پاکستان مخالف بیانیہ برداشت نہیں کریں گے، مخالفین کی نسلیں تباہ کردیں گے، سینیٹر فیصل واوڈا-پاکستان مخالف بیانیہ برداشت نہیں کریں گے، مخالفین کی نسلیں تباہ کردیں گے، سینیٹر فیصل واوڈا-خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے معاملے پر جے یو آئی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کا اجلاس طلب-خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے معاملے پر جے یو آئی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کا اجلاس طلب-قواعد کی منظوری تک اسلام آباد میں غیر قانونی شیشہ کیفے بند کیے جائیں، چیف جسٹس ہائیکورٹ-قواعد کی منظوری تک اسلام آباد میں غیر قانونی شیشہ کیفے بند کیے جائیں، چیف جسٹس ہائیکورٹ-ایسی حکومت نہیں ہوسکتی جو دہشت گردوں سے ہمدردی رکھے، خیبر پختونخوا میں آئین کے مطابق اقدام کیا گیا، عطاء اللہ تارڑ-ایسی حکومت نہیں ہوسکتی جو دہشت گردوں سے ہمدردی رکھے، خیبر پختونخوا میں آئین کے مطابق اقدام کیا گیا، عطاء اللہ تارڑ-ریاست اور ملکی سالمیت کو نقصان پہنچانے کا الزام، اقرار الحسن 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر این سی سی آئی اے کے حوالے-ریاست اور ملکی سالمیت کو نقصان پہنچانے کا الزام، اقرار الحسن 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر این سی سی آئی اے کے حوالے

تازہ ترین

پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز کا فریم ورک جلد حتمی شکل اختیار کر لے گا، شزہ فاطمہ

وفاقی وزیر برائے آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز کے لیے فکسڈ سیٹلائٹ سروسز فریم ورک کی تیاری آخری مراحل میں پہنچ چکی ہے، متعلقہ اداروں کے ساتھ مشاورت مکمل ہونے کے بعد ریگولیٹری فریم ورک کو جلد حتمی شکل دے دی جائے گی۔
ایشیا پیسیفک ٹیلی کمیونٹی سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے شزہ فاطمہ خواجہ کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیوں کو کاروبار کے لیے سازگار اور آسان ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان میں موبائل انٹرنیٹ کے استعمال میں خواتین اور مردوں کے درمیان ڈیجیٹل فرق 38 فیصد سے کم ہو کر 8 فیصد رہ گیا ہے۔ جی ایس ایم اے کے مطابق گزشتہ دو سال کے دوران پاکستان نے موبائل انٹرنیٹ کے استعمال میں صنفی فرق کم کرنے کے حوالے سے دنیا میں تیز رفتار پیش رفت کی ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ ڈھائی سال میں پاکستان میں تین نئی سب میرین انٹرنیٹ کیبلز بھی بچھائی گئی ہیں۔
شزہ فاطمہ نے کہا کہ ملک کی بین الاقوامی انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی کو مزید بہتر بنانے کے لیے متبادل راستوں اور نئی کیبل روٹس پر کام جاری ہے۔ یونیورسل سروس فنڈ کے تحت ملک بھر میں 17 ہزار کلومیٹر سے زیادہ آپٹیکل فائبر بچھائی جا چکی ہے، جبکہ فائبر براڈبینڈ کی ہوم پاسز کی تعداد 2024 میں 30 لاکھ سے کم تھی جو اب 50 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان میں موبائل ٹاورز کو آپٹیکل فائبر سے منسلک کرنے کی شرح 15 فیصد سے کم تھی، جو اب بڑھ کر 19 فیصد سے زیادہ ہو چکی ہے۔ حکومت نے اس شرح کو کم از کم 60 فیصد تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
وفاقی وزیر آئی ٹی کے مطابق مارچ 2026 میں 480 میگاہرٹز اسپیکٹرم کی نیلامی کے ذریعے پاکستان میں پہلی مرتبہ فائیو جی ٹیکنالوجی متعارف کرائی گئی۔ فائیو جی سروسز کی مؤثر فراہمی اور بہتر کارکردگی کے لیے موبائل ٹاورز کو آپٹیکل فائبر سے منسلک کرنا ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ضلعی سطح پر انٹرنیٹ سروسز کی فراہمی کے لیے سی وی اے ایس لائسنسز کے ذریعے مقامی کاروباری افراد کو مواقع دیے جا رہے ہیں۔ دیہی علاقوں میں مقامی افراد کو انٹرنیٹ سروس پرووائیڈر بنانے کے لیے نئے کاروباری ماڈل پر بھی کام کیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہر پندرہ روز بعد قومی کنیکٹیویٹی پلان پر عمل درآمد کی پیش رفت کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
شزہ فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ پاکستان میں ایک کروڑ سے زائد افراد نے ٹیکنالوجی پر مبنی نظام کے ذریعے ایندھن کی سبسڈی حاصل کی۔ زیادہ سے زیادہ شہریوں کو اس سہولت سے فائدہ پہنچانے کے لیے اسمارٹ فون کی شرط عائد نہیں کی گئی۔
وفاقی وزیر نے عالمی سطح پر ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں تقریباً 2 ارب 20 کروڑ افراد اب بھی انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم ہیں، جبکہ ایشیا پیسیفک خطے کی تقریباً 48 فیصد آبادی کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل نہیں، جو عالمی اوسط سے زیادہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی اب محض چند افراد کی سہولت نہیں رہی بلکہ تعلیم، صحت، قدرتی آفات سے نمٹنے، معاشی ترقی اور قومی سلامتی کے لیے بنیادی ضرورت بن چکی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں