غیر ملکی ایجنسیوں اور دہشتگردوں کو سمیں فراہم، کرائم ایجنسی نے صادق آباد سے نیٹ ورک پکڑ لیا

ملتان (خصوصی رپورٹر) صادق آباد میں سائبر کرائم ایجنسی کی بڑی کارروائی، غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں اور دہشت گرد نیٹ ورکس کو غیر قانونی موبائل سمیں فراہم کرنے والا گروہ پکڑا گیا،کورئیر کمپنی کے ذریعہ سمز کی سپلائی کا انکشاف ہواہے۔دومرکزی ملزمان کوگرفتارکرلیاگیا۔تفصیل کے مطابق نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی نشاندہی پر ایک ایسے خطرناک نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کی ہے جو جعلی بائیو میٹرک کے ذریعے غیر قانونی سمیں فعال کر کے ملکی سلامتی کے خلاف کام کرنے والے عناصر کو فراہم کر رہا تھا۔ پی ٹی اے کے زونل ڈائریکٹر عابد مجید لاہور کینٹ کی شکایت پر تھانہ این سی سی آئی اے ملتان نے مقدمہ نمبر 193/26 درج کر کے 2 مرکزی ملزمان کو موقع سے گرفتار کر لیا ہے جبکہ دیگر سہولت کاروں کی تلاش جاری ہے۔این سی سی آئی اے ملتان کے ایس ایچ او سب انسپکٹر طاہر محمود اور ان کی ٹیم جس میں کاشف محمود اور محمد زاہد شامل تھے نے ضلع رحیم یار خان کے علاقے صادق آباد میں چنگی والا چوک کے قریب چھاپہ مار کر دو مرکزی ملزمان کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا۔گرفتار ملزمان میں امتیاز الحسن ولد اقبال احمد ساکن اللہ بخش کالونی، سنجر پور، صادق آباد، ضلع رحیم یار خان، شکیل احمد ولد محمد رفیق ساکن علی ٹاور، گلی نمبر 7، صادق آباد، ضلع رحیم یار خان شامل ہیں۔ملزمان کی تلاشی کے دوران جعلی بائیو میٹرک کے لیے استعمال ہونے والے نقلی سلیکون انگوٹھوں کے نشانات اور تین موبائل فونزویوو اور دو انفینکس قبضے میں لیے گئے۔ تلاشی کے دوران موبائل فونز سے غیر قانونی سموں کی خریدوفروخت، جعلی بینک اکاؤنٹس کی رسیدیں، چیٹس اور وائس میسجز بھی برآمد ہوئے ہیں۔تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ ملزمان مختلف موبائل فرنچائزز میں بطور سپروائزر کام کرتے تھے اور بائیو میٹرک تصدیق اور صارفین کی اجازت کے بغیر سمیں فعال کرتے تھے۔ بعد ازاں یہ سمیں پاکستان دشمن ایجنسیوں کے ایجنٹوں، کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی اور دیگر مجرمانہ گروہوں کو فراہم کی جاتی تھیں۔ ان ہی غیر قانونی سموں کا استعمال حساس معلومات بیرونِ ملک منتقل کرنے، الیکٹرانک جعل سازی، نیز جاز کیش اور ایزی پیسہ کے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے مالیاتی جرائم کے لیے کیا جا رہا تھا۔ اس کے علاوہ کال ڈیٹا اور لوگوں کی معلومات بھی پیسوں کے عوض فراہم کی جاتی ہیں۔ کورئیر کمپنی کے ملازمین سمز کی سپلائی میں ملوث پائے گئے جس میں شکیل احمد ایک پرائیوبٹ کورئیر کمپنی کا ملازم ہے جوکہ کارپوریٹ ڈاک میں غیر قانونی سموں کی ترسیل کیا کرتا رہا ہے۔اس شبہ اور ثبوتوں کی روشنی میں پیکا (PECA) 2016 (ترمیم شدہ 2025) کی دفعات 9, 10, 12, 13, 14, 16, 17 اور تعزیراتِ پاکستان (PPC) کی دفعات 419, 420, 468, 471 اور 109 کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں لاہور سے تعلق رکھنے والے ملزم محمد ریاض ولد نور حسین ساکن حویلی کمہاراں والی، بستی خواجہ، کاہنہ نو، لاہور اور دیگر سہولت کاروں اکبر شاہ، جیہل اور خان لالا کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ این سی سی آئی اے کی جانب سے نیٹ ورک کے دیگر مفرور اراکین کی گرفتاری کے لیے مزید تفتیش جاری ہے۔این سی سی آئی اےکی ایف آئی آرکے مطابق
فرسٹ انفارمیشن رپورٹ
زیر دفعہ 154 ضابطہ فوجداری
تھانہ: PS NCCIA
سرکل / سب سرکل: CIRCLE ملتان
نمبر: 193/26
تاریخ و وقت وقوعہ: سال 2026

  1. تاریخ و وقت جب رپورٹ درج ہوئی 18-09-2026 بوقت 08:30 PM
  2. اطلاع دہندہ و مدعی کا نام و سکونت: اسٹیٹ بذریعہ زونل ڈائریکٹر، PTA – 165 عابد مجید روڈ لاہور کینٹ
  3. جرم کی مختصر تفصیل (دفعہ سمیت) اور اگر کوئی مال لے جایا گیا ہو: زیر دفعہ 9,10,12,13,14,16,17 پیکا ایکٹ 2016 ترمیم شدہ 2025 بمعہ دفعہ 419, 420, 468, 471 اور 109 ت پ
  4. جائے وقوعہ، تھانے سے فاصلہ اور سمت: ضلع رحیم یار خان
  5. تفتیش کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات، اطلاع درج کرنے میں تاخیر کی وضاحت: طاہر محمود SI/SHO NCCIA ملتان
  6. تھانے سے روانگی کی تاریخ و وقت: 18-09-2026 بوقت 09:00 PM
    تفصیلی متن (استغاثہ):
    بمطابق انکوائری نمبر 2066/2026 مورخہ 18-09-2026 جو کہ زونل ڈائریکٹر PTA کی جانب سے مراسلہ نمبر PTA/Enf/Lhr/Case-134/2026 مورخہ 18 ستمبر 2026 اور نمبر DIR/OPERATIONS/NCCIA/2026/1135 مورخہ 18-09-2026 پر موصول ہونے والی شکایت پر درج کی گئی، قابل اعتماد ذرائع سے مصدقہ اطلاع ملی ہے کہ
    (1) امتیاز الحسن ولد اقبال احمد سکنہ اللہ بخش کالونی سانگر پور صادق آباد ضلع رحیم یار خان
    (2) شکیل احمد ولد محمد رفیق سکنہ علی ٹاور سٹریٹ نمبر 7 صادق آباد ضلع رحیم یار خان
    (3) محمد ریاض ولد نور حسین سکنہ حویلی کمہاراں والا بستی خواجہ وارڈ نمبر 1 کاہنہ ناؤ لاہور
    مذکورہ ملزمان نے اکبر شاہ، جویال، خان لالہ اور نیٹ ورک کے دیگر اراکین کے ساتھ ملی بھگت اور ساز باز کر کے PTA کے وضع کردہ SOPs اور ریگولیٹری فریم ورک کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر سموں کی ایکٹیویشن اور اجراء میں ملوث ہیں۔اطلاع ہے کہ مذکورہ افراد مختلف سیلولر فرنچائزز پر بطور سپروائزر کام کرتے تھے، جہاں انہوں نے مبینہ طور پر بغیر قانونی بائیومیٹرک تصدیق اور اصل صارفین کی رضامندی کے بغیر غیر مجاز سم ایکٹیویشن کی سہولت فراہم کی۔ مزید برآں انہوں نے غیر قانونی طور پر ایکٹیویٹڈ سموں کی فروخت اور تجارت میں ملوث ہو کر ایسی پہلے سے ایکٹیو سمز الیکٹرانک جعلسازی، فراڈ پر مبنی برانچ لیس بینکنگ اکاؤنٹ بنانے، جاز کیش اور ایزی پیسہ اکاؤنٹس کی غیر قانونی ایکٹیویشن / رجسٹریشن اور مالیاتی جرائم اور دہشت گرد نیٹ ورکس کی سہولت کاری کے لیے فراہم کیں۔یہ ایکٹیویٹڈ سم کارڈز مبینہ طور پر دشمن انٹیلی جنس ایجنسی (بھارتی را کے ایجنٹس)، ٹی ٹی پی، لیاری کنگ اور دیگر وابستہ عناصر کے طور پر شناخت شدہ افراد یا گروہوں کو فراہم کیے گئے، جن کا مقصد مبینہ طور پر دہشت گردی، غیر قانونی سرگرمیوں اور حساس معلومات کو پاکستان سے باہر موجود افراد یا اداروں تک پہنچانا تھا۔ اگر یہ سرگرمیاں ثابت ہو جائیں تو ان کے قومی سلامتی اور عوامی تحفظ پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔موجودہ انکوائری کی کارروائی کے دوران متعلقہ ریکارڈ حاصل کیا گیا جس سے زونل ڈائریکٹر PTA کی شکایت میں بیان کردہ حقائق کی تصدیق ہوتی ہے۔
    متنِ استغاثہ / کارروائی کی تفصیل:
    مجاز اتھارٹی کے احکامات کی تعمیل میں زیر دستخطی SI/SHO، کاشف محمود FC اور محمد زاہد FC پر مشتمل ایک ریڈنگ پارٹی تشکیل دی گئی۔ نشاندہی اور پوائنٹ آؤٹ پر چیری والا چوک صادق آباد کے قریب چھاپہ مارا گیا اور 02 افراد کو گرفتار کیا گیا، ریڈنگ ٹیم کا تعارف کرانے کے بعد افراد نے اپنے نام
    (1) امتیاز الحسن ولد اقبال احمد سکنہ اللہ بخش کالونی سانگر پور، صادق آباد ضلع رحیم یار خان
    (2) شکیل احمد ولد محمد رفیق سکنہ علی ٹاور سٹریٹ نمبر 7 صادق آباد ضلع رحیم یار خان بتائے۔ چیک کرنے پر دو موبائل فونز (1) موبائل فون Vivo Ys ماڈل V2038 (2) موبائل Infinix Hot 11 Play ماڈل X688B ملزم امتیاز الحسن سے اور ایک موبائل فون Infinix Hot 12 Play ماڈل X6816C ملزم شکیل احمد سے برآمد ہوا۔موبائل فونز کے ابتدائی تجزیے پر جعلی سلیکون انگوٹھوں کے نشانات، مختلف بینک اور ڈیجیٹل اکاؤنٹس، ٹرانزیکشن کی رسیدیں، جعلی اور غیر قانونی سموں کی خرید و فروخت کے بارے میں چیٹ اور وائس میسجز، قومی اور بین الاقوامی بینک اکاؤنٹ ٹرانزیکشن کی رسیدیں اور کوریئر کی رسیدیں پائی گئیں، موبائل فونز کو قبضہ میمو کے ذریعے قبضے میں لے لیا گیا۔دوران تفتیش ملزمان نے انکشاف کیا کہ وہ غیر قانونی طور پر سموں کی ایکٹیویشن، الیکٹرانک جعلسازی کے لیے ایسی پری ایکٹیویٹڈ سموں کی فراہمی، فراڈ پر مبنی برانچ لیس بینکنگ اکاؤنٹ بنانے، جاز کیش اور ایزی پیسہ اکاؤنٹس کی غیر قانونی ایکٹیویشن / رجسٹریشن اور مالیاتی جرائم اور دہشت گرد نیٹ ورکس کی سہولت کاری میں ملوث ہیں۔انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ ملزمان محمد ریاض ولد نور حسین سکنہ حویلی کمہاراں والا بستی خواجہ وارڈ نمبر 1 کاہنہ ناؤ لاہور، اکبر شاہ، جویال، خان لالہ اور دیگر اراکین بھی ان کے ساتھ ملوث ہیں۔ انکوائری کے دوران بظاہر ان کی مندرجہ بالا نیٹ ورک میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوتا ہے۔لہٰذا ملزمان نے بادی النظر میں زیر دفعہ 9,10,12,13,14,16,17 پیکا ایکٹ 2016 ترمیم شدہ 2025 بمعہ دفعہ 419, 420, 468, 471 اور 109 ت پ کے تحت قابل سزا جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔مذکورہ حقائق و حالات کے پیش نظر یہ استغاثہ کاشف محمود FC کی جانب سے
    (1) امتیاز الحسن ولد اقبال احمد سکنہ اللہ بخش کالونی سانگر پور صادق آباد ضلع رحیم یار خان
    (2) شکیل احمد ولد محمد رفیق سکنہ علی ٹاور سٹریٹ نمبر 7 صادق آباد ضلع رحیم یار خان
    (3) محمد ریاض ولد نور حسین سکنہ حویلی کمہاراں والا بستی خواجہ وارڈ نمبر 1 کاہنہ نولاہور
    (4) اکبر شاہ
    (5) جویال
    (6) خان لالہ کے خلاف مقدمہ / FIR کے اندراج کے لیے تیار کر کے پیش کیا جاتا ہے۔ مذکورہ جرائم میں ملوث یا منسلک پائے جانے والے کسی بھی دیگر افراد کا کردار تفتیش کے دوران قانون کے مطابق متعین کیا جائے گا۔ لہٰذا استدعا ہے کہ متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جائے اور FIR نمبر سے آگاہ کیا جائے۔
    دستخط: عاطف جان SI – NCCIA ملتان

شیئر کریں

:مزید خبریں