اسلام آباد: گزشتہ تین سال کے دوران 18 لاکھ 71 ہزار سے زیادہ اعلیٰ تعلیم یافتہ پاکستانیوں کے ملک چھوڑنے کا انکشاف ہوا ہے۔ ایوان میں پیش کردہ دستاویزات کے مطابق بیرونِ ملک جانے والوں میں ڈاکٹرز، انجینئرز، آئی ٹی ماہرین، منیجرز اور اساتذہ سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔
دستاویزات کے مطابق سال 2024 میں 45 ہزار 830 اعلیٰ تعلیم یافتہ پاکستانی بیرونِ ملک گئے، جبکہ 2025 کے دوران 28 ہزار 726 افراد نے بیرونِ ملک روزگار حاصل کیا۔ اسی طرح 2026 میں اب تک 15 ہزار 850 اعلیٰ تعلیم یافتہ پاکستانی ملک سے باہر جا چکے ہیں۔
منیجرز اور انجینئرز کی بیرونِ ملک روانگی
سرکاری دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ 2024 کے دوران 23 ہزار 674 منیجرز نے بیرونِ ملک کا رخ کیا، جبکہ 2025 میں یہ تعداد 9 ہزار 562 رہی۔ سال 2026 میں اب تک 5 ہزار 190 منیجرز بیرونِ ملک ملازمت کے لیے گئے۔
انجینئرز کے حوالے سے دستاویزات کے مطابق 2024 میں 8 ہزار 15، 2025 میں 5 ہزار 945 اور 2026 میں اب تک 3 ہزار 605 انجینئرز نے بیرونِ ملک روزگار حاصل کیا۔
اکاؤنٹنٹس اور ڈاکٹرز بھی ملک چھوڑنے والوں میں شامل
دستاویزات کے مطابق 2024 میں 4 ہزار 779 اکاؤنٹنٹس بیرونِ ملک گئے، جبکہ 2025 میں ان کی تعداد 4 ہزار 305 رہی۔ سال 2026 میں اب تک ایک ہزار 771 اکاؤنٹنٹس بیرونِ ملک روزگار کے لیے روانہ ہو چکے ہیں۔
ڈاکٹرز کی بیرونِ ملک روانگی سے متعلق اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں 3 ہزار 625، 2025 میں 3 ہزار 795 اور 2026 میں اب تک 2 ہزار 93 ڈاکٹرز پاکستان سے باہر گئے۔
اساتذہ کی بیرونِ ملک روانگی کے اعداد و شمار
سرکاری دستاویزات میں مزید بتایا گیا ہے کہ 2024 میں ایک ہزار 729 اساتذہ نے بیرونِ ملک کا رخ کیا، جبکہ 2025 میں یہ تعداد ایک ہزار 725 رہی۔ سال 2026 میں اب تک ایک ہزار 457 اساتذہ بیرونِ ملک گئے۔
اعلیٰ تعلیم یافتہ اور پیشہ ور افراد کی بیرونِ ملک روانگی سے متعلق یہ اعداد و شمار پاکستان میں ہنرمند افرادی قوت کی دستیابی، روزگار کے مواقع اور پیشہ ورانہ ترقی کے حوالے سے اہمیت رکھتے ہیں۔







