پنڈی مال روڈ واقعے کا ملزم کے پی ہاؤس میں رہتا اور پی ٹی آئی قیادت سے ملتا رہا: طلال چوہدری

اسلام آباد: وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت راولپنڈی مال روڈ واقعے سے خود کو مکمل طور پر بری الذمہ قرار نہیں دے سکتی۔ ان کے مطابق واقعے میں ہلاک ہونے والا ملزم خیبر پختونخوا ہاؤس میں قیام کرتا رہا اور تحریک انصاف کی قیادت سے بھی ملاقاتیں کرتا رہا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ راولپنڈی مال روڈ پر گزشتہ روز ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں ایک سیاسی جماعت سے وابستہ کارکن نے بلاخوف فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں سکیورٹی فورس کا ایک اہلکار زخمی ہوا۔
وزیر مملکت نے کہا کہ پی ٹی آئی قیادت کو بارہا کہا گیا کہ نفرت، انتشار اور تشدد کی سیاست سے گریز کیا جائے اور نوجوانوں کے ذہنوں میں نفرت نہ بھری جائے۔ ان کے مطابق نفرت اور انتشار کی سیاست کے نتیجے میں 9 مئی اور 26 نومبر جیسے واقعات پیش آئے اور اسی سوچ کا اظہار گزشتہ روز کے واقعے میں بھی ہوا۔
طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی قیادت یہ کہہ کر ذمہ داری سے دستبردار نہیں ہوسکتی کہ مذکورہ شخص کا پارٹی سے کوئی تعلق نہیں تھا یا وہ ذہنی طور پر متوازن نہیں تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر اس شخص کا ذہنی توازن درست نہیں تھا تو اس نے اپنے اہل خانہ پر حملہ کیوں نہیں کیا اور اپنی جماعت کے کسی رہنما کو نشانہ کیوں نہیں بنایا؟ جس سکیورٹی اہلکار پر حملہ کیا گیا، وہ کسی سیاسی جماعت کا کارکن نہیں تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ مذکورہ کارکن خیبر پختونخوا ہاؤس میں قیام کرتا رہا اور پارٹی قیادت سے ملاقاتیں بھی کرتا رہا۔ ان کے مطابق واقعے میں ملوث شخص کے پاس پارٹی کا جھنڈا بھی موجود تھا، جبکہ سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز بھی موجود ہیں جن میں وہ سکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائیوں میں نظر آتا ہے۔
وزیر مملکت نے سوال اٹھایا کہ اگر پارٹی قیادت اس شخص کے نظریات سے واقف نہیں تھی تو اسے احتجاجی مظاہروں میں فرنٹ لائن پر کیوں رکھا جاتا رہا؟ انہوں نے کہا کہ توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کو سیاست کا نام نہیں دیا جاسکتا۔
طلال چوہدری نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ایک سیاسی جماعت کی 17 سال سے حکومت ہے، اسے سوچنا چاہیے کہ اس عرصے میں عوام کو کیا دیا گیا۔ ان کے مطابق تشدد اور جلاؤ گھیراؤ سے نہ سیاسی جماعت کی خدمت ہوتی ہے اور نہ ہی صوبے کے عوام کا فائدہ۔
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ 27 ستمبر کو بھی اسی طرح کی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب کارکنوں کے ذہنوں میں نفرت اور اشتعال پیدا کیا جائے گا تو ایسے واقعات دوبارہ بھی ہوسکتے ہیں۔
طلال چوہدری نے بانی پی ٹی آئی کے بیانات اور تقاریر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ذریعے عوام میں نفرت اور انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی اہلکاروں اور شہید ہونے والوں کی توہین ناقابل قبول ہے اور سوشل میڈیا پر بعض پوسٹس میں شہدا کا مذاق اڑایا گیا۔
وزیر مملکت برائے داخلہ نے بتایا کہ راولپنڈی واقعے کی تحقیقات میں پیشرفت ہوئی ہے اور شفاف انداز میں تفتیش جاری ہے، جس کے نتائج بھی سامنے لائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کو سیاسی عدم استحکام کا شکار نہیں ہونے دے گی اور کسی بھی حملے کی صورت میں قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں