اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے غیر قانونی شیشہ کیفوں کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ جب تک شیشہ کیفوں کے لیے باقاعدہ قواعد و ضوابط وضع نہیں کیے جاتے، وفاقی دارالحکومت میں انہیں کھولنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
عدالت نے چیف کمشنر اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو آج دوپہر 2 بجے طلب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ دونوں افسران بیانِ حلفی جمع کرائیں کہ شہر میں کوئی غیر قانونی شیشہ کیفہ کام نہیں کرے گا۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے استفسار کیا کہ اسلام آباد میں غیر قانونی شیشہ کیفے کس طرح چل رہے ہیں اور کیا حکومت نے ان سرگرمیوں کو ضابطے میں لانے کے لیے کوئی قواعد تیار کیے ہیں؟ اس پر سرکاری وکیل نے بتایا کہ شیشہ کیفوں سے متعلق قواعد مرتب کرکے حکومت کو ارسال کردیے گئے ہیں اور جلد ان کی منظوری متوقع ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ قواعد کی منظوری تک تمام شیشہ کیفے بند کروا دیے جائیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس سے پہلے بھی یہی بات کی گئی تھی، تاہم اس وقت یہ مؤقف سامنے آیا تھا کہ شیشہ کیفے بند ہونے سے متعدد افراد بے روزگار ہوجائیں گے۔ عدالت نے سوال اٹھایا کہ کیا اس وقت فعال شیشہ کیفے مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق کام کر رہے ہیں؟
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت کے سابقہ حکم کو غلط انداز میں پیش کیا گیا اور یہ تاثر دیا گیا کہ چیف جسٹس نے شیشہ کیفے چلانے کی اجازت دے دی ہے، جس سے عدالت کی ساکھ متاثر ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ حکم کے ایک مخصوص پیراگراف کو الگ کرکے اجازت کا تاثر پیدا کیا گیا، اسی لیے وکیل کو سابقہ عدالتی حکم پڑھنے کی ہدایت کی گئی تاکہ اصل فیصلے کی وضاحت ہوسکے۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے مزید کہا کہ جب تک قواعد نہیں بنتے، شیشہ نوشی کی اجازت کیسے دی جاسکتی ہے؟ ان کے مطابق بچوں کو شیشہ پینے کی عادت ڈالی جا رہی ہے، جبکہ کارروائی کے لیے جانے والے حکام کو نجی ملکیت کا حوالہ دے کر بعض مقامات میں داخل ہونے سے روک دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت قواعد مرتب نہیں کرتی تو متعلقہ ادارے اپنے معیاری طریقہ کار (ایس او پیز) تیار کرلیں۔
سماعت کے دوران پراسیکیوٹر جنرل نے شیشہ کیفوں سے متعلق سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کیس کا حکم پڑھ کر سنایا اور بتایا کہ سپریم کورٹ اس سرگرمی پر پابندی عائد کرچکی ہے۔ چیف جسٹس نے واضح کیا کہ عدالت کی توجہ اسلام آباد میں قانون پر عمل درآمد یقینی بنانے پر ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر قواعد موجود نہیں تو کیا غیر قانونی سرگرمیوں کی اجازت دے دی جائے؟
وکیل قیصر امام نے کہا کہ شیشہ کیفوں کے معاملے پر گزشتہ چھ سال سے عدالتی احکامات جاری ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر عدالت کے حکم کو غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے تو اس حوالے سے وضاحت طلب کی جانی چاہیے۔
درخواست گزار کے وکیل نے تجویز دی کہ شیشہ کیفے 15 سے 20 روز کے لیے بند کردیے جائیں تاکہ اس دوران قواعد و ضوابط تیار کیے جاسکیں۔ ڈائریکٹر لیگل آئی جی آفس نے بھی مؤقف اختیار کیا کہ اگر اس سرگرمی کے لیے قانونی اجازت موجود نہیں تو اسے روکنا چاہیے، جبکہ پراسیکیوٹر جنرل نے عالمی ادارۂ صحت کی ہدایات کا حوالہ بھی دیا۔
دوسری جانب آئی جی اسلام آباد پولیس نے شیشہ کیفوں اور منشیات کے خلاف دائر کیس میں اپنا جواب عدالت میں جمع کرا دیا ہے۔ پولیس نے غفلت اور مؤثر کارروائی نہ کرنے کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے اپنی کارروائیوں کی تفصیلات پیش کی ہیں۔
پولیس رپورٹ کے مطابق یکم جنوری سے 15 جولائی 2026 تک خلاف ورزیوں پر 10 تھانوں میں 28 مقدمات درج کیے گئے، جبکہ ابتدائی مرحلے میں شیشہ نوشی اور متعلقہ قوانین کی خلاف ورزی کے الزامات پر 119 ملزمان کو نامزد کیا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 16 جولائی سے 7 ستمبر 2026 تک مزید 61 مقدمات درج ہوئے، جبکہ عدالتی احکامات کے بعد 13 تھانوں کی حدود میں 163 ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی۔
آئی جی اسلام آباد کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ شیشہ کیفوں اور منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل جاری ہے۔ 26 اپریل 2024 سے ’’نشہ اب نہیں‘‘ کے عنوان سے آگاہی مہم چلائی جا رہی ہے، جبکہ تعلیمی اداروں، ہاسٹلز، پارکوں اور بس اڈوں کے اطراف انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر پولیس گشت میں اضافہ کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسپیشل برانچ کو نئے اور پہلے سے قائم شیشہ کیفوں کے بارے میں معلومات جمع کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ نگرانی کے لیے تھانہ اور سب ڈویژن کی سطح پر خصوصی ٹیمیں بھی تشکیل دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ تجارتی مقامات پر نصب سی سی ٹی وی کیمروں کو سیف سٹی نظام سے منسلک کیا جا رہا ہے، جبکہ غیر قانونی شیشہ کیفوں کے خلاف کارروائی کے لیے خفیہ گاہکوں کی مدد سے آپریشن بھی کیے جا رہے ہیں۔
پولیس نے بتایا کہ شہری انفو ون ایپ سمیت دیگر ذرائع کے ذریعے غیر قانونی شیشہ کیفوں کی اطلاع دے سکتے ہیں اور تمام کارروائیوں کی مرکزی سطح پر نگرانی کی جا رہی ہے۔ آئی جی اسلام آباد نے عدالت سے استدعا کی کہ پولیس پر غفلت کے الزامات حقائق کے برعکس ہیں، لہٰذا درخواست نمٹا دی جائے۔
عدالت نے چیف کمشنر اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو دوپہر 2 بجے پیش ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ دونوں افسران کے بیاناتِ حلفی موصول ہونے کے بعد معاملے کا جائزہ لیا جائے گا۔







