ملتان (سپیشل رپورٹر) وزیراعلیٰ پنجاب کے عوام کو صاف اور محفوظ پانی کی فراہمی کے ویژن کے تحت بھاری سرکاری وسائل سے قائم کیے گئے واٹر فلٹریشن پلانٹس لودھراں میں انتظامی بے حسی اور مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے سوالات کی زد میں آ گئے۔ پلانٹس پر کام کرنے والے آپریٹرز گزشتہ 15 ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں مگر دلچسپ امر یہ ہے کہ متاثرہ آپریٹرز کے مطابق متعلقہ ٹھیکیدار کو فی آپریٹر تقریباً 40 ہزار روپے ماہانہ کی ادائیگی سرکاری سطح پر کی جا رہی ہے جبکہ آپریٹرز کو صرف 17 ہزار روپے ماہانہ پر کام کرنے کے لیے رکھا گیا اور اب وہ رقم بھی پندرہ ماہ سے ادا نہیں کی گئی۔ذرائع اور متاثرہ آپریٹرز کے مطابق لودھراں میں 34 آپریٹرز کے حوالے سے فی کس 40 ہزار روپے ماہانہ کی ادائیگی کا معاملہ بھی سوالات اٹھا رہا ہے۔ اگر سرکاری خزانے سے فی آپریٹر مقررہ رقم ٹھیکیدار کو ادا کی جا رہی ہے تو پھر زمینی سطح پر کام کرنے والے غریب آپریٹرز کو ان کا طے شدہ معاوضہ کیوں نہیں مل رہا؟ یہ معاملہ محض تنخواہ کا نہیں بلکہ سرکاری فنڈز کے استعمال، کنٹریکٹ کی شرائط اور ادائیگیوں کے نظام کی شفافیت کا بھی ہے، جس کی مکمل انکوائری ناگزیر دکھائی دیتی ہے۔15 ماہ سے چابیاں بھی پاس، تنخواہ بھی غائب ہے۔متاثرہ آپریٹرز نے روزنامہ قوم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر محکمہ اور ٹھیکیدار کے نزدیک وہ ملازم نہیں ہیں تو پھر ان سے پلانٹس کی چابیاں واپس لی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پندرہ ماہ تک پلانٹس کی چوکیداری، نگرانی اور عوام کو پانی کی فراہمی کی ذمہ داری ہم نے نبھائی، لیکن بدلے میں تنخواہ تک نہیں ملی۔آپریٹرز کا کہنا ہے کہ جب وہ تنخواہ نہ ملنے پر کام چھوڑنے یا پلانٹ نہ کھولنے کی بات کرتے ہیں تو انہیں یہ کہہ کر دباؤ میں رکھا جاتا ہے کہ اگر پلانٹ سے کوئی چیز گم یا چوری ہوئی تو اس کے ذمہ دار وہ ہوں گے۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ جب تنخواہ نہیں تو پھر ذمہ داری کس بنیاد پرٹھیکیدار اور پبلک ہیلتھ ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالنے لگے۔معاملے پر موجودہ ٹھیکیدار میٹرون کے مؤقف کے مطابق پچھلی تنخواہوں کی ادائیگی پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ نے کرنی ہےجبکہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے متعلقہ افسران کا کہنا ہے کہ تقریباً ڈیڑھ سال سے ٹھیکہ میٹرون کے پاس ہے، لہٰذا گزشتہ پندرہ ماہ کی تنخواہوں کی ذمہ داری بھی موجودہ ٹھیکیدار کی بنتی ہے۔یوں غریب آپریٹرز میٹرون اور پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے درمیان ذمہ داری کی اس کشمکش میں پِس رہے ہیں جبکہ پندرہ ماہ سے ان کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑنے کا سوال کسی کے ایجنڈے میں دکھائی نہیں دیتا۔صاف پانی اتھارٹی سے جواب طلب، ڈائریکٹر طلحہ نے مؤقف دینے سے گریز کیا۔روزنامہ قوم کی جانب سے معاملے پر صاف پانی اتھارٹی کے متعلقہ افسران سے مؤقف لینے کی کوشش کی گئی۔ ڈائریکٹر طلحہ سے رابطہ کیا گیا تاہم انہوں نے فون کال وصول نہیں کی اور معاملے پر اپنا مؤقف دینے سے بھی گریز کیا۔







