اس سال یومِ عرفہ پر 1993 کے بعد پہلی بار ایک نہایت نایاب فلکیاتی منظر دیکھنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جس میں سورج براہِ راست خانہ کعبہ کے عین اوپر آ جائے گا۔
دبئی میں ماہرین فلکیات کے مطابق یہ غیر معمولی قدرتی مظہر 27 مئی 2026 کو دوپہر کے وقت متوقع ہے، جو ہجری کیلنڈر کے مطابق 9 ذوالحجہ 1447 یعنی یومِ عرفہ کے دن ہوگا۔ اس موقع پر سورج بالکل مکہ مکرمہ میں خانہ کعبہ کے اوپر عمودی زاویے پر ہوگا، جس کے باعث وہاں سایہ تقریباً مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔
ماہرین کے مطابق عام حالات میں خانہ کعبہ کے اوپر سورج کا یہ مخصوص زاویہ سال میں دو مرتبہ بنتا ہے، جس کی بنیادی وجہ مکہ مکرمہ کا جغرافیائی محلِ وقوع ہے جو تقریباً 21.4 درجے شمالی عرض بلد پر واقع ہے۔ اس دوران سورج خطِ استوا اور مدارِ سرطان کے درمیان اپنی ظاہری حرکت مکمل کرتا ہے۔
تاہم اس سال اس مظہر کی خاص اہمیت یہ ہے کہ یہ یومِ عرفہ کے ساتھ ہم آہنگ ہو رہا ہے، جو ایک انتہائی نایاب اتفاق سمجھا جا رہا ہے۔ اس سے قبل ایسا منظر 1993 میں دیکھا گیا تھا۔ ماہرین کے مطابق یہ ہم آہنگی قمری اور شمسی کیلنڈرز کے فرق کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے اور تقریباً 33 سال بعد دوبارہ ایک ہی تاریخ پر اس طرح کا اتفاق ممکن ہوتا ہے۔
سعودی عرب کے نیشنل سینٹر فار میٹرولوجی نے واضح کیا ہے کہ یہ ایک مکمل قدرتی فلکیاتی عمل ہے اور اس کا درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں۔
ادارے کے ترجمان کے مطابق موسم کی شدت کا انحصار مختلف عوامل جیسے نمی، بادلوں کی موجودگی، ہوا کی رفتار اور فضائی دباؤ پر ہوتا ہے، نہ کہ صرف سورج کی سیدھ یا زاویے پر۔
انہوں نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ موسم سے متعلق درست معلومات کے لیے صرف مستند ذرائع پر انحصار کریں اور افواہوں سے گریز کریں۔







