

کبھی کبھی سفر اتنا تھکا دینے والا نہیں ہوتا جتنا اس منزل کا تصور جو ہر موڑ کے بعد مزید دور چلی جائے۔ ہمارے دیہات اور قصبات میں بسنے والے لاکھوں چہروں کے لیے ریاست سے رابطہ کچھ اسی اذیت ناک سفر کی کہانی بن چکا

ملتان شہر، جو اپنی تاریخی اہمیت اور کاروباری شناخت کے لیے جانا جاتا ہے، آج ایک ایسے الیکشن کا گواہ ہے جو محض چیمبر آف کامرس کی نشستوں کا تعین نہیں کر رہا، بلکہ شہر کی کاروباری سیاست میں ایک نئی روایت کی بنیاد ڈال رہا

ملتان (شاہد صدیق)چیمبر آف کامرس ملتان کے انتخابات کے حوالے سے جاری سیاسی سرگرمیوں میں فرینڈز گروپ کے قائد مجید خان شادی خیل نے روزنامہ قوم سے خصوصی نشست کے دوران اپنے گروپ کے منشور، مستقبل کے منصوبوں اور ملتان کی تجارتی برادری کو درپیش چیلنجز

تحریر: یاسر مجیدطلوعِ آفتاب کے ساتھ ہی جب ملتان کی گلیاں اور سڑکیں بیدار ہونا شروع ہوتی ہیں، تو 45 سالہ روشن مسیح اپنے جلے ہوئے ارمانوں اور معاشی بوجھ کے ساتھ گھر سے باہر قدم رکھتے ہیں۔ روشن مسیح، جو ایک مسیحی اقلیتی شہری ہیں،

جہاں یہ رواج ہو کہ کسی بھی سائل سے ڈیزل ڈلوا لو اور پرچی افسران کے سٹاف کو جمع کرا دو مگر پرچی کے پیسے نہ مانگو، جہاں یہ رواج ہو کہ تھانے کے اضافی خرچے اس تھانے کی حدود کے ناجائز فروش اور بدمعاش پورے

کسی صوبے کی کامیابی کا فیصلہ صرف اس کے بڑے شہروں کی رونق سے نہیں کیا جا سکتا۔ اصل تصویر وہاں دکھائی دیتی ہے جہاں شہر ختم ہوتے ہیں اور دور دراز بستیاں شروع ہوتی ہیں۔ اگر ایک ہی صوبے کے کچھ علاقے ترقی کی دوڑ

کہتے ہیں کہ بھارت کی کسی دور افتادہ چند گھروں کی بستی پر ڈاکوئوں نے اس وقت حملہ کر دیا جب گاؤں کے سارے مرد تین دن کے لیے اجتماعی طور پر کسی یاترا پر گئے ہوئے تھے اور بستی میں خواتین اکیلی تھیں۔ وہ دور

ایک سرد شام میں چولستان کے علاقے کڈ والا بنگلہ سے تعلق رکھنے والے ایک بکر وال (گڈریے) نے مجھے بتایا تھا کہ جب چولستان میں بارشیں ہوتی ہیں تو رنگ برنگے پھول کھلتے ہیں اور ان پھولوں کو بکریاں بہت شوق سے کھاتی ہیں تو

شہرِ اقتدار، جس کی کل وسعت محض اٹھائیس کلومیٹر کے مختصر دائرے میں سمٹی ہوئی ہے، وہاں کا انتظامی انتشار ہمارے فرسودہ بیوروکریٹک ڈھانچے کی بے تدبیری اور زوال پذیری کا نوحہ سنا رہا ہے۔ جو نظام ایک محدود اور دارالحکومت جیسے حساس و مرکزی خطے

میاں صاحب، السلام علیکم، میں حرم پاک مکہ شریف میں ہوں۔ میاں صاحب، السلام علیکم، میں مدینے میں ہوں روضہ رسول کے سامنے کھڑا ہوں، آئیے میرے ساتھ دعا کر لیجئے، اس کا موبائل کیمرہ آن ہوتا تھا اور وہ گڑگڑا کر، رقت آمیزی میں ڈوب

پاکستان کے چار صوبوں کو 20 صوبوں یا انتظامی یونٹس میں تبدیل کرنے کے فیصلے پر اگر عمل درآمد ہو گیا تو اس سے نہ صرف مرکز مضبوط ہو گا اس کی اس وقت اشد ضرورت ہے بلکہ این ایف سی کی گزشتہ دو دہائیوں سے

کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں بریلوی مکتبہ فکر کی تعداد لگ بھگ 75 فیصد ہے۔ میں سمجھتا ہوں یہ پاکستانی مسلمان ہیں کیونکہ یہ اہل بیت سے بھی بہت عقیدت رکھتے ہیں اور خلفائے راشدین کا احترام بھی کرتے ہیں تاہم میرا مذہب بارے زیادہ

سرکاری سطح پر پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات میں کبھی گرم جوشی اور کبھی سرد مہری چلتی رہی ہے مگر انقلاب ایران کے بعد پاکستان اور ایران کے باہمی تعلقات میں موجودہ جنگ سے پہلے کبھی گرم جوشی کا موقع نہیں آیا۔ ایران میں امام

آئیے قارئین، اب کالموں کی اقساط کے سلسلے کے آخری اور تیسرے حصے میں ایران اور پاکستان کے درمیان 1947 سے لے کر آج تک کے تعلقات کو جانچتے ہیں۔ 1947 کے تھوڑا عرصہ بعد ہی پاکستان امریکی کیمپ میں شامل ہو گیا تھا۔ ایران اور

چین کی معاشی ترقی اور ایشیا میں پائی جانے والی ایسی معدنیات جو کہ موجودہ جدید ٹیکنالوجی میں استعمال ہوتی ہیں، کی وجہ سے گزشتہ چند سالوں سے یہ کہا اور مانا جاتا ہے کہ موجودہ صدی ایشیا کی ترقی کی صدی ہے۔میں پہلے بھی لکھ

وقت گزر جاتا ہے، حکومتیں بدل جاتی ہیں، نسلیں جوان ہو جاتی ہیں مگر تاریخ کے کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو کیلنڈر کے بدلنے سے نہیں بھرتے۔ مشرقی پنجاب بھی ایسا ہی ایک خطہ ہے جہاں 1984ء کا آپریشن بلیو سٹار، اندرا گاندھی کا قتل،

مشرقی پنجاب میں بندوقوں کی گھن گرج آہستہ آہستہ کم ہو رہی تھی مگر خاموشی کے نیچے دفن ہونے والی کہانیاں ابھی زندہ تھیں۔ سڑکوں پر چیک پوسٹیں تھیں، دیہات میں خوف تھا، گھروں میں انتظار تھا اور ہزاروں خاندان ایسے تھے جن کے پیارے ایک

تاریخ صرف کتابوں میں نہیں لکھی جاتی، کبھی وہ عدالتوں کی فائلوں میں دب جاتی ہے، کبھی کسی ماں کی آنکھوں میں جمے آنسوؤں میں زندہ رہتی ہے، کبھی کسی لاپتا شخص کے انتظار میں دروازے پر نظریں جمائے خاندان کی خاموشی میں سانس لیتی ہے

رسم شبیری(حکم اذاں) شیخ محمد فہم ایڈووکیٹ سپریم کورٹ اسرائیل اور امریکہ شاید ابھی ایران پر حملہ کرنے میں اتنی جلدی نہ کرتے مگر مودی کے دورہ اسرائیل کے اگلے روز ہی اسرائیل نے امریکہ کی آشیر باد سے ایران پر حملہ کر دیا اور اس

محض ایک گندی مچھلی نے پی ٹی وی ملتان کے صاف ستھرے تالاب کو پلید کیا ہوا ہے۔ ویسے بھی دنیا میں برے غلیظ اور آلودہ لوگ تو کم ہوتے ہیں مگر ایسوں کے سہولت کار بہت زیادہ ہوتے ہیں جن کی وجہ سے معاشرہ آلودگی

میرا دل یقین نہیں کرتا کہ ایف آئی اے ملتان میں تعینات ایک باریش آفیسر نے وفاقی ادارے کی گزیٹڈ ملازمت کی حامل ایک خاتون اور وہ بھی سید زادی، کی غیر موجودگی میں اس کے بیٹے کو اپنے دفتر میں کھڑا کرکے اسکی ماں کو

ویسے تو پاکستان میں ہر شعبہ ہی زوال پذیر ہے مگر جو زوال سفارشی بھرتیوں سے پی ٹی وی میں آیا ہے اس کی کوئی مثال ہی نہیں ملتی۔ اللہ غریق رحمت کرے امجد اسلام امجد بہت پائے کے شاعر اور لکھاری تھے اور انہوں نے

گزشتہ رات 12 بج کر پانچ منٹ پر میرے بیٹے، داماد اور دونوں بیٹیوں نے’’ہیپی فادرز ڈے‘‘ کا میسج بھیجا تو مجھے یاد آیا کہ آج تو’’یوم والد‘‘ ہے۔ اللہ تبارک و تعالی میرے والد صاحب کو غریق رحمت فرمائے۔ میرے بہن بھائی اور والدہ تو

پنجاب یونیورسٹی میں ایم اے ماس کمیونیکیشن کے تھیسز میں میرا ٹاپک0pinion of Indian viewers about PTV transmission.تھا۔ پروفیسر ڈاکٹر مسکین علی حجازی صاحب جو ہمارے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ تھے اور پروفیسر مجاہد منصوری صاحب نے یہ ٹاپک مجھے اس لیے دیا کہ میرے ان سکھوں

اس عنوان کے تحت لکھے گئے کالموں کی سیریز میںگزشتہ قسط کےذریعے جامعات میں ترقی کے غیر منصفانہ نظام اور میرٹ کی پامالی جیسے اہم مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ مگر اگر ہم اس بحران کی گہرائی میں جائیں تو ایک اور نہایت بنیادی اور

بالی وڈ کے لیجنڈری اداکار عرفان خان نے کیا خوب اور زبردست جملہ بولا تھا کہ ’’جب ہم جیسوں کے دن آتے ہیں موت بیچ میں ٹپک پڑتی ہے‘‘ زندگی میں بارہا اس تلخ جملے کو حقیقت بنتے دیکھا اور ہر بار د ل کرچی کرچی

کہتے ہیں جنگ کبھی ایک دن میں نہیں پھوٹتی، وہ خاموشی سے پلتی ہےجیسے کسی دریا کے کنارے دراڑ آہستہ آہستہ گہری ہوتی جاتی ہے۔ برسوں سے دنیا میں ایک جملہ گردش کر رہا تھا کہ تیسری عالمی جنگ پانی پر ہوگی۔ یہ بات ماہرین، دانشوروں

گزشتہ قسط میں ترقیاتی منصوبوں، مالی بے ضابطگیوں اور گورننس کی کمزوریوں پر تفصیلی گفتگو کی گئی مگر اس پورے نظام کی ایک اور نہایت تشویشناک جہت وہ ہے جو براہِ راست انسانی وسائل یعنی تقرریوں، تربیت، اور انتظامی ذمہ داریوںسے جڑی ہوئی ہے۔ہمارے ہاں جامعات

گزشتہ اقساط میں راقم الحروف نے اس امر کا تفصیلی جائزہ لیا تھا کہ کس طرح بھرتیوں میں بے لگام خودمختاری، کمزور قیادت، اور احتساب کے فقدان نے پنجاب کی جامعات کو ایک ایسے بحران سے دوچار کر دیا ہے جہاں میرٹ ایک خواب اور ہر

تیسویں پارے کا آغاز سورۃ نباء سے ہوتا ہے جس میں اللہ تعالی نے قیامت کی گھڑیوں کا ذکر کیا ہے کہ قیامت کی آمد ایک بہت بڑی خبر ہوگی اس کی آمد سے قبل بہت سے لوگوں کو اس کے ہونے کے بارے میں شبہات





























