عمرہ ویزےکی آڑ میں خاتون کو جنسی استحصال کیلئے سعودیہ بھیجنےکی کوشش ناکام-عمرہ ویزےکی آڑ میں خاتون کو جنسی استحصال کیلئے سعودیہ بھیجنےکی کوشش ناکام-نیا پراپرٹی ٹیکس مسترد، چیمبر آف سمال ٹریڈرز کا دفعہ 144 توڑنے، احتجاج کا اعلان-نیا پراپرٹی ٹیکس مسترد، چیمبر آف سمال ٹریڈرز کا دفعہ 144 توڑنے، احتجاج کا اعلان-ڈسکوز نجکاری کے نام پر کھربوں کے اثاثوں کا کھیل، بجلی کمپنیوں میں نوازشات، ریٹائر افسر مالا مال-ڈسکوز نجکاری کے نام پر کھربوں کے اثاثوں کا کھیل، بجلی کمپنیوں میں نوازشات، ریٹائر افسر مالا مال-وزیراعظم سے ملاقات میں پیٹرولیم لیوی کا مسئلہ حل نہ ہوا تو لانگ مارچ کریں گے، حافظ نعیم الرحمٰن-وزیراعظم سے ملاقات میں پیٹرولیم لیوی کا مسئلہ حل نہ ہوا تو لانگ مارچ کریں گے، حافظ نعیم الرحمٰن-وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی حکومت کو مذاکرات کی دعوت، کہا بات چیت سے کبھی انکار نہیں کیا-وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی حکومت کو مذاکرات کی دعوت، کہا بات چیت سے کبھی انکار نہیں کیا

تازہ ترین

ڈسکوز نجکاری کے نام پر کھربوں کے اثاثوں کا کھیل، بجلی کمپنیوں میں نوازشات، ریٹائر افسر مالا مال

ملتان (سٹاف رپورٹر) ملک بھر کی عوام کو بجلی کےٍ بلوں کی مد میں سالہا سال سے انتہائی دھڑلے اور ڈھٹائی سے لوٹنے میں جہاں اس ملک کے حکمران اور اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے بھائی با اثر اور با رسوخ طبقے کے لوگ شامل ہیں وہیں پر اسی ملی بھگت میں وفاقی وزارت برائے بجلی و پانی واپڈا اور برقی رو کی تقسیم کار کمپنیوں کے افسران بھی شامل ہیں اور چونکہ دن دہاڑے لوٹ مار کی اس مہم میں سب برابر برابر کے حصے دار ہیں لہٰذا اعلی اور بعض ریٹائرڈ سرکاری افسران اور حکومتی عہدیداران ایک دوسرے کے محافظ اور سہولت کار بنے ہوئے ہیں۔ دنیا بھر میں آج تک کوئی انجن ایسا ایجاد نہیں ہوا جو اپنی فل سپیڈ پر 100 فیصد چل سکے مگر پاکستان میں بعض ایسے نجی شعبے کے بجلی گھر یعنی آئی پی پیز بھی موجود رہے ہیں جو اپنی کپیسٹی سے 50 فیصد زائد بجلی پیدا کرتے رہے ہیں کیونکہ انہیں زائد بجلی پیدا کرنے کے پیسے ملتے رہے ہیں جو کہ ان کی کپیسٹی سے تقریبا 55 فیصد زائد تھے گویا اگر ان کی بجلی بنانے کی صلاحیت 50 میگا واٹ تھی تو انہیں 70 سے 80 میگا واٹ تک کی ادائیگیاں بھی ماضی میں ہوتی رہی ہیں اور اس تمام گورکھ دھندے میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے اعلی افسران بھی شامل رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض افسران حکومت کے اتنے منظور نظر ہیں کہ انہیں ریٹائر ہوئے 15 سال سے زائد عرصہ ہو چکا ہے مگر وہ اب بھی کسی نہ کسی طریقے سے تقسیم کر کمپنیوں سے مختلف مدات میں بھاری معاوضے لے رہے ہیں۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ انجینیئر عامر ضیا نامی ایک افیسر بیک وقت لاہور الیکٹرک پاور کمپنی اور ملتان الیکٹرک پاور کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹریز کے چیئرمین ہیں اور ایک ہی دن میں ان لائن دونوں کمپنیوں کے اجلاس میں شرکت کر کے 60 ہزار روپیہ فی اجلاس کے حساب سے پیسے وصول کرتے ہیں جبکہ انہیں دیگر فانینشل سہولیات جو کہ اس رقم سے کئی گنا زیادہ ہیں، وہ علیحدہ سے میسر ہیں۔ اسی طرح 15 سال قبل ریٹائر ہونے والے میپکو کے سابق چیف انجینئر طاہر بشارت چیمہ بھی ایک وقت میں مختلف تقسیم کار کمیٹیوں کی سب کمیٹیوں کے ممبر ہیں۔ موصوف بیک وقت لیسکو کے بھی ممبر ہیں اور فیسکو کے بھی ممبر ہیں اور میپکو کی مختلف کمیٹیوں کے ممبر بھی ہیں جن میں ایچ ار کمیٹی فائنانس کمیٹی اور دیگر کمیٹیاں شامل ہیں اور انہیں ہر کمیٹی کے اجلاس کی میں شرکت کے عوض، خواہ وہ خود شامل ہوں یا یہ ممبران آن لائن شامل ہوں، ان سب کو 60 ہزار روپیہ فی اجلاس شرکت کے عوض ملتا ہے اور بعض اوقات یہ ممبران ایک ایک دن میں چار چار اجلاس بھی بھگتا لیتے ہیں۔ انتہائی باوثوق اندرونی ذرائع نے بتایا کہ چونکہ ان کے پاس آئی پی پیز کے مالکان کی ایسی کمزوریاں ہیں جو منظر عام پر آ جائیں تو ان کے لیے سیاسی اور ادارہ جاتی طور پر نقصان ہو سکتا ہے اس لیے دو طرفہ تعاون کے تحت انہیں مختلف کمیٹیوں کے ذریعے معاوضہ جات کی رشوت دے کر چپ کا روزہ رکھوایا جا رہا ہے۔بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے بورڈ اف ڈائریکٹرز کا تقرر اور تعیناتی کا صرف ایک ہدف ہے کہ منافع بخش بجلی کمپنیوں ( ڈسکوز ) کی نجکاری کا عمل ان کی خواہشات اور منشا کے مطابق تیزی سے مکمل کرنا اور ان کمپنیوں کے کھربوں روپے کے اثاثے نجکاری کے نام پر اونے پونے سیٹھوں کے حوالے کرنا ہے۔ بجلی کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو آفیسرز کو دوران ملازمت یا ملازمت کے آخری چند ماہ میں استعفے دلوا کر پرائیویٹائزیشن کے اہداف سپرد کر دیے گئے اور ان کی ان “اعلیٰ ترین خدمات” کے عوض دوران ملازمت تین سے چار لاکھ روپے تنخواہ لینے والے سی ای اوز کو 25 سے 30 لاکھ روپے ماہانہ پیکیج ،فنانس ڈائریکٹر کو چیف فنانشل آفیسر بنا کر 20 لاکھ سے زائد کا پیکیج ،ایک سی این عہدے کے کمپنی سیکرٹری کو 16 لاکھ روپے ماہانہ کا پیکج اور اسی طرح چیف سپلائی منیجر کو 15 لاکھ روپے تک کا پیکج دیا جا رہا ہے جبکہ صارفین کی سہولت کے لیے بورڈ اف ڈائریکٹرز نے گزشتہ دو سال میں کوئی کام نہیں کیا ہے اور نوازے گئے ان چہیتے ریٹائرڈ بڑے افسروں پر نوازشات کی بارش کی جا رہی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں