہ مدت کے اندر اپنا درجہ حال بتانا ہوگا اور یا تو غیر ملکی پاسپورٹ واپس کر دیں یا نوکری سے استعفیٰ دے دیں۔ ناکامی کی صورت میں ان کی ملازمت ختم کی جا سکتی ہے یا انضباطی کارروائی کی جائے گی۔وفاقی کابینہ کے ایک سینئر افسر نے بتایا، “یہ اقدام قومی سالمیت کو مضبوط کرنے اور بیوروکریسی میں ممکنہ تنازعات کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے۔ سرکاری ملازمین کی وفاداری صرف پاکستان سے ہونی چاہیے، نہ کہ کسی غیر ملکی ریاست سے۔ملازمین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہےخاص طور پر ان کے جو خاندانوں کی غیر ملکی تعلیم اور کاروبار سے وابستگی ہے۔ ایک ریٹائرڈ سول سروَنٹ نے کہا یہ فیصلہ ہزاروں خاندانوں کی زندگیوں کو متاثر کرے گااگر یہ ترمیم منظور ہو جاتی ہے تو یہ پاکستان کی بیوروکریسی میں ایک تاریخی تبدیلی لائے گی جو ملک کی خودمختاری اور قومی مفادات کی حفاظت کو ترجیح دے گی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں