دنیاپور:تفتیشی افسرکی ’’خدمت‘‘،مدعیہ کے بیٹے سے ٹانگیں دبوانے کی ویڈیو وائرل

دنیاپور (کرائم رپورٹر)تھانہ صدر دنیاپور میں تقریباً سوا ماہ سے تعینات اے ایس آئی محمد اقبال کی ایک مبینہ ویڈیو سامنے آنے کے بعد پولیس کے تفتیشی نظام اور اہلکار کے طرزِ عمل پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔مبینہ ویڈیو میں اے ایس آئی محمد اقبال کو تھانے کے اندر اپنے ہی تفتیشی کمرے میں ایک مقدمے کی مدعیہ کے بیٹے شفقت سے ٹانگیں دبواتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ذرائع کے مطابق مذکورہ معاملہ مقدمہ نمبر 741/26 سے متعلق بتایا جا رہا ہے۔ ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اے ایس آئی محمد اقبال کی جانب سے مقدمے کی مدعیہ سے مبینہ طور پر ہزاروں روپے رشوت وصول کی گئی، تاہم رشوت وصولی کے الزام کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی اور اس حوالے سے اے ایس آئی محمد اقبال یا متعلقہ پولیس حکام کا مؤقف سامنے آنا باقی ہے۔مبینہ ویڈیو میں پولیس اہلکار کو تفتیشی کمرے میں بیٹھے جبکہ مدعیہ کے بیٹے شفقت کو ان کی ٹانگیں دباتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ واقعے نے یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ زیرِ تفتیش مقدمے کے فریق کے اہل خانہ سے اس نوعیت کی ذاتی خدمت کیوں لی جا رہی تھی اور کیا ایسا طرزِ عمل محکمانہ ضابطہ اخلاق اور پولیس کے پیشہ ورانہ تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے؟ذرائع کے مطابق اے ایس آئی محمد اقبال گزشتہ تقریباً سوا ماہ سے تھانہ صدر دنیاپور میں تعینات ہیں اور مقدمہ نمبر 741/26 کی تفتیش سے بھی ان کا تعلق بتایا جا رہا ہے۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کو محض ایک ویڈیو کا واقعہ سمجھنے کے بجائے اس کے تمام پہلوؤں کی باضابطہ انکوائری کی جائے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ تھانے میں تفتیشی افسر کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے اور کسی بھی مقدمے میں فریقین کے ساتھ غیر جانب داری، قانون کے مطابق رویہ اور شفاف تفتیش بنیادی تقاضے ہیں۔ اگر رشوت یا اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو ذمہ دار اہلکار کے خلاف محکمانہ و قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔عوامی حلقوں نے ڈی پی او لودھراں اور دیگر اعلیٰ پولیس حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ مبینہ ویڈیو، مقدمہ نمبر 741/26 کے تفتیشی ریکارڈ اور رشوت کے الزام کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ اصل حقائق سامنے آسکیں اور ذمہ داری کا تعین کیا جا سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں