بہاولپور ریلوے سیکشن میں میٹریل چوری معمول، مقدمات درج، کاروائی صفر

بہاولپور (ڈسٹرکٹ رپورٹر)بہاولپور ریلوے کے شکویل سیکشن میں ریلوے میٹریل اور سلیپرز کی مبینہ چوری کے متعدد واقعات کے حوالے سے ایف آئی آرز اور پولیس کو دی گئی تحریری درخواستوں کا ریکارڈ سامنے آنے کے باوجود کارروائی کی رفتار اور مقدمات کی پیروی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ دستیاب دستاویزات کے مطابق مختلف ریلوے ملازمین نے متعلقہ پولیس تھانوں کو واقعات کی تحریری اطلاع دی، بعض معاملات میں نامزد افراد کے خلاف درخواستیں بھی جمع کرائی گئیں اور ایک مقدمہ بھی درج ہوا، تاہم تاحال گرفتاری، برآمدگی اور مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانے کے حوالے سے مؤثر پیش رفت سامنے نہ آنے کا معاملہ متعلقہ حکام کی توجہ کا متقاضی ہے۔دستاویزات کے مطابق مقدمہ نمبر 85، بجرم دفعہ 379 تعزیراتِ پاکستان مورخہ 18 فروری 2026 کو اے ایس آئی طارق محمود کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ مقدمے کی ایف آئی آر کی نقل بھی دستیاب ہے جسے خبر کے ساتھ بطور دستاویز لف کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ گینگ مین حافظ عطا محمد ولد غلام فرید کی جانب سے 7 جون 2025 کو خیرپور ٹامیوالی کے پورے ریلوے سیکشن میں تقریباً 35 سلیپرز توڑے جانے کے واقعہ کی اطلاع دی گئی۔اسی طرح ریلوے ملازم محمد صدیق محمد الدین نے 6 جولائی 2024 کو کلومیٹر 54/55 سے ریلوے مٹیریل چوری ہونے کے حوالے سے متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او کو تحریری درخواست دی۔ مزید برآں گینگ مین غلام قادر ولد احمد یار، انڈر پی ڈبلیو آئی بغداد کی جانب سے 11 اگست 2025 کو کلومیٹر 71 کے قریب ریلوے مٹیریل کی مبینہ چوری کے معاملے پر نامزد ملزمان کے خلاف کارروائی کے لیے تحریری درخواست دی گئی۔دستاویزات کے مطابق طالب حسین ولد اللہ رکھا کی جانب سے بھی ریلوے مٹیریل چوری ہونے کے معاملے پر پولیس کو درخواست دی گئی، جبکہ غلام قادر ولد احمد یار کی جانب سے انیاتی سیکشن، شیخوین تا خیرپور ٹامیوالی کے علاقے میں نامزد اور نامعلوم افراد کے خلاف ریلوے مٹیریل کی مبینہ چوری کے حوالے سے تھانے میں درخواست جمع کرائی گئی۔دستیاب ریکارڈ کے مطابق پولیس کو متعدد واقعات کی اطلاع دی گئی، تاہم بعض درخواستوں پر مقدمہ درج ہونے، نامزد ملزمان کی گرفتاری، مالِ مسروقہ کی برآمدگی اور تفتیش کے حتمی نتائج سے متعلق واضح پیش رفت ریکارڈ پر سامنے نہیں آ سکی۔ اگر یہ صورتحال ریکارڈ سے درست ثابت ہوتی ہے تو معاملہ محض ریلوے مٹیریل کی چوری تک محدود نہیں رہتا بلکہ پولیس تفتیش، محکمانہ نگرانی اور ریلوے املاک کے تحفظ کے انتظامات بھی سوالات کی زد میں آتے ہیں۔قانونی طور پر کسی درخواست میں نامزد ہونا کسی شخص کو مجرم ثابت نہیں کرتا؛ جرم کا تعین تفتیش اور عدالت کے قانونی عمل کے ذریعے ہوتا ہے۔ تاہم جب ایک ہی ریلوے سیکشن میں متعدد مرتبہ مٹیریل چوری، سلیپرز کو نقصان پہنچانے اور ریلوے املاک غائب ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں تو متعلقہ اداروں کی جانب سے بروقت تفتیش، شواہد اکٹھے کرنے، برآمدگی اور آئندہ واقعات کی روک تھام کے اقدامات ناگزیر ہو جاتے ہیں۔ریلوے حدود سے متعلق واقعات میں متعلقہ پولیس کو موصولہ درخواست یا اطلاع پر قانون کے مطابق کارروائی کرنا ہوتی ہے۔ اگر جرم قابلِ دست اندازی ہو تو ایف آئی آر کے اندراج، جائے وقوعہ سے شواہد کے حصول، گواہوں کے بیانات، ملزمان کی قانونی حیثیت کے تعین اور مالِ مسروقہ کی برآمدگی کے لیے تفتیشی عمل آگے بڑھانا پولیس کی ذمہ داری کا حصہ ہے۔ایسے میں اگر متعدد تحریری درخواستوں اور درج مقدمات کے باوجود کسی کیس میں تفتیش آگے نہ بڑھے یا برآمدگی کے نتائج سامنے نہ آئیں تو متعلقہ پولیس افسران سے کیس ڈائری، تفتیشی پیش رفت، برآمدگی کی کوششوں اور درخواستوں پر کی گئی کارروائی کی وضاحت طلب کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔ریلوے مٹیریل کی چوری کے واقعات میں صرف پولیس ہی نہیں بلکہ متعلقہ ریلوے افسران اور فیلڈ اسٹاف کا کردار بھی اہم ہے۔ گینگ مین، پی ڈبلیو آئی اور دیگر متعلقہ اہلکاروں کی جانب سے کسی نقصان یا مٹیریل کی کمی کی اطلاع دینا ابتدائی ذمہ داری ہے، جبکہ متعلقہ افسران پر لازم ہے کہ وہ واقعہ کی محکمانہ رپورٹ تیار کرائیں، پولیس کارروائی کی پیروی کریں، ریلوے املاک کے تحفظ کے لیے اقدامات کریں اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے نگرانی مؤثر بنائیں۔اگر ریلوے ملازمین کی جانب سے بار بار تحریری درخواستیں دی جاتی رہیں اور اس کے باوجود مقدمات کی پیروی مؤثر انداز میں نہ ہو سکے تو متعلقہ ریلوے افسران کی جانب سے کی گئی محکمانہ کارروائی اور پولیس سے رابطے کا ریکارڈ بھی سامنے آنا چاہیے۔ریلوے املاک اور ریلوے حدود میں جرائم کی روک تھام کے حوالے سے پاکستان ریلوے پولیس کا کردار بھی اہم ہے۔ ایسے واقعات میں سول پولیس اور ریلوے پولیس کے درمیان دائرۂ اختیار کے مطابق بروقت رابطہ اور کارروائی ضروری ہے۔ اگر کسی واقعہ میں سول پولیس کو درخواست دی گئی یا ایف آئی آر درج ہوئی تو ریلوے پولیس اور متعلقہ ریلوے افسران کی جانب سے کیس کی پیروی اور ریلوے املاک کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات بھی ریکارڈ کا حصہ ہونے چاہئیں۔ریلوے ٹریک کے سلیپرز یا دیگر مٹیریل کو توڑنا یا چوری کرنا محض سرکاری املاک کے مالی نقصان کا معاملہ نہیں بلکہ ریلوے ٹریک کی حفاظت اور ٹرین آپریشن سے بھی براہِ راست متعلق ہے۔ اگر کسی سیکشن میں مسلسل ایسے واقعات رپورٹ ہوتے رہیں تو متعلقہ ریلوے انتظامیہ کو حساس مقامات کی نشاندہی، مانیٹرنگ، گشت، مٹیریل کی چیکنگ اور پولیس کے ساتھ رابطہ مزید مؤثر بنانا چاہیے۔دستیاب ایف آئی آرز اور درخواستوں کے تناظر میں اب اعلیٰ ریلوے حکام، ڈی ایس ریلوے ملتان ڈویژن، ریلوے پولیس کے متعلقہ افسران اور پنجاب پولیس کے اعلیٰ حکام سے یہ سوال اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ جن واقعات کی تحریری اطلاع موجود ہے، ان میں اب تک کیا قانونی کارروائی ہوئی؟ کتنے مقدمات درج ہوئے؟ کتنے افراد سے تفتیش ہوئی؟ کوئی مٹیریل برآمد ہوا یا نہیں؟ اور متعلقہ ریلوے افسران نے ان کیسز کی کتنی مرتبہ پیروی کی؟دستاویزات کی روشنی میں معاملے کی غیر جانب دارانہ انکوائری کرکے ہر درخواست اور ایف آئی آر کی موجودہ قانونی حیثیت واضح کی جائے تو نہ صرف اصل حقائق سامنے آ سکتے ہیں بلکہ ریلوے املاک کے تحفظ اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ذمہ داری بھی متعین کی جا سکتی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں