ملتان (کرائم سیل) قبرستانوں میں مردوں کو سکون نصیب نہ ہوا، زندہ نسلوں کا مستقبل بھی داؤ پر لگ گیا! منشیات فروشوں نے قبرستانوں کو بھی دھندے کا مرکز بنا لیا، جبکہ آئس اور چرس کے پھیلتے دھندے نے نوجوانوں اور کم عمر لڑکوں کو نشے کی دلدل میں دھکیلنا شروع کر دیا۔ جنوبی پنجاب کے معروف پاک مائی قبرستان، مکران کالونی اور محلہ غلام آباد میں منشیات فروشی،پولیس اہلکارکی مبینہ سہولت کاری کی اطلاعات نے شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی، اعلی حکام سے خفیہ معلومات و سخت ایکشن کامطالبہ کردیا۔ ذرائع کے مطابق راناندیم نامی پولیس اہلکار مبینہ طور پر ان علاقوں میں منشیات فروشوں سے فی کس 20 ہزار روپے ماہانہ منتھلی وصول کرتا ہے، جو ہر ہفتے 5،5 ہزار روپے کی صورت میں اکٹھی کی جاتی ہے۔ہرماہ مجموعی طورپرلاکھوں روپے اکٹھے کرلئے جاتے ہیں جن کے عوض منشیات فروشوں کی سہولت کاری کی جاتی ہے اورانہیں مبینہ تحفظ کی یقین دہانی کرائی جاتی ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ راناندیم نامی اہلکارپہلے منشیات فروش کو پکڑتا ہے، پھر مبینہ طور پر رشوت لے کر چھوڑ دیتا ہے اور بعدازاں اس سے باقاعدہ ہفتہ طے کر لیتا ہے۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ منشیات کے زہر نے پہلے ہی متعدد خاندانوں کو پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے اور کم عمر لڑکوں کا نشے کی لت میں مبتلا ہونا معاشرتی المیے کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ قابل ذکر امر یہ ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب میڈم مریم نواز شریف، آئی جی پنجاب راؤ عبدالکریم، ایڈیشنل آئی جی سی سی ڈی پنجاب سہیل ظفر چٹھہ سمیت متعلقہ حکام کی جانب سے منشیات کے خلاف کارروائیوں پر زور دیا جا رہا ہے، جبکہ سی پی او ملتان اختر فاروق اور ایس پی کینٹ میڈم ڈاکٹر خدیجہ بھی منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ منشیات کے خلاف مہم جاری ہو تو مبینہ طور پر منشیات فروشوں سے ہفتہ وصول کرنے کے الزامات کیسے جنم لیتے ہیں؟ اگر قبرستان بھی منشیات فروشوں کے لیے محفوظ ٹھکانے بن جائیں تو زندہ نسلوں کو کون بچائے گا؟ شہریوں نے سی پی او ملتان اور ایس پی کینٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ پاک مائی قبرستان، مکران کالونی اور محلہ غلام آباد میں منشیات فروشی کے خلاف خفیہ معلومات لیں۔ مؤثر کارروائی، مبینہ ہفتہ وصولی کی غیر جانب دارانہ تحقیقات اور ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق اقدامات کیے جائیں تاکہ قبرستانوں کی حرمت اور نوجوان نسل کا مستقبل محفوظ بنایا جا سکے۔شہری حلقوں کاکہناہے کہ دین اسلام کی تعلیمات کے مطابق قبرستانوں میں مرحومین کے ایصال ثواب کیلئے تلاوت قرآن کرنی چاہئے اوردعائیں کرنی چاہئیں لیکن یہاں قبرستان میں منشیات فروخت کی جارہی ہیں۔اس حوالے سے انسداد منشیات کیلئے کام کرنے والے دیگر اداروں کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان ہے۔دوسری جانب تھانہ قطب پور میں حال ہی میں تعینات ہونے والے ایس ایچ او لعل خان نے اپنے موقف میں کہاہے کہ منشیات فروش معاشرے کا ناسور ہیں اور ان کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ رانا ندیم نامی اہلکار کے مبینہ ملوث ہونے کی بھی تحقیقات کی جائیں گی ، کسی بھی منشیات فروش اوراس کے کسی بھی سہولت کار کونہیں چھوڑاجائےگا۔







