ملتان(خصوصی رپورٹر) بہاء الدین زکریا یونیورسٹی میں طلبہ تنظیموں کا تصادم، فائرنگ ، طالب علم شدید زخمی، تین گرفتار تفصیل کے مطابق زکریا یونیورسٹی ایک بار پھر طلبہ تنظیموں کے درمیان تصادم کے دوران فائرنگ سے گونج اٹھی، گزشتہ روز دو طلبہ تنظیموں سے وابستہ طلبہ کے درمیان ہونے والے جھگڑے میں تین سے زائد طلبہ کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، جبکہ فائرنگ کے واقعے کے بعد یونیورسٹی سکیورٹی اور پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے3 طلبہ کو حراست میں لے لیا۔ واقعے کے بعد یونیورسٹی کے داخلی و خارجی راستوں پر سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی۔ذرائع کے مطابق گزشتہ روز دوپہر کے وقت ایم ایس ایف سے وابستہ طلبہ مبینہ طور پر وقاص حیدر کی قیادت میں انڈر گریجویٹ ڈیپارٹمنٹ پہنچے، جہاں نعرے بازی کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی بعض طلبہ ڈنڈے اور سوٹے اٹھائے ہوئے تھے اور بعد ازاں سٹوڈنٹ سنٹر کی جانب گئے، جہاں مبینہ طور پر مہدی نامی طالب علم کے ساتھ تلخ کلامی کے بعد کرسیوں اور ڈنڈوں کا استعمال کیا گیا مذکورہ طلبہ بعد ازاں جعفر کینٹین کی طرف گئے اور وہاں سے ایگری گیٹ کی جانب روانہ ہوگئے اس دوران ان کے پاس مبینہ طور پر ڈنڈے اور سوٹے موجود تھے، جس پر یونیورسٹی کے سکیورٹی عملے نے صورتحال پر نظر رکھتے ہوئے متعلقہ پولیس کو اطلاع کردی تین بجے شعبہ آئی آر کے سامنے پی ایس ایف سے وابستہ احمد منگانہ، شعبہ اکنامکس اور ایگریکلچر کے بعض طلبہ، جن میں علی عباس، حنان نانڈلہ اور ذیشان نانڈلہ شامل تھے، مبینہ طور پر ایک آؤٹ سائیڈر کے ہمراہ نعرے بازی کرتے ہوئے آئی ایم ایس چوک کی جانب بڑھ رہے تھے۔اسی دوران ایم ایس ایف سے وابستہ ثناء اللہ گورمانی اور ایگریکلچر کے طلبہ محمد جواد اور محمد سرمد وہاں موجود تھے۔ ذرائع کے مطابق پی ایس ایف سے وابستہ طلبہ اور ان کے ساتھیوں نے ان پر مبینہ طور پر تشدد شروع کردیا، جس کے نتیجے میں محمد جواد شدید زخمی ہوگئے جبکہ دیگر طلبہ کے بھی زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں واقعے کی اطلاع ملتے ہی یونیورسٹی کا سکیورٹی عملہ موقع پر پہنچ گیا اور زخمی طلبہ کو مبینہ حملہ آوروں سے چھڑایا اسی دوران احمد منگانہ نے سکیورٹی اہلکاروں کو دیکھ کر مبینہ طور پر پستول نکال لیا اور ہوائی فائرنگ کی، جس کے بعد وہ موقع سے فرار ہوگئے فائرنگ کی آواز سے یونیورسٹی میں خوف و ہراس پھیل گیا۔صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے یونیورسٹی سکیورٹی نے فوری طور پر مین گیٹ بند کرا دیا تاکہ مبینہ طور پر ملوث طلبہ یونیورسٹی سے باہر نہ نکل سکیں اطلاع ملنے پر مقامی پولیس بھی موقع پر پہنچ گئی اور سکیورٹی عملے کے ساتھ مل کر کارروائی کرتے ہوئے متعدد طلبہ کو حراست میں لے لیا۔ذرائع کے مطابق حراست میں لیے جانے والوں میں شہراز احمد ولد نصرت اور سمریز سمیت تین طلبہ شامل ہیں، تاہم پولیس کی جانب سے گرفتار افراد اور واقعے میں ملوث دیگر افراد کے حوالے سے باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔یونیورسٹی سکیورٹی عملے نے زخمی طلبہ کو فوری طور پر یونیورسٹی کے میڈیکل یونٹ منتقل کیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی گئی۔ واقعہ کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے صورتحال کا جائزہ لیا گیا جبکہ مبینہ طور پر ملوث طلبہ کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے پولیس کو رپورٹ بھی ارسال کردی گئی۔ اس حوالے سے آر او بی زیڈ یو ڈاکٹر مقرب اکبر نے بتایا کہ واقعہ میں کوئی سٹوڈنٹ زخمی نہیں ہوا تاہم انہوں نے پولیس بلوا کر تین طلباء پولیس تھانہ ڈی ایچ اے کے حوالے کردیا ۔







