کچےمیں ہرسال گندم پکنےپرپکاآپریشن کیوں پلان ؟،16سوالات ،قوم جواب کی منتظر

کچےمیں ہرسال گندم پکنےپرپکاآپریشن کیوں پلان ؟،16سوالات ،قوم جواب کی منتظر

ساراسال وارداتیں،آپریشن مارچ،اپریل میں کیوں؟،آپریشن گندم پکنےپرکیوںشروع؟،کٹائی کیلئے جدیدہارویسٹراستعمال،قرقی کاقانون ابھی تک کیوں ختم نہ ہوا؟

قرقی کاریکارڈ؟پنجاب ،سندھ میںکاشت کاریکارڈ؟پولیوورکر،الیکشن عملہ ودیگرعملہ محفوظ،مارچ ،اپریل میںوارداتیں کیوں؟اربوں کی گندم کاشت،کھال کیوں دیاجاتا؟

فصل قرق توپھروارداتیں ہی ہونگی،ڈیرہ پولیس نیٹ ورک کیوں ختم؟آئی جی کوئی موقف دینگے؟ فرضی ویڈیوزاپ لوڈ،چھوٹوکیسے رہاہوا؟مقدمات کیسے ختم ہوجاتے ہیں؟

ملتان ( میاں غفار سے ) کچے کے علاقوں میں آئندہ چند دنوں میں شروع ہونے والے آپریشن کلین اپ کے حوالے سے چند سو الات کچھ اس طرح سے ہیں۔ یہ سوالات ہر سال انہی دنوں میں اٹھائے جاتے ہیں مگر کسی کے پاس کبھی بھی اس کا جواب نہیں دیکھنے میں آیا۔
1۔ پہلا سوال یہ ہے کہ یہ آپریشن ہر سال مارچ کے آخر اور اپریل کے شروع میں ہی کیوں پلان ہوتا ہے۔ کیا کچے کے ڈاکو سارا سال وارداتیں نہیں کرتے اور تاوان کیلئے لوگوں کو اغوا نہیں کرتے۔
2۔ یہ دنیا بھر میں اپنی نوعیت کا واحد آپریشن ہے جو گندم پکنے پر ہی کیوں شروع ہوتا ہے اور کچے کے علاقوں میں صرف ایک ہی فصل ہوتی ہے اور وہ گندم کی ہوتی ہے کیونکہ ستمبر میں تو دریائے سندھ کی چوڑائی بہت بڑھ جاتی ہے اور تقریباً 10 سے 15 کلو میٹر چوڑائی میں دریا کے دونوں اطراف پانی سے بھر جاتے ہیں پھر اگر کسی نے کپاس کاشت بھی کی ہو تو فصل برباد ہو جاتی ہے لہٰذا کچے کے لوگوں کا واحد ذریعہ آمدن گندم ہی ہوتی ہے اور یا پھر وہ بھیڑ بکریاں پالتے ہیں۔
3۔ یہ اپنی طرز کا منفرد آپریشن کلین اپ ہے جس میں گندم کی کٹائی کرنے والے جدید ہارویسٹر استعمال ہوتے ہیں اور رواں سال کیلئے بھی ہارویسٹر بُک ہو چکے ہیں۔
4۔ انگریزوں کا بنایا ہوا قرقی کا کالا قانون پاکستان میں اب تک کیوں ختم نہیں ہو سکا کہ جس کو بھی سماج یا سرکار دشمن ڈکلیئر کرو اس کی املاک‘ جائیداد اور فصل بحق سرکار ضبط کر لو۔ اس قانون کا اطلاق تین سال قبل ملتان کی تحصیل شجاع آباد میں ملک سنگھار نامی ایک اے ایس پی نے کیا تھا اور ایک اشتہاری کے والد کی آموں کی تمام تر فصل قرق کر لی تھی۔
5۔ گذشتہ سال یا پھر گذشتہ 16 آپریشنز میں جو گندم قرق کی گئی اس کا کوئی ریکارڈ حکومت پنجاب کے پاس موجود ہے؟۔ اگر قرق شدہ گندم حکومت کے پاس جمع ہوتی ہے تو اس کا کوئی تو ریکارڈ ضرور ہی ہوتا ہو گا۔ کیا کبھی کسی بھی حکومت نے اس قرقی کو تسلیم کیا؟۔
6۔ کیا کبھی حکومت پنجاب نے اعداد و شمار جاری کئے کہ کچے کے ڈاکوئوں سے کتنی مقدار میں گندم قرق ہوئی ہے؟۔ کیا کبھی حکومت نے اعداد و شمار حاصل کئے کہ پنجاب کے راجن پور‘ ڈیرہ غازی خان‘ مظفر گڑھ اور رحیم یار خان کے درمیان دریا کی بیٹ میں کتنی گندم کاشت ہوئی۔
7۔ کیا کبھی سندھ حکومت نے کوئی اعداد و شمار مرتب کئے کہ دریائے سندھ کے اطراف میں ضلع گھوٹکی‘ سکھر‘ شکار پور‘ کندھ کوٹ‘ کشمور کے اضلاع میں جو بھی کچے کا علاقہ آتا ہے وہاں کتنے ایکڑ زمین پر سالانہ ایک ہی فصل یعنی گندم کاشت ہوتی ہے۔
8۔ جب پولیو ورکر‘ الیکشن عملہ ‘ محکمہ زراعت اور محکمہ لائیو سٹاک کا عملہ کچے کے علاقوں میں سارا سال ڈیوٹی دیتا ہے مگر ان کے اغوا کے واقعات صرف مارچ اور اپریل میں ہی کیوں سامنے آتے ہیں۔
9۔ ہزاروں اور لاکھوں ایکڑ اراضی پر اربوں کی جو گندم کاشت ہوتی ہے۔ 6 ماہ اسے لوگ پانی دیتے ہیں جب وہ پک جاتی ہے اور کٹائی کے قریب ہوتی ہے تو بہت سی گوٹھوں اور اکا دکا گھروں سے لوگوں کو کھال کیوں دیا جاتا ہے۔
10۔ جب ان لوگوںکی سال کی واحد آمدن کا ذریعہ ہی قرقی کے قانون کی بھینٹ چڑھ جائے گا تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کی کمائی کا واحد ذریعہ واردات کے علاوہ رہ ہی کیا جاتا ہے۔
11۔ 2006ء سے 2009ء تک ڈیرہ غازی خان پولیس نے کچے کے علاقوں میں ایک منظم نیٹ ورک بنایا تھا اور پولیس کو پل پل کی مخبری ہوتی تھی۔ وہ نظام کس نے ختم کیا اور بحال کیوں نہیں ہو سکا۔
12۔ سارا سال ڈاکوئوں کی اس طرح کی دھمکی آمیز ویڈیو تو منظر عام پر آتی نہیں۔ نہ ان دنوں میں آتی ہے جن دنوں گندم کی بوائی ہوتی ہے اور دور دور تک فضا بھی صاف ہوتی ہے۔ یہ آپریشن نومبر میں بھی ہو سکتا ہے مگر حیران کن طور پر تمام آپریشن مارچ کے آخر میں کیوں ہوتے ہیں۔ کیا آئی جی پنجاب اس بارے کوئی مؤقف اپ لوڈ کریں گے۔
13۔ ایک تاثر یہ بھی ہے کہ بعض تھرڈ کلاس قسم کے شوباز نوجوانوں کو بٹھا کر مقامی پولیس اہلکار دھمکی آمیز ویڈیو اپ لوڈ کر کے خوف کا ماحول پیدا کرتے ہیں اور پھر آپریشن شروع ہو جاتا ہے اور یہ ساری کارروائیاں سندھ اور پنجاب کے نچلے درجے کے پولیس اہلکار کراتے ہیں کیونکہ مصدقہ ذرائع کے مطابق ویڈیو بنانے والے بعد میں غائب ہو جاتے ہیں۔
14۔ سندھ اور پنجاب کے کچے کے علاقوں سے جو خطرناک ملزم گرفتار ہوتے ہیں وہ ضمانت کیسے کرا لیتے ہیں‘ ان کے مقدمات کیسے ختم ہوتے ہیں اور وہ دوبارہ جرائم کی دنیا میں دوبارہ کیسے داخل ہو جاتے ہیں۔
15۔ کیا ڈیرہ غازی خان ڈویژن پولیس نے غلام رسول چھوٹو کو گرفتار نہیں کیا تھا۔ کیا وہ چار سال جیل کاٹ کر کمزور تفتیش اور کمزور شہادتوں کی بنیاد پر رہائی نہیں پا گیا تھا۔ اس نے رہائی کے بعد دوبارہ اندھیر مچایا تو پھر کیا کمزور تفتیش‘ کمزور شہادتوں اور خانہ پُری کی پیروی کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف کوئی کارروائی ہوئی۔
16۔ اب پھر سے گندم کی ہزاروں ایکڑ رقبے پر اربوں روپے کی گندم بھی تیار ہے اور ہارویسٹر بھی تیار ہیں۔ پھر سے گندم اٹھائی جائے گی اور گورنمنٹ کے کس ہیڈ میں جائے گی اس پر مکمل خاموشی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں