بہاولپور (ڈسٹرکٹ رپورٹر) پاکستان ریلوے ملتان ڈویژن کے انجینئرنگ شعبے، خصوصاً شجاع آباد سیکشن میں مبینہ گھوسٹ ملازمین، ٹی ایل اے نفری کی غیر مجاز تقسیم، فیلڈ ڈیوٹی سے استثنیٰ اور ماہانہ مالی وصولیوں کے الزامات نے محکمانہ نگرانی اور احتساب کے نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق بعض ملازمین کو مبینہ طور پر عملی ڈیوٹی سے الگ رکھ کر ان سے ماہانہ رقم وصول کی جاتی رہی، جبکہ حاضری اور نفری کی تعیناتی کے ریکارڈ کی شفافیت بھی مشکوک قرار دی جا رہی ہے۔ الزامات کی آزادانہ تصدیق ہونا ابھی باقی ہے، تاہم معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات ناگزیر دکھائی دیتی ہیں۔ذرائع کے مطابق اے ڈبلیو آئی محمد ساجد گزشتہ تقریباً چار سال سے شجاع آباد سیکشن میں تعینات ہیں، جبکہ پی ڈبلیو آئی محمد جمشید نے چھٹی کے بعد دوبارہ چارج سنبھال لیا ہے۔ الزام ہے کہ سیکشن کی نفری اور ٹی ایل اے ملازمین کی ڈیوٹیوں کے انتظام میں اختیارات کی تقسیم واضح نہیں، جبکہ محمد جمشید کی جانب سے محمد ساجد کو وسیع اختیارات دیے جانے کے دعوے بھی سامنے آئے ہیں۔ اس حوالے سے اصل تحریری احکامات، منظور شدہ ذمہ داریوں اور مجاز افسر کی منظوری کا ریکارڈ سامنے لانا ضروری ہے۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بعض گینگز میں تعینات دو سے تین ٹی ایل اے ملازمین کو مبینہ طور پر فیلڈ ڈیوٹی سے الگ رکھا گیا، جبکہ ان کی حاضری اور عملی موجودگی کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ مزید الزام ہے کہ ڈیوٹی سے مبینہ استثنیٰ کے عوض ماہانہ مالی وصولیاں ہوتی رہیں۔ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو معاملہ محض انتظامی غفلت تک محدود نہیں رہے گا بلکہ سرکاری وسائل کے استعمال، حاضری کے نظام اور ممکنہ مالی بے ضابطگیوں کی باقاعدہ تحقیقات کا متقاضی ہوگا۔ریلوے انجینئرنگ شعبے کی ذمہ داری ٹریک کا باقاعدہ معائنہ، مرمت، دیکھ بھال اور محفوظ ٹرین آپریشن کے لیے ضروری انتظامات یقینی بنانا ہے۔ ایسے میں اگر منظور شدہ نفری کاغذوں میں موجود ہو لیکن عملی طور پر فیلڈ میں دستیاب نہ ہو تو ٹریک کی نگرانی اور حفاظتی کام متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ تاہم شجاع آباد سیکشن میں کسی حقیقی حفاظتی کوتاہی کی تصدیق تکنیکی معائنے، ڈیوٹی ریکارڈ اور محکمانہ تحقیقات کے ذریعے ہی کی جا سکتی ہے۔متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ شجاع آباد سیکشن کی منظور شدہ نفری، اصل تعیناتیوں، ڈیوٹی روسٹر، گینگ رجسٹر، حاضری ریکارڈ اور فیلڈ میں ملازمین کی عملی موجودگی کا فوری تقابلی جائزہ لیا جائے۔ گزشتہ چار سال کا ریکارڈ طلب کرکے یہ بھی جانچا جائے کہ اے ڈبلیو آئی محمد ساجد اور پی ڈبلیو آئی محمد جمشید کی ذمہ داریاں کیا تھیں، ٹی ایل اے ملازمین کی ڈیوٹیاں کس افسر نے منظور کیں اور گینگز میں نفری کی تقسیم کس بنیاد پر کی جاتی رہی۔مبینہ مالی وصولیوں اور ڈیوٹی سے استثنیٰ کے الزامات کی تحقیقات پاکستان ریلوے کے ویجیلنس شعبے یا کسی غیر جانب دار تحقیقاتی فورم سے کرانے کا مطالبہ بھی سامنے آیا ہے۔ تحقیقات کے دوران متعلقہ ملازمین کے بیانات، مالی لین دین سے متعلق قابلِ تصدیق شواہد، تحریری احکامات، حاضری رجسٹر، دستیاب ڈیجیٹل ریکارڈ اور فیلڈ ڈیوٹی کی تفصیلات کا جائزہ لیا جائے۔ جہاں قانوناً دستیاب اور متعلقہ ہوں، وہاں دیگر قابلِ تصدیق شواہد بھی حاصل کیے جائیں تاکہ ذمہ داری کا تعین محض الزامات کی بنیاد پر نہیں بلکہ ٹھوس ریکارڈ کے مطابق ہو۔میڈیا میں معاملے کی نشاندہی کے باوجود شجاع آباد سیکشن میں مبینہ بے ضابطگیوں پر مؤثر کارروائی سامنے نہ آنے کے حوالے سے ڈی ایس ریلوے ملتان خالد خان کی انتظامیہ سے سوالات کیے جا رہے ہیں۔ ڈویژنل انتظامیہ کا باضابطہ مؤقف خبر کی تیاری تک موصول نہیں ہو سکا۔ انتظامیہ سے یہ وضاحت طلب ہے کہ آیا معاملے کی انکوائری شروع کی گئی، متعلقہ ریکارڈ تحویل میں لیا گیا، نفری کی عملی جانچ کی گئی یا کسی ذمہ دار افسر سے جواب طلبی کی گئی۔سابق ڈی ایس ریلوے محمد حنیف گل کے دور میں میڈیا کی نشاندہی پر دو انسپکٹرز آف ورکس اور ایک ایس ٹی کے خلاف قانونی کارروائی کی مثال بھی زیرِ بحث ہے۔ موجودہ انتظامیہ سے تقاضا کیا جا رہا ہے کہ اسی معیار کے مطابق الزامات کی غیر جانب دارانہ جانچ کرکے واضح کیا جائے کہ شجاع آباد سیکشن میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف اب تک کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔اس معاملے پر پی ڈبلیو آئی محمد جمشید سے مؤقف لینے کے لیے رابطہ کیا گیا، جبکہ اے ڈبلیو آئی محمد ساجد سے متعدد مرتبہ رابطہ کیا گیا۔ محمد ساجد نے مؤقف اختیار کیا کہ شجاع آباد سیکشن کی ذمہ داری پی ڈبلیو آئی محمد جمشید کی ہے، ان کی نہیں؛ محمد جمشید چھٹی پر گئے تھے اور اب دوبارہ چارج سنبھال چکے ہیں، اس لیے ان سے رابطہ کیا جائے۔ ریلوے ترجمان سے بھی مؤقف لینے کے لیے رابطہ کیا گیا، تاہم خبر کی اشاعت تک جواب موصول نہیں ہوا۔شجاع آباد سیکشن میں مبینہ گھوسٹ ملازمین، غلط حاضری، غیر مجاز تعیناتیوں، ماہانہ مالی وصولیوں اور اختیارات کے ممکنہ ناجائز استعمال کے الزامات کی حتمی حقیقت تحقیقات سے ہی سامنے آ سکتی ہے۔ متعلقہ افسران اور ملازمین کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا مکمل موقع دیتے ہوئے ریکارڈ کی بنیاد پر ذمہ داری طے کی جائے۔ اگر الزامات ثابت ہو جائیں تو ذمہ دار افراد کے خلاف پاکستان ریلوے کے قوانین کے مطابق کاروائی کی جائے۔







