جعلی تجربہ اور تین مختلف شناختیں، خواتین یونیورسٹی کی عارضی وائس چانسلر بے نقاب

ملتان (سٹاف رپورٹر) خواتین یونیورسٹی ملتان کی جعلی تجربے کا سرٹیفکیٹ جمع کروا کر پروفیسر بننے والی پرو وائس چانسلر و عارضی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے بارے میں مزید حیرت انگیز انکشافات سامنے آ گئے ہیں جن کے مطابق ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے یونیورسٹی کو جعلی تجربے کی بابت دھوکہ دہی کے بعد 15 جولائی 2014 کو خواتین یونیورسٹی ملتان بطور ریسرچ سکالر کنٹریکٹ پر جوائن کرنے کے بعد 32 سال پہلے بورڈ کی طرف سے جاری کی گئی میٹرک کی سند پر درج تاریخ پیدائش تبدیل کروا کر 4 سال زیادہ کروا لی۔ چنانچہ انہوں نے 32 سال بعد یکم ستمبر 2014 میں اپنی میٹرک کی سند پر اپنی تاریخ پیدائش تبدیل کرواتے ہوئے چار سال زیادہ کرواتے ہوئے 15 نومبر 1964 سے 9 جون 1968 کروا لی۔ چنانچہ حقیقتاً وہ اپنی اصل اور پرانی تاریخ پیدائش 15 نومبر 1964 کے مطابق 10 ماہ پہلے ریٹائر بھی ہو چکی ہیں۔ حیران کن طور پر روزنامہ قوم کو ڈاکٹر کلثوم پراچہ کی 3 تصدیق شدہ تاریخ پیدائش موصول ہو چکی ہیں جن میں ایک 15 نومبر 1964، دوسری 15 نومبر 1966، تیسری 9 جون 1968 کی میٹرک کی اسناد موجود ہیں جبکہ سول سرونٹ ایکٹ 1973 کے مطابق گورنمنٹ جاب کی جوائننگ کے وقت درج کروائی گئی تاریخ پیدائش ہی فائنل تصور ہوتی ہے۔ حیران کن طور پر ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں بیٹھے ہوئے افراد یا تو پرو وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ سے مینیج ہو چکے ہیں یا پھر کسی سیاسی پریشر میں پرانی میٹرک کی سند پر درج 14 نومبر 2024 کو 10 ماہ پہلے ریٹائر ہونے والی پرو وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے خلاف کوئی بھی ایکشن لینے سے گریزاں ہیں۔ حیران کن طور پر روزنامہ قوم کو موصول ہونے والے تصدیق شدہ ڈاکومنٹس کے مطابق ڈاکٹر کلثوم پراچہ 3 مختلف نام بھی استعمال کر چکی ہیں۔ جن میں 1982 میں جاری ہونے والی میٹرک کی سند پر ان کا نام کلثوم کنیز پراچہ، جبکہ 2014 میں جاری ہونے والی میٹرک کی سند پر کلثوم پراچہ درج ہے۔ جبکہ سب سے زیادہ حیران کن اور تشویشناک امر یہ ہے کہ میمونہ پوسٹ گریجوایٹ کالج کی جانب سے بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کو الحاق کے لیے بھیجے گئے ڈاکومنٹس میں کلثوم سعید کا نام درج ہے۔ اور کلثوم سعید کا نام 2007 سے 2014 تک استعمال کیا گیا مگر میمونہ پوسٹ گریجوایٹ کالج کے لیٹر ہیڈ پر جاری کردہ جعلی تجربے کے سرٹیفکیٹ پر نام کلثوم پراچہ درج ہے۔ جب کالج میں 17 کی بجائے 6 سالہ تجربے میں کلثوم سعید کا نام درج ہونے کے باوجود تجربے کا جعلی سرٹیفکیٹ کلثوم پراچہ کے نام ہونا بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ ان تمام حقائق کے علم میں آنے کے باوجود سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی خاموشی ڈاکٹر کلثوم پراچہ سے سمجھوتے کی طرف ایک خاص اشارہ ہے۔ روزنامہ قوم کی جانب سے عارضی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے جعلی تجربے کے سرٹیفکیٹ کی خبر شائع ہونے کے بعد ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کا جعلی تجربے کی حامل عارضی وائس چانسلر کی تعینات کردہ ایکٹنگ رجسٹرار سے رپورٹ مانگنا اس پورے کے پورے نظام تعلیم پر ایک سوالیہ نشان اور اعلیٰ تحقیقاتی کمیٹی بنانے کی بجائے ایک لیٹر لکھ کر اپنی جان چھڑوانا اس ملک کے ساتھ بہت بڑا مذاق ہے۔ یاد رہے کہ ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں بہت سی انکوائریاں کھڈے لائن لگائی جا چکی ہیں۔ اور ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب میں تعینات افراد از خود ان معاملات کو احسن طریقے سے مینیج کر کے جان چھڑوا لیتے ہیں۔ اس بارے میں موقف کے لیے جب عارضی اور جعلی تجربے کے سرٹیفکیٹ کی حامل وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ اور پی آر او سے رابطہ کیا گیا تو 2 دن گزرنے کے باوجود بھی کوئی جواب موصول نہ ہو سکا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں