پاکستان مخالف بیانیہ برداشت نہیں کریں گے، مخالفین کی نسلیں تباہ کردیں گے، سینیٹر فیصل واوڈا-پاکستان مخالف بیانیہ برداشت نہیں کریں گے، مخالفین کی نسلیں تباہ کردیں گے، سینیٹر فیصل واوڈا-خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے معاملے پر جے یو آئی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کا اجلاس طلب-خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے معاملے پر جے یو آئی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کا اجلاس طلب-قواعد کی منظوری تک اسلام آباد میں غیر قانونی شیشہ کیفے بند کیے جائیں، چیف جسٹس ہائیکورٹ-قواعد کی منظوری تک اسلام آباد میں غیر قانونی شیشہ کیفے بند کیے جائیں، چیف جسٹس ہائیکورٹ-ایسی حکومت نہیں ہوسکتی جو دہشت گردوں سے ہمدردی رکھے، خیبر پختونخوا میں آئین کے مطابق اقدام کیا گیا، عطاء اللہ تارڑ-ایسی حکومت نہیں ہوسکتی جو دہشت گردوں سے ہمدردی رکھے، خیبر پختونخوا میں آئین کے مطابق اقدام کیا گیا، عطاء اللہ تارڑ-ریاست اور ملکی سالمیت کو نقصان پہنچانے کا الزام، اقرار الحسن 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر این سی سی آئی اے کے حوالے-ریاست اور ملکی سالمیت کو نقصان پہنچانے کا الزام، اقرار الحسن 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر این سی سی آئی اے کے حوالے

تازہ ترین

ایسی حکومت نہیں ہوسکتی جو دہشت گردوں سے ہمدردی رکھے، خیبر پختونخوا میں آئین کے مطابق اقدام کیا گیا، عطاء اللہ تارڑ

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں آئین کے تحت اقدامات کیے گئے ہیں، کوئی ایسی حکومت قابل قبول نہیں ہوسکتی جو دہشت گردوں کے لیے نرم گوشہ رکھے اور ایسی پالیسیاں اپنائے جن سے انہیں اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کا موقع ملے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے پاکستان تحریک انصاف اور خیبر پختونخوا حکومت کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی طے کرنے کے لیے مذاکرات کی متعدد کوششیں کیں، تاہم مقصد صرف دہشت گردی کے خلاف متحدہ اور غیر سیاسی مؤقف اختیار کرنا تھا۔
غیر ملکی نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی اپنا مارچ جاری رکھنے اور دیگر سیاسی مطالبات پیش کرنے میں آزاد تھی، لیکن وفاقی حکومت چاہتی تھی کہ دہشت گردی کے خلاف قومی سطح پر ایک متفقہ پالیسی اپنائی جائے۔ ان کے مطابق کسی بھی ملک میں دو الگ خارجہ پالیسیاں نہیں ہوسکتیں۔ ایک طرف وفاقی حکومت افغانستان کے حوالے سے سفارتی کوششیں کر رہی ہے اور عبوری افغان حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ختم کی جائیں، جبکہ دوسری طرف صوبائی حکومت کا مؤقف مختلف دکھائی دیتا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ آئین پاکستان میں متعلقہ دفعات ایسے حالات سے نمٹنے کے لیے شامل کی گئی تھیں، اس لیے خیبر پختونخوا میں اٹھائے گئے اقدامات 1973 کے آئین کے مطابق قانونی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے بقول صوبے میں انتظامی نظام مفلوج اور امن و امان کی صورت حال انتہائی خراب ہوچکی تھی۔
عطاء اللہ تارڑ نے دعویٰ کیا کہ ایسی اطلاعات موجود ہیں جن کے مطابق دہشت گردوں کی سرگرمیوں والے علاقوں میں دیگر سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کو محفوظ آمدورفت کی اجازت نہیں دی جاتی، جبکہ پی ٹی آئی کا مارچ مبینہ طور پر دہشت گرد تنظیموں سے رابطہ کاری کے بعد ان علاقوں سے گزرا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے خیبر پختونخوا میں مالی وسائل کے استعمال پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے تحت صوبائی حکومت کو اب تک تقریباً 800 ارب روپے فراہم کیے جاچکے ہیں۔ ان کے مطابق یہ رقم انسداد دہشت گردی کے محکمے (سی ٹی ڈی) کو مضبوط بنانے، سیف سٹی کیمروں کی تنصیب، فرانزک لیبارٹری کے قیام، پولیس کو جدید آلات کی فراہمی اور پرتشدد انتہا پسندی کے خلاف مؤثر بیانیہ تشکیل دینے پر خرچ کی جاسکتی تھی۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ چند ہفتے قبل کوہاٹ کے دورے کے دوران انہوں نے دہشت گردی کے واقعے میں زخمی ہونے والے افراد سے ہسپتال میں ملاقات کی اور شہدا کے اہل خانہ سے بھی تعزیت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے عوام دہشت گردی کے خاتمے کے خواہاں ہیں، تاہم مسلسل بدامنی کے باعث ان کی زندگی اور روزگار شدید متاثر ہورہے ہیں۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ طالبان کا پیش کردہ نظریہ حقیقی اسلام کی نمائندگی نہیں کرتا۔ ان کے مطابق طالبان خیبر پختونخوا میں ایسا نظام مسلط کرنا چاہتے ہیں جہاں خواتین کو تعلیم حاصل کرنے کے حقوق سے محروم رکھا جائے۔ انہوں نے سوال کیا کہ عوام کے جان و مال کی حفاظت اور امن و امان برقرار رکھنے کی ذمہ دار حکومت دہشت گردوں کے ساتھ مل کر ان کی سرگرمیوں کو کیسے فروغ دے سکتی ہے؟
وفاقی وزیر اطلاعات نے صوبے میں سیاست، دہشت گردی اور جرائم کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کا الزام بھی عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کان کنی، معدنیات، لکڑی، تمباکو، سونے اور قیمتی پتھروں کی تجارت کا جائزہ لیا جائے تو سرحد پار اسمگلنگ کی سرگرمیاں سامنے آتی ہیں، جبکہ ان معاملات میں دہشت گردوں کو مبینہ طور پر سرپرستی اور سہولت فراہم کی جاتی رہی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ کوہاٹ جاتے ہوئے ایک پٹرول پمپ پر وزیراعظم کی فیول ریلیف اسکیم کے تحت رجسٹریشن کا جائزہ لیا گیا، جہاں ان کے مطابق کسی موٹر سائیکل یا گاڑی کی رجسٹریشن نہیں ہوئی تھی۔ عطاء اللہ تارڑ نے سوال کیا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے گزشتہ ساڑھے 13 برسوں میں گاڑیوں کی رجسٹریشن کا نظام بہتر کیوں نہیں بنایا؟ انہوں نے اس صورت حال کو مبینہ بدعنوانی، غیر قانونی تجارت، اسمگلنگ اور دہشت گردوں کے ساتھ گٹھ جوڑ سے جوڑا۔
عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں تعلیم اور صحت سمیت بنیادی عوامی خدمات کے شعبوں میں خاطر خواہ اصلاحات نہیں ہوئیں۔ صوبے کے عوام کئی دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں اور اس کا خاتمہ چاہتے ہیں، لیکن ان کے بقول صوبائی حکومت کی پالیسیوں سے دہشت گردوں کو کارروائیاں جاری رکھنے کا موقع ملتا رہا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ خصوصاً جنوبی اضلاع میں دہشت گرد غیر رسمی طور پر انتظامی ڈھانچے کا حصہ بنے ہوئے تھے، جبکہ صوبائی حکومت ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرنے کے لیے تیار نہیں تھی۔ ان کے مطابق متعدد مواقع پر دہشت گردوں کے لیے ہمدردی کا اظہار کیا گیا۔ وفاقی حکومت نے مذاکرات اور دلائل کے ذریعے صوبائی قیادت کو قائل کرنے کی کوشش کی اور ایک معاہدے پر اتفاق بھی ہوگیا تھا، تاہم وزیراعلیٰ نے اسے مسترد کردیا۔ عطاء اللہ تارڑ کے مطابق وزیراعلیٰ دہشت گردی کے خلاف مربوط پالیسی نافذ کرنے پر آمادہ نہیں تھے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے قومی ایکشن پلان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹیاں موجود ہیں اور ان کے اجلاس بھی منعقد ہوتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ خیبر پختونخوا میں ان اجلاسوں کے انعقاد سے گریز کیوں کیا جاتا رہا، جبکہ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت سب سے زیادہ اسی صوبے میں ہے۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ اگر خیبر پختونخوا کے عوام پی ٹی آئی حکومت کے دہشت گردی سے متعلق مؤقف کی حمایت کرتے تو بڑی تعداد میں لوگ احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکلتے۔ ان کے مطابق گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی صورت میں لاکھوں افراد کے احتجاج اور گورنر ہاؤس کے گھیراؤ کے دعوے کیے گئے تھے، لیکن ان دعوؤں کے مطابق عوامی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبے کے عوام نے کیے گئے اقدامات کا خیرمقدم کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان اقدامات سے عوام میں بہتری کی امید پیدا ہوئی ہے اور انہیں توقع ہے کہ ان کے جان و مال، روزگار اور سلامتی کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا، جبکہ سیاست، دہشت گردی اور جرائم کے مبینہ گٹھ جوڑ کا خاتمہ ممکن ہوگا۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ نئی ٹیم میں مختلف شعبوں کا وسیع تجربہ رکھنے والے افراد شامل ہیں، جو عوامی خدمت کے میدان میں کام کرچکے ہیں۔ ان کے مطابق نئی مشاورتی کونسل میں قبائلی توازن اور صنفی نمائندگی کو مدنظر رکھا گیا ہے، جبکہ نجی اور سرکاری شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ ٹیم دہشت گردی کے خلاف مؤثر بیانیہ تشکیل دینے اور صوبے میں امن و استحکام کے لیے کردار ادا کرے گی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں