ملتان (شیخ نعیم) ملتان سمیت مضافاتی علاقوں میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 94 ٹریفک حادثات پیش آئے، جن میں سے 90 حادثات ملتان شہر میں جبکہ 2 شجاع آباد اور 2 جلال پور پیر والا میں رپورٹ ہوئے۔ حادثات کی یہ تعداد شہر میں ٹریفک قوانین پر عملدرآمد، ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے اور حادثات کی روک تھام کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر سوالات اٹھا رہی ہے۔ شہری حلقوں کی جانب سے ٹریفک پولیس اور سیف سٹی حکام کی کارکردگی پر بھی تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے، کیونکہ شہر کی اہم شاہراہوں پر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیاں معمول بنتی جا رہی ہیں، جبکہ ان کی مؤثر روک تھام کے لیے عملی اقدامات دکھائی نہیں دیتے۔شہریوں کے مطابق ملتان کی مختلف شاہراہوں اور چوراہوں پر تیز رفتار کاریں، موٹرسائیکلیں، رکشے، چنگ چی رکشے اور دیگر گاڑیاں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرتی نظر آتی ہیں۔ ون وے کی خلاف ورزی، رانگ سائیڈ پر گاڑیاں چلانے، تیز رفتاری اور ٹریفک کے دیگر ضابطوں کو نظرانداز کرنے کے باعث نہ صرف ٹریفک کی روانی متاثر ہوتی ہے بلکہ حادثات کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ بالخصوص موٹر سائیکل سواروں اور رکشہ ڈرائیوروں کی جانب سے قوانین کی خلاف ورزی دیگر شہریوں کے لیے مشکلات پیدا کرتی ہے، تاہم ان خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے مؤثر نگرانی اور فوری کارروائی کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ ملتان میں ٹریفک وارڈنز کی تعیناتی اور سیف سٹی کیمروں کے وسیع نگرانی نظام کے باوجود اگر روزانہ کی بنیاد پر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیاں جاری رہیں تو ان اقدامات کے عملی نتائج کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ سیف سٹی کیمروں کا بنیادی مقصد صرف واقعات کی ویڈیو ریکارڈنگ تک محدود نہیں بلکہ ان کے ذریعے خلاف ورزیوں کی نشاندہی، متعلقہ حکام کو بروقت اطلاع اور قانون شکن عناصر کے خلاف کارروائی میں بھی مدد ملنی چاہیے۔ اسی طرح ٹریفک وارڈنز کی ذمہ داری محض مخصوص مقامات پر موجودگی یا کارروائیوں کی تشہیر نہیں بلکہ سڑکوں پر ٹریفک کی روانی برقرار رکھنا، قوانین پر عملدرآمد یقینی بنانا اور حادثات کی روک تھام کے لیے مسلسل فیلڈ ڈیوٹی انجام دینا بھی ہے۔شہریوں کی جانب سے یہ شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں کہ ٹریفک پولیس کی کارروائیاں اکثر تصاویر اور فوٹو سیشن تک محدود دکھائی دیتی ہیں، جبکہ شہر کی مصروف شاہراہوں پر ون وے، رانگ سائیڈ اور دیگر خلاف ورزیوں کے خلاف مستقل اور مؤثر کارروائی کی ضرورت ہے۔ اگر سیف سٹی کیمروں کے ذریعے خلاف ورزیوں کی نشاندہی ہو رہی ہے تو اس کے نتیجے میں قانون شکن ڈرائیوروں کے خلاف کیا کارروائی کی جا رہی ہے، اس حوالے سے بھی شفافیت ضروری ہے۔ محض کیمروں کی تنصیب اور ٹریفک وارڈنز کی موجودگی اس وقت تک مؤثر ثابت نہیں ہو سکتی جب تک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو جواب دہ نہ بنایا جائے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران رپورٹ ہونے والے 94 حادثات میں سے 90 کا ملتان شہر میں پیش آنا متعلقہ حکام کی خصوصی توجہ کا متقاضی ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اہم شاہراہوں، مصروف چوراہوں اور حادثات کے زیادہ خطرے والے مقامات پر ٹریفک وارڈنز کی مؤثر ڈیوٹیاں لگائی جائیں، سیف سٹی کیمروں کی مدد سے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرکے کارروائی کی جائے اور ون وے، رانگ سائیڈ اور تیز رفتاری کے خلاف بلاامتیاز اقدامات کیے جائیں۔ شہری حلقوں کے مطابق ٹریفک پولیس اور سیف سٹی حکام کو محض نگرانی اور کارروائیوں کی تشہیر کے بجائے عملی نتائج پر توجہ دینی چاہیے تاکہ حادثات میں کمی لائی جا سکے اور سڑکوں پر سفر کرنے والے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔







