ڈاکٹر احسن کیس: ماموں جج محمود غنی کا وکیل بیٹا سماعت میں موجود، ویڈیوز اذیت ناک: عدالت

ملتان( کورٹ رپورٹر )مقامی ماہر امراض جلد ڈاکٹر احسن اظہر منیر کی متعدد عورتوں کو بلیک میل کرکے ہوس کا نشانہ بنانے اور اس کی اہلیہ کی طرف سے شرمناک الزامات عائد کرنے کے حوالے سے زیر سماعت ضمانت کی درخواست پر ایڈیشنل سیشن جج رانا عبدالحکیم نے کہا کہ میرے عملے نے مجھے اس ملزم کی چند ویڈیوز دکھائی ہیں جو کہ انتہائی اذیت ناک ہیں اور ایسے شخص کے لیے بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ہو گا۔ عدالت میں ملزم کے سگے ماموں ایڈیشنل سیشن جج لیاقت پور محمود غنی کا وکیل بیٹا حسن محمود بھی موجود تھے جنہوں نے فیس بک پر مدعیہ کے وکیل ضیاء الرحمان رندھاوا پر شرمناک تاثرات کا اظہار کیا تھا۔ وہ پیش تو نہیں ہوئے مگر عدالت کی کارروائی سنتے رہے جبکہ اس کیس کی سماعت کے دوران عدالت میں کم از کم 70 وکلاء موجود تھے اور کیس کی کارروائی سن رہے تھے۔ ملزم کی ضمانت کے لیے بار کے صدر عمر حیات نے عدالت کے روبرو دلائل دیئے اور کہا کہ ابھی تک کوئی جرم ثابت نہیں ہوا لہٰذا ملزم کو ضمانت پر رہا کیا جائے جس پر متعلقہ ایڈیشنل سیشن جج رانا عبد الحکیم نے کہا کہ اس نے درجنوں بچیوں کے گھر برباد کئے ہیں اور فرانزک رپورٹ آنے کے بعد نہ جانے کتنے گھرانے اس کے ہاتھوں تباہ ہوں گے اور بدنامی کی نہ مٹنے والی دلدل میں چلے جائیں گے۔ فاضل جج نے کہا کہ یہ معاملہ ملک بھر کے میڈیا میں پھیل چکا ہے اور اس کی ویڈیوز بھی گردش کر رہی ہیں۔ وکیل صفائی نے کہا کہ قصور ملزم کا ہے مگر سزا اس کے والد کو بھی مل رہی ہے جس پر عدالت نے کہا کہ والد کا فرض ہے کہ اپنی اولاد کی اچھی تربیت کرے اور اگر والد اس کو کنٹرول کرتا اور ملزم پر نظر رکھتا تو شاید انہیں یہ سب دیکھنا نہ پڑتا۔ ملزم کی طرف سے ملتان کے بہترین وکیل پیش ہوئے جبکہ مدعیہ کی طرف سے ضیاء الرحمان رندھاوا نے عدالت کے روبرو ایک درخواست پیش کی جو کہ ملزم ڈاکٹر احسن اظہر منیر کی طرف سے متعلقہ تھانے کو دی گئی تھی اور اس میں کہا گیا تھا کہ میں 10 جنوری 2025کو اپنی اہلیہ فاطمہ کو طلاق دے چکا ہوں دوسری طرف عدالت میں جو ریکارڈ پیش کیا گیا اس کے مطابق ڈاکٹر اظہر منیر نے جو کہ ملزم کا والد ہے اور ملزم اور اس کا والد ایک ہی گھر میں اوپر نیچے والے پورشن میں رہتے ہیں۔ نیچے والے پورشن میں ڈاکٹر اظہر منیر رہتے ہیں اور اوپر والے پورشن میں ان کے بیٹے ڈاکٹر احسن اظہر منیر قیام پذیر ہیں۔ وکیل استغاثہ نے عدالت میں رپورٹ پیش کی جس میں بتایا گیا کہ ملزم کے والد ڈاکٹر اظہر منیر نے 15 پر کال کی کہ اس کے گھر کے اوپر والے پورشن میں اس کی بہو رہتی ہے اور یہ کال 18 اگست 2026 کو کی گئی اور ڈاکٹر اظہر منیر نے 15 کو بتایا کہ مجھے شک ہے کہ میری بہو اوپر والے پورشن میں میرے گھر کا کوئی نہ کوئی نقصان کرے گی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈاکٹر اظہر منیر 18 اگست 2026 تک فاطمہ کو اپنی بہو تسلیم کرتے ہیں مگر 19 اگست 2026 کو ملزم ڈاکٹر احسن اظہر منیر مقامی تھانے میں ایک درخواست دیتا ہے جس میں بتاتا ہے کہ وہ اپنی اہلیہ فاطمہ خان کو یکم جنوری 2025 سے تین مرتبہ زبانی طلاق دے چکا ہے اور اس نے میری اے آئی کے ذریعے بعض تصاویر بنائی ہیں اس لیے میں پیشگی تھانے اطلاع کر رہا ہوں۔ پولیس نے مذکورہ درخواست کو داخل دفتر کر دیا۔ وکیل استغاثہ نے عدالت کو تمام تر ریکارڈ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اگر ملزم 10 جنوری 2025 کو اپنی اہلیہ کو طلاق دے چکا تھا تو پھر 19 اگست 2026 تک اپنی اہلیہ کے ساتھ ناجائز تعلق کا مرتکب ہوا جو کہ علیحدہ سے سنگین نوعیت کا جرم بنتا ہے اور اس پر بھی ایف آئی آر ہونی چاہیے۔ وکیل استغاثہ نے کہا کہ فرانزک رپورٹ آنے سے قبل کسی بھی طور پر ملزم کی ضمانت نہ لی جائے ملزم ایک درندہ اور بھیڑیا ہے، کوئی امام مسجد نہیں کہ رعایت کا مستحق ٹھہرایا جائے۔ ڈاکٹر اظہر منیر کی 15 پر کال یہ ثابت کرتی ہے کہ ڈاکٹر اظہر منیر اپنے بیٹے کے ہر جرم پر نہ صرف پردہ ڈالتا تھا بلکہ اس کی معاونت کرتا تھا۔ وکیل استغاثہ کی طرف سے ایک اور درخواست دائر کی گئی تھی کہ ملزم کا ریمانڈ ختم کر کے اسے پولیس کے حوالے کیا جائے کیونکہ بہت سی برآمدگیاں ابھی باقی ہیں۔ وکیل استغاثہ ضیاء الرحمان رندھاوا کی طرف سے سیشن جج کو درخواست دی گئی کہ ایک ہی مقدمے کے سلسلے میں ان کی دو درخواستیں دو مختلف ایڈیشنل سیشن ججز کی عدالتوں میں سماعت ہیں انہیں اکٹھا کیا جائے اور کسی بھی ایک جج کے پاس سماعت کے مقرر کیا جائے جس پر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملتان نے فوری طور پر دونوں ایڈیشنل سیشن ججز سے مقدمات کی فائلیں اپنے دفتر منگوا لیں اور اس طرح ملزم کی ضمانت پر فیصلہ التوا میں چلا گیا۔ وکیل استغاثہ نے فاضل جج کو بتایا کہ ملزم نے اپنی اہلیہ فاطمہ کو 19 اگست 2026 کو گھر سے نکالا اور اسی دن کی تاریخ میں اسٹام نکلوا کر طلاق پیپر تیار کیے گئے جبکہ پولیس میں جو درخواست دائر کی گئی اس میں بتایا گیا کہ میں نے 10 جنوری 2025 کو اپنی اہلیہ کو طلاق دے دی ہے اس طرح ملزم کا فریب اور جھوٹ عدالت کے سامنے آ گیا۔ مقدمے کی اگلی پیشی سوموار 21 ستمبر کو ہو گی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں