پیٹرولیم لیوی ہر صورت ختم کرنی پڑے گی، کل سے لانگ مارچ شروع کر رہے ہیں، حافظ نعیم الرحمان

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پیٹرولیم لیوی کسی صورت برقرار نہیں رہنی چاہیے، حکومت نے دوبارہ رابطہ کیا ہے تاہم مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو 20 ستمبر سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع کیا جائے گا۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے پیٹرولیم لیوی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس کی وصولی کا کوئی جواز نہیں، جبکہ ان کے بقول ایف بی آر ٹیکس اہداف پورے کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وفاقی حکومت کے اخراجات ایک ٹریلین روپے سے تجاوز کرچکے ہیں اور حکومتی اخراجات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، جبکہ عوام سے مزید قربانی مانگی جاتی ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پیٹرول پر لیوی کے علاوہ بھی مختلف ٹیکسز عائد ہیں اور حکومت اپنے اخراجات کم کرنے کے بجائے عوام پر مالی بوجھ ڈال رہی ہے۔ ان کے مطابق مذاکرات کے دوران جماعت اسلامی نے حکومت کو مختلف تجاویز دیں، تاہم ان پر عمل درآمد نہیں کیا گیا اور آئی ایم ایف کو جواز بنا کر عوام کو مطلوبہ ریلیف فراہم نہیں کیا جا رہا۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی تحریک اب عوامی مسائل کے گرد آگے بڑھ رہی ہے اور ان کا مطالبہ ہے کہ عوام کو خیرات یا عارضی ریلیف کے بجائے ان کا حق دیا جائے۔ ان کے مطابق اگر حکومت پیٹرولیم لیوی ختم کرنے پر آمادہ ہوتی ہے تو مذاکرات آگے بڑھ سکتے ہیں، بصورت دیگر لانگ مارچ جاری رہے گا۔
امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ حکومت بار بار مزید وقت مانگ رہی ہے، جبکہ جماعت اسلامی پہلے ہی مذاکرات میں اپنی تجاویز پیش کرچکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اگر سنجیدہ پروپوزل کے ساتھ آتی ہے تو بات چیت کی جا سکتی ہے، تاہم لیوی ختم نہ ہونے کی صورت میں اسلام آباد مارچ کا فیصلہ برقرار رہے گا۔
حافظ نعیم الرحمان نے ملک میں آٹے اور چینی کی قیمتوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ شوگر ملز اور درآمد و برآمد سے متعلق پالیسیوں پر بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے سے عام شہری مشکلات کا شکار ہیں۔
جماعت اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ 20 ستمبر سے ملک کے مختلف علاقوں سے قافلے اسلام آباد کی طرف روانہ ہوں گے، جبکہ کراچی سے ٹرین مارچ بھی اس احتجاج کا حصہ ہوگا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں