راجن پور(ڈپٹی بیورو چیف) رپورٹ کے مطابق اس وقت ضلع راجن پور ماحولیاتی آلودگی میں پاکستان بھر میں پہلے نمبر پر آگیا ہے۔راجن پور میں ماحولیاتی آلودگی کے
خطرات، موسم سرما کی آمد سےقبل از وقت اسموگ کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔بھٹہ خشت کا دھواں، دھواں چھوڑتی گاڑیاں، کوڑا جلانے اور درختوں کی کمی سے فضائی آلودگی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔موسم سرما کی آمد کے پیش نظر ضلع راجن پور میں فضائی آلودگی اور اسموگ کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہو گئے ہیں۔ بھٹہ خشت سے دھویں کا اخراج، گاڑیوں کا زہریلا دھواں، کوڑا اور فصلوں کی باقیات جلانا، گردوغبار اور درختوں کی کمی آلودگی کی بڑی وجوہات ہیں ہر سال موسم سرما شروع ہوتے ہی بزرگ بچوں کی بڑی تعداد سموگ سے شدید متاثر ہو کر ہسپتالوں میں پہنچ جاتے ہیں اس وقت بھی ماحول آلودہ ہونے سے نزلہ،زکام،فلو،دمہ اور کھانسی کے مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔شہریوں نے محکمہ تحفظ ماحولیات، محکمہ جنگلات، ٹریفک پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے بھٹوں میں زگ زیگ ٹیکنالوجی پر عمل درآمد، دھواں چھوڑتی گاڑیوں کے خلاف کارروائی اور شجرکاری کے منصوبوں کی مؤثر نگرانی کا مطالبہ کیا ہے۔ شہریوں کے مطابق ناقص نگرانی، عوامی آگاہی کی کمی اور قوانین پر غیر مؤثر عمل درآمد ماحولیاتی بہتری میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام متعلقہ ادارے مشترکہ مہم چلائیں، آلودگی پھیلانے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کریں اور مبینہ غفلت یا بدعنوانی کی شکایات کی شفاف تحقیقات کرائیں تاکہ موسم سرما میں شہریوں کو اسموگ اور آلودہ فضا کے مضر اثرات سے محفوظ رکھا جاسکے۔







