ساہیوال: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ پنجاب مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے جدید دور میں داخل ہو رہا ہے، جبکہ ان کے بقول خیبرپختونخوا ابھی پتھر کے دور میں ہے۔ انہوں نے یہ بات ساہیوال میں طلبہ میں لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ جو لوگ عوام کو شعور دینے کے دعوے کرتے تھے، انہوں نے عوام کی زندگیاں تباہ کر دیں۔ ان کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کسی دوسرے فریق نے ختم نہیں کی بلکہ خود پی ٹی آئی نے اپنے اقدامات کے باعث اپنی حکومت ختم کی۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ یہ پہلا لانگ مارچ تھا جو اپنی ہی حکومت کے خاتمے پر ختم ہوا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا کبھی ایسا دیکھا گیا ہے کہ ایک صوبہ دوسرے صوبے یا وفاق پر حملہ آور ہو جائے؟ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے عوام اب دیکھیں گے کہ ترقی کسے کہتے ہیں۔
مریم نواز نے مزید کہا کہ وہ عوام کی خدمت کا جذبہ لے کر گھر سے نکلی ہیں، جبکہ نواز شریف نے ملک میں موٹرویز کا وسیع نیٹ ورک قائم کیا۔ ان کے مطابق کراچی سے آنے والے بعض افسران نے بھی پنجاب کے مختلف محکموں میں عوامی خدمت کو سراہا، اور دوسرے صوبوں سے آنے والے افراد پنجاب کے ترقیاتی اقدامات کی تعریف کرتے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ پنجاب میں 3 ہزار الیکٹرک بسیں چلائی جائیں گی اور ان کا کرایہ 20 روپے برقرار رکھا گیا ہے۔ ان کے مطابق صوبے کی تمام تحصیلوں تک الیکٹرک بسوں کی سہولت پہنچائی جائے گی۔
وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ صوبے میں ایسے منصوبوں پر کام کیا جا رہا ہے جن میں نوجوانوں کی شمولیت کو اہمیت دی گئی ہے۔ طلبہ کو فراہم کی جانے والی الیکٹرک اسکوٹیز کی ماہانہ قسط 3 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے تاکہ ان پر مالی بوجھ کم سے کم رہے۔
مریم نواز نے بتایا کہ پنجاب میں مصنوعی ذہانت سے متعلق لیبارٹریاں قائم کی جا رہی ہیں اور صوبہ جدید ٹیکنالوجی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے وزارتِ اعلیٰ کا منصب سنبھالا تو انہیں معلوم ہوا کہ 80 فیصد جامعات میں وائس چانسلر تعینات نہیں تھے، تاہم اب یونیورسٹیوں میں میرٹ کی بنیاد پر سربراہان مقرر کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ تقرریوں میں سفارش قبول نہیں کرتیں، خواہ سفارش ان کے اپنے گھر سے ہی کیوں نہ آئے۔ مریم نواز نے کہا کہ پنجاب حکومت عوام تک خود پہنچنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور ان کا مقصد ہر شہری کو اس کی دہلیز پر سہولتیں فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب میں شہریوں کو ادویات گھروں تک پہنچانے کی سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے تاکہ انہیں علاج معالجے کے لیے غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔







